کونمنگ (شِنہوا) چین کے جنوب مغربی صوبے یون نان کے دارالحکومت کونمنگ میں منعقد ہونے والی 10ویں چین-جنوبی ایشیا ایکسپو میں اس سال بنگلہ دیش کو “تھیم کنٹری” کا درجہ دیا گیا ہے۔ 51 سالہ بنگلہ دیشی ریسٹورنٹ مالک محمدالدین کے لئے اس تجارتی میلے میں جمع ہونے والے جنوبی ایشیائی تاجروں اور کاروباری اداروں کا ہجوم ایک طرف فخر اور دوسری طرف ہلکی سی حسرت کے ملے جلے جذبات پیدا کرتا ہے۔انہوں نے پختہ عزم کے ساتھ کہا کہ “جب میں اپنے ریسٹورنٹ کو چلانے کے لئے مزید عملہ رکھ لوں گا تو میں ضرور مستقبل میں اس ایکسپو میں شرکت کروں گا۔بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ سے تعلق رکھنے والے محمدالدین نے دو سال قبل کونمنگ کے چھنگ گونگ یونیورسٹی ٹاؤن میں 10 مربع میٹر سے زائد رقبے پر مشتمل ڈھاکہ ریسٹورنٹ کھولا تھا، جہاں وہ مستند بنگلہ دیشی، بھارتی اور پاکستانی کھانے پیش کرتے ہیں۔اگرچہ یہ ریسٹورنٹ چھوٹا ہے، لیکن اس کا کاروبار تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ یہاں بنگلہ دیش، پاکستان، مشرق وسطیٰ اور افریقہ سے آنے والے بین الاقوامی طلبہ کے ساتھ ساتھ چینی صارفین بھی آتے ہیں جو مختلف ذائقوں کا تجربہ کرنا چاہتے ہیں۔یون نان آرٹس یونیورسٹی کی ایک طالبہ شو نے بتایا کہ وہ اپنی دو سہیلیوں کے ساتھ ریسٹورنٹ میں آئی تھی کیونکہ انہیں چینی لائف سٹائل پلیٹ فارم ریڈ نوٹ پر اس کی سفارش ملی تھی۔انہوں نے کہا کہ “ہم نے فرائیڈ چکن، بیف ڈشز اور پانی پوری آزمانا چاہا۔” اگرچہ پانی پوری کی کھٹی چٹنی کے ذائقے کی عادت ڈالنے میں وقت لگا، لیکن انہوں نے مجموعی طور پر بنگلہ دیشی کھانوں کو بہت پسند کیا۔محمدالدین تازہ اجزاء کے استعمال پر زور دیتے ہیں اور روزانہ کم رش کے وقت ریسٹورنٹ سے 200 میٹر دور سبزی منڈی سے خود خریداری کرتے ہیں۔ایک مقامی سبزی فروش نے بتایا کہ محمدالدین کئی زبانیں بولتے ہیں، کامیاب کاروبار چلاتے ہیں اور طلبہ ان سے بات چیت کرنا پسند کرتے ہیں۔کونمنگ میڈیکل یونیورسٹی میں زیر تعلیم بنگلہ دیشی طلبہ کے لئے یہ ریسٹورنٹ نہ صرف گھر کے کھانے کی جگہ بلکہ گھر کی یاد کو کم کرنے والی ایک آرام دہ جگہ بھی ہے۔بنگلہ دیشی طالبہ مطمئنہ طوبیٰ نے اپنے ساتھی طلبہ کے ساتھ ریستوران میں کھانا کھاتے ہوئے کہا کہ وہ ہمارے لئے بڑے بھائی جیسے ہیں۔ یہاں کا ہر نوالہ گھر جیسا لگتا ہے ۔محمدالدین طلبہ کے لئے سستے ماہانہ کھانے کے پلان بھی پیش کرتے ہیں، ایک وقت کے کھانے کا پلان 450 یوآن (تقریباً 66.1 امریکی ڈالر) جبکہ دو وقت کے کھانے کا پلان 800 یوآن ماہانہ ہے۔نائیجیریا کے ایک طالب علم ایمانوئل اونو بی، جو مقامی ہسپتال کے سپورٹس میڈیسن ڈیپارٹمنٹ میں انٹرن ہیں، ان کے باقاعدہ گاہکوں میں شامل ہیں۔ انہوں نے چینی زبان میں کہا کہ “یہاں کا کھانا سستا ہے، مجھے اخراجات کی فکر نہیں ہوتی۔چونکہ اس کے زیادہ تر گاہک میڈیکل طلبہ یا طبی کارکن ہیں، اس لئے محمدالدین کبھی صحت کے معمولی مسائل سے گھبراتا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ “وہ مجھے بہترین ہسپتالوں کی سفارش کرتے ہیں تاکہ میں چیک اپ کرا سکوں۔ میرے طالب علم گاہک ہمیشہ میرا ساتھ دیتے ہیں اور مجھے ان پر فخر ہے۔ میں امید کرتا ہوں کہ وہ مستقبل میں بہترین ڈاکٹر بنیں گے۔کونمنگ میں مستقل سکونت اختیار کرنے سے پہلے، محمد الدین نے کئی ممالک میں ریستوران چلائے۔ انہوں نے اپنے ریستوران کے لئے چھینگ گونگ یونیورسٹی ٹاؤن کو بڑی سوچ بچار کے بعد منتخب کیا، کیونکہ ان کے بنگلہ دیشی کاروباری دوستوں نے بتایا تھا کہ اس علاقے میں بڑی تعداد میں بین الاقوامی طلبہ رہتے ہیں، خاص طور پر جنوبی ایشیا سے تعلق رکھنے والے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ جگہ کاروبار شروع کرنے کے لئے ایک مثالی مقام ثابت ہوئی۔محمدالدین اکیلے نہیں جو کونمنگ میں اپنے خوابوں کی تلاش میں ہیں۔ بنگلہ دیشی طالب علم معروف حسین جو ریستوران میں کھانا پیک کروانے آیا تھا، چین کی جدید اے آئی میڈیکل ٹیکنالوجی اور محفوظ، آسان طرزِ زندگی سے متاثر ہیں۔وہ امید کرتا ہے کہ چین کی جدید میڈیکل ٹیکنالوجی کو اپنے وطن واپس لے جائے اور مستقبل میں ایک چین-بنگلہ دیش فرینڈشپ ہسپتال میں کام کرے۔ انہوں نے کہا کہ “اس سے پہلے میں چین میں ماسٹرز ڈگری یا حتیٰ کہ پی ایچ ڈی کرنا چاہتا ہوں۔”معروف حسین نے اپنے لئے ایک چینی نام بھی رکھا ہے ما روفو جو اس کے اصل نام کا ہم آواز ہے۔محمدالدین کا بھی اپنے مستقبل کے لئے واضح منصوبہ ہے۔ وہ پہلے موجودہ ریسٹورنٹ کو بہتر بنانا چاہتے ہیں، پھر مزید عملہ رکھ کر کونمنگ یا دیگر چینی شہروں میں نئی شاخیں کھولنے یا اپنے خاندان کو چین لا کر خاندانی کاروبار شروع کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔
بنگلہ دیشی ریسٹورنٹ مالک کو چین کے جنوب مغربی شہر کونمنگ میں اپنے خواب کی تلاش



