تحریر: محمد نذیر
پاکستان میں گزشتہ چند برسوں سے ڈیجیٹل ترقی، جدید مواصلاتی نظام اور تیز رفتار رابطوں کے حوالے سے بڑے بڑے دعوے کیے جا رہے ہیں۔ حکومتی ایوانوں سے لے کر سرکاری تقریبات تک ہر جگہ یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ ملک جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو رہا ہے، نئی نسل کے لیے مواقع پیدا کیے جا رہے ہیں اور مواصلاتی شعبے میں ایک نئے انقلاب کی بنیاد رکھی جا رہی ہے۔ لیکن جب ان دعوؤں کا موازنہ زمینی حقائق سے کیا جائے تو ایک مختلف تصویر سامنے آتی ہے؛ ایسی تصویر جس میں صارفین کی مشکلات بڑھ رہی ہیں، خدمات کا معیار گرتا جا رہا ہے اور عوامی شکایات سننے والا کوئی دکھائی نہیں دیتا۔
پاکستان کی مواصلاتی کمپنیاں ہر سال کھربوں روپے کے کاروبار سے وابستہ شعبے کا حصہ ہیں۔ کروڑوں صارفین روزانہ ان خدمات پر انحصار کرتے ہیں۔ کال، پیغام رسانی اور انٹرنیٹ اب محض سہولت نہیں بلکہ تعلیم، روزگار، کاروبار، صحت اور سماجی روابط کی بنیادی ضرورت بن چکے ہیں۔ اس کے باوجود عام صارف کی شکایات میں کمی آنے کے بجائے اضافہ ہو رہا ہے۔ شہروں، قصبوں اور دیہی علاقوں میں لاکھوں افراد ناقص سگنلز، بار بار منقطع ہونے والے رابطوں، سست رفتار انٹرنیٹ اور غیر تسلی بخش خدمات سے پریشان ہیں۔
عوام کا بنیادی سوال یہ ہے کہ جب وہ ہر ماہ مختلف پیکیجوں، محصولات اور دیگر کٹوتیوں کی صورت میں بھاری رقوم ادا کر رہے ہیں تو انہیں معیاری خدمات کیوں میسر نہیں؟ آخر کیوں بار بار نرخوں میں اضافہ ہو جاتا ہے مگر خدمات کا معیار بہتر نہیں ہوتا؟ کیوں صارفین کو صرف بل ادا کرنے کی حد تک اہم سمجھا جاتا ہے جبکہ ان کے حقوق، سہولت اور شکایات کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے؟
گزشتہ کئی برسوں سے ملک میں تیسری، چوتھی اور پانچویں نسل کے مواصلاتی نظام کے بارے میں بڑے بڑے دعوے کیے جا رہے ہیں۔ عوام کو جدید ترین دور میں داخل ہونے کی خوشخبریاں سنائی جاتی ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ ملک کے بہت سے علاقوں میں بنیادی مواصلاتی سہولتیں بھی مطلوبہ معیار پر پورا نہیں اترتیں۔ بعض مقامات پر کال کرنا اور وصول کرنا مشکل ہو جاتا ہے جبکہ انٹرنیٹ کی رفتار اتنی کم ہوتی ہے کہ معمول کے کام بھی متاثر ہوتے ہیں۔
یہ سوال بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ اگر ملک کے متعدد علاقے اب تک قابلِ اعتماد چوتھی نسل کی خدمات سے مکمل طور پر مستفید نہیں ہو سکے تو پانچویں نسل کے دعووں کا عملی فائدہ عوام کو کب اور کیسے پہنچے گا؟ ترقی کے اعلانات اور عملی نتائج کے درمیان یہ فاصلہ مسلسل بڑھتا دکھائی دیتا ہے۔
اس صورتحال میں وفاقی وزارتِ اطلاعاتی ٹیکنالوجی اور متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر سوالات اٹھنا فطری امر ہے۔ عوام یہ جاننا چاہتے ہیں کہ مواصلاتی کمپنیوں کے معیار، صارفین کے حقوق اور خدمات کی نگرانی کے لیے کیا مؤثر اقدامات کیے گئے ہیں؟ اگر کمپنیاں مسلسل منافع کما رہی ہیں تو ان سے جواب دہی کیوں نہیں طلب کی جاتی؟ اگر صارفین کی شکایات میں اضافہ ہو رہا ہے تو ان کے ازالے کے لیے کیا عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں؟
