بیجنگ (شِنہوا) چینی صدر شی جن پھنگ اور سرکاری دورے پر آئے ہوئے روسی صدر ولادیمیر پوتن نے بدھ کے روز بیجنگ کے عظیم عوامی ہال میں چین-روس تعلیمی سالوں کی افتتاحی تقریب میں شرکت کی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شی جن پھنگ نے کہا کہ چین اور روس کے درمیان تعلیمی تعاون گزشتہ برسوں میں مسلسل گہرا ہوا ہے اور اس کے نمایاں نتائج سامنے آئے ہیں، جس سے نئے دور کی جامع تزویراتی ہم آہنگی پر مبنی چین-روس شراکت داری کے مفہوم کو مزید وسعت ملی ہے۔
انہوں نے کہا کہ چین-روس تعلیمی سالوں کو ایک موقع کے طور پر استعمال کرتے ہوئے دونوں فریقین کو تعاون پر مزید اتفاق رائے قائم کرنا چاہیے، تعاون کے دائرہ کار کو وسیع کرنا چاہیے اور تعاون کی سطح کو بلند کرنا چاہیے۔
شی جن پھنگ نے زور دیا کہ دونوں ممالک کو انسانی وسائل کی تیاری میں تعاون کو مزید گہرا کرنا چاہیے اور سرحدی سائنسی میدان میں مشترکہ چیلنجز سے نمٹنا چاہیے تاکہ جدت اور ترقی کے عمل کو فروغ دیا جا سکے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ تہذیبوں کے درمیان مل کر سیکھنے کے تصور کو اپنانا، تعلیمی نظم و نسق میں تجربات کے تبادلے کو فروغ دینا اور روایتی دوستی کو آگے بڑھانا ضروری ہے تاکہ تعلیمی تعاون کی صلاحیت کو مزید اجاگر کیا جا سکے اور دونوں اقوام کے درمیان باہمی سمجھ بوجھ اور روابط کو مضبوط بنایا جا سکے۔
صدر پوتن نے کہا کہ روس-چین تعلیمی سالوں کا آغاز تاریخی اہمیت کا حامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ تعلیمی تعاون کو مضبوط بنا کر روس چین کے ساتھ مل کر دونوں ممالک کی نوجوان نسلوں کے درمیان باہمی فہم و ادراک کو بڑھانے کے لئے تیار ہے، تاکہ روس-چین دوستی کا سلسلہ نسل در نسل جاری رہے اور دوطرفہ تعلقات کو مزید فروغ حاصل ہو۔
صدر شی اور پوتن کی چین-روس تعلیمی سالوں کی افتتاحی تقریب میں شرکت



