بیجنگ (شِنہوا) چین کا دارالحکومت جلد ہی اس سال کی سب سے اہم اور حساس سفارتی ملاقاتوں میں سے ایک کا مرکز بننے جا رہا ہے کیونکہ دنیا کی 2 بڑی معیشتوں کے سربراہان آمنے سامنے ملاقات کی تیاری کر رہے ہیں۔
یہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دوبارہ منتخب ہونے کے بعد چین کا پہلا سرکاری دورہ ہوگا اور یہ دوسرا موقع ہے جب چینی صدر شی جن پھنگ ملک میں ان کی میزبانی کریں گے، ان کی اس طرح کی آخری ملاقات تقریباً ایک دہائی قبل اسی ملک میں ہوئی تھی۔
ایک پیچیدہ بین الاقوامی منظر نامے اور مشترکہ عالمی چیلنجز کے پیش نظر توقعات بہت زیادہ ہیں کہ صدر شی اور صدر ٹرمپ دونوں ممالک کے درمیان اختلافات کو کیسے سنبھالیں گے؟ وہ دنیا کے اس سب سے اہم ترین دو طرفہ تعلق کو کس طرح آگے بڑھائیں گے؟
شی نے اکتوبر 2025 میں جنوبی کوریا کے شہر بوسان میں ہونے والی اپنی تازہ براہ راست بات چیت کے دوران ٹرمپ سے کہا تھا کہ آپ اور میں چین-امریکہ تعلقات کے جہاز کی قیادت کر رہے ہیں ۔ 100 منٹ سے زیادہ جاری رہنے والی اس ملاقات نے دونوں رہنماؤں کے درمیان براہ راست رابطے کے ایک اور اہم لمحے کی نشاندہی کی کیونکہ انہوں نے غیر یقینی صورتحال کے دوران چین-امریکہ تعلقات کو درست سمت میں لے جانے کی کوشش کی۔
گزشتہ برسوں میں سربراہان مملکت کی سفارت کاری نے چین-امریکہ تعلقات کو سہارا دیا ہے اور عالمی اتار چڑھاؤ کے دوران ایک مستحکم قوت کے طور پر کام کیا ہے۔ ٹرمپ کے دوبارہ انتخاب کے بعد سے صدر شی نے ان سے 5 بار فون پر بات کی ہے جس میں تعلقات اور اہم عالمی مسائل پر قریبی رابطہ برقرار رکھا گیا ہے۔
دونوں صدور کی پہلی ملاقات 2017 میں ہوئی تھی جو سرکاری دوروں کے تبادلے کا سال تھا اور جس نے ان کے باہمی تعلقات کی سمت متعین کی تھی۔ اس سال اپریل میں صدر شی اور ان کی اہلیہ پینگ لی یوآن نے امریکی ریاست فلوریڈا میں ٹرمپ کی مار-اے-لاگو سٹیٹ کا دورہ کیا جہاں دونوں صدور نے ایک ساتھ کھانا کھایا اور شی نے ٹرمپ کے پوتے پوتیوں سمیت ان کے خاندان سے ملاقات کی۔
اسی دورے کے دوران شی جن پھنگ نے وہ جملہ ادا کیا جو دو طرفہ تعلقات کی گفتگو میں اکثر دہرایا جاتا ہے کہ “چین-امریکہ تعلقات کو کامیاب بنانے کی ایک ہزار وجوہات ہیں لیکن اسے توڑنے کی ایک بھی وجہ نہیں ہے۔”
توقع ہے کہ آئندہ ملاقات بھی اعلیٰ سطح کے رابطوں کی اس روایت کو برقرار رکھے گی۔ کوئنسی انسٹی ٹیوٹ کے سینئر فیلو ڈینس سائمن کا کہنا ہے کہ اس ملاقات کی اصل اہمیت شاید کسی بڑے معاہدے میں نہ ہو بلکہ اس کا امتحان اس بات میں ہوگا کہ آیا امریکہ اور چین ایک توازن قائم کر سکتے ہیں یا نہیں۔”
چینی صدر عالمی غیر یقینی صورتحال میں چین-امریکہ تعلقات کو متوازن رکھنے کی کوششیں کر رہے ہیں



