برلن،ماسکو (نیشنل ٹائمز)روسی صدر پیوٹن نے یوکرین جنگ میں ثالثی کے لیے سابق جرمن چانسلر گیرہارڈ شروڈر کا نام تجویز کر دیا، جس پر جرمنی میں ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے ۔
پیوٹن نے کہا کہ وہ یورپ سے مذاکرات کی بحالی کے لیے ذاتی طور پر شروڈر کو موزوں سمجھتے ہیں۔ شروڈر روس کے قریبی اتحادی سمجھے جاتے ہیں اور یوکرین جنگ کے بعد بھی کریملن سے تعلقات برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ جرمن حکام نے اس تجویز کو روس کی غیر سنجیدہ پیشکشوں کا حصہ قرار دیا۔ کئی جرمن سیاستدانوں نے کہا کہ ثالث ایسا ہونا چاہیے جسے یوکرین بھی قبول کرے ۔ تاہم بعض رہنماؤں نے شروڈر کے کردار پر غور کرنے کی حمایت بھی کی ہے ۔



