کراچی(نیشنل ٹائمز) پاکستان تحریک انصاف سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ اور پی ٹی آئی کراچی کے صدر راجا اظہر نے منشیات فروش ملزمہ انمول عرف پنکی کو مبینہ طور پر پولیس پروٹوکول کے ساتھ عدالت میں پیش کیے جانے کے معاملے پر سندھ حکومت اور پولیس کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے شفاف تحقیقات کا مطالبہ کردیا۔
حلیم عادل شیخ نے کہا کہ سندھ حکومت اور پولیس سے سوال ہے کہ آخر ایک مبینہ منشیات فروش کو وی آئی پی پروٹوکول کیوں دیا جارہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ تھانے اور عدالت میں جس انداز سے پنکی کو پروٹوکول دیا گیا، اس سے قانون اور انصاف کے نظام پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ پولیس آخر کس کے حکم پر اس مافیا کو سہولتیں فراہم کررہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ 18 سالہ پیپلز پارٹی کی حکومت میں سندھ میں کرپشن، منشیات، جوئے ، بھتہ خوری اور اقربا پروری عروج پر پہنچ چکی ہے ۔ دوسری جانب راجا اظہر نے کہا کہ انمول عرف پنکی کیس نے ثابت کردیا کہ سندھ میں بااثر اور بے اثر افراد کے لیے الگ الگ نظام قائم ہے ۔ راجا اظہر کا کہناتھا کہ نوجوان نسل کو منشیات کے ذریعے تباہ کیا جاتا رہا اور سندھ پولیس تماشائی بنی رہی۔ رہنماؤں نے مطالبہ کیا کہ اس معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائے ۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ سندھ پولیس کو عوام کے تحفظ کے بجائے مخصوص مافیا کے تحفظ کے لیے استعمال کیا جارہا ہے ۔