بدقسمتی سے عام صارف خود کو ایک ایسے نظام میں کھڑا محسوس کرتا ہے جہاں اس کے سامنے انتخاب کے بہت کم راستے ہیں۔ ایک طرف ناقص خدمات ہیں، دوسری طرف بڑھتے ہوئے اخراجات، جبکہ تیسری جانب شکایات کے غیر مؤثر نظام کی دیوار موجود ہے۔ یوں صارف خود کو ایک ایسی کھائی کے کنارے کھڑا محسوس کرتا ہے جہاں اس کی آواز سننے والا کوئی نہیں۔ ان مسائل کے ساتھ ساتھ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن ترمیمی بل 2026 نے ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ حکومت اسے جدید مواصلاتی ڈھانچے کی تعمیر اور ترقی کا اہم قدم قرار دے رہی ہے، مگر ناقدین کے مطابق اس کی بعض شقیں شہری حقوق اور نجی ملکیت کے حوالے سے تشویش پیدا کرتی ہیں۔
بل کے تحت بعض حالات میں مواصلاتی کمپنیوں کو نجی املاک تک رسائی کے اختیارات دیے جا سکتے ہیں اور اگر کسی مالک کا انکار “نامناسب” تصور کیا جائے تو اس کے خلاف کارروائی یا مالی جرمانے کی گنجائش بھی پیدا ہو سکتی ہے۔ یہیں سے بنیادی سوال جنم لیتا ہے کہ کیا ترقی کے نام پر شہریوں کے آئینی حقوق محدود کیے جا سکتے ہیں؟
آئینِ پاکستان شہریوں کو جائیداد کے تحفظ کا حق دیتا ہے۔ کسی بھی قانون کا بنیادی مقصد شہری اور ریاست کے درمیان توازن قائم رکھنا ہوتا ہے۔ اگر قانون میں ایسی اصطلاحات شامل ہوں جن کی تشریح واضح نہ ہو تو ان کا استعمال صوابدیدی اختیارات کو بڑھا سکتا ہے اور یہی صورتحال عوامی خدشات کو جنم دیتی ہے۔
اگر ایک شہری اپنی جائیداد کے استعمال سے متعلق اختلاف رکھتا ہے اور اس اختلاف کے نتیجے میں جرمانے یا قانونی کارروائی کا خطرہ پیدا ہو جائے تو یہ سوال اہم ہو جاتا ہے کہ کیا ایسی رضامندی واقعی آزادانہ رضامندی کہلائے گی۔ پاکستان کو جدید مواصلاتی نظام کی ضرورت ہے، لیکن اس سے بھی زیادہ ضرورت اس امر کی ہے کہ ترقی اور بنیادی حقوق کے درمیان توازن برقرار رکھا جائے۔ ایک ایسی ریاست جہاں پہلے ہی صارفین ناقص خدمات، بھاری اخراجات اور غیر مؤثر نگرانی کے نظام سے نالاں ہوں، وہاں نئی قانون سازی کو مزید شفاف، واضح اور عوام دوست ہونا چاہیے۔
عوام کی بے چینی صرف مواصلاتی خدمات کے معیار تک محدود نہیں رہی بلکہ اب یہ سوال بھی اٹھ رہا ہے کہ کیا پالیسی سازی میں عام شہری کے مفادات کو وہ اہمیت دی جا رہی ہے جس کے وہ حق دار ہیں؟ کیا ترقی کا ماڈل عوامی رضامندی اور اعتماد پر مبنی ہے یا صرف انتظامی اور تجارتی سہولتوں کو ترجیح دی جا رہی ہے؟
پاکستان کے مواصلاتی شعبے کو محض نئے اعلانات نہیں بلکہ حقیقی اصلاحات کی ضرورت ہے۔ صارفین کو معیاری خدمات، مناسب نرخ، مؤثر شکایتی نظام اور اپنے بنیادی حقوق کے تحفظ کی یقین دہانی درکار ہے۔ ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ کمپنیوں کے منافع اور عوامی مفاد کے درمیان توازن قائم کریں اور یہ یقینی بنائیں کہ ترقی کا سفر شہری آزادیوں اور آئینی حقوق کی قیمت پر طے نہ ہو۔
اصل امتحان ٹیکنالوجی کا نہیں بلکہ انصاف، شفافیت اور جواب دہی کا ہے۔ اگر صارف کو معیاری سہولت نہ ملے، اگر اس کی شکایت نہ سنی جائے، اگر اس کے بنیادی حقوق کے بارے میں خدشات پیدا ہوں اور اگر پالیسی سازی میں عوام خود کو نظرانداز محسوس کریں تو ترقی کے تمام دعوے اپنی کشش کھو دیتے ہیں۔
کیونکہ بالآخر جائیداد عوام کی ہے، حقوق عوام کے ہیں، اور ریاست کی اصل ذمہ داری بھی عوام ہی کے مفادات کا تحفظ ہے۔
عوام اور کارپوریٹ طاقت- لندن نامہ



