پریٹوریا (شِنہوا) جنوبی افریقہ کے انتظامی دارالحکومت پریٹوریا میں چین اور جنوبی افریقہ کے نوجوانوں کے درمیاان مکالمے کا انعقاد ہوا جس میں نوجوان نمائندوں نے دوطرفہ تعلقات، جنوب-جنوب تعاون، نوجوانوں کی ترقی اور کثیرجہتی امور پر تبادلہ خیال کیا۔
کثیرجہتی دنیا میں جنوب-جنوب تعاون کے عنوان کے تحت شرکاء نے کہا کہ عالمی تعاون کی تشکیل میں نوجوانوں کی شمولیت تیزی سے اہم ہوتی جا رہی ہے۔
جنوبی افریقہ یوتھ ایسوسی ایشن برائے عالمی امور (سایاگا) کے صدر لونگیلے مگاگولا نے کہا کہ یہ مکالمہ جنوبی افریقہ، چین اور وسیع تر گلوبل ساؤتھ کے درمیان تعاون، باہمی تفہیم اور عوامی روابط کو مضبوط بنانے کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
جنوبی افریقہ میں چینی سفارتخانے کے لی آو نے کہا کہ اس سال چین-افریقہ عوامی تبادلوں کا سال ہے اور تقریباً 600 پروگرام نوجوانوں کی ترقی اور تبادلوں کو مزید فروغ دیں گے۔
پریٹوریا یونیورسٹی کی طالبہ آکسولہ کھاتشوا نے کہا کہ نوجوان صرف بین الاقوامی امور کے مبصر نہیں بلکہ ان کی تشکیل میں فعال کردار ادا کرنے والے بھی ہیں۔
جوہانسبرگ یونیورسٹی کی طالبہ لوسیا جامپوسو نے کہا کہ جنوب-جنوب تعاون یکجہتی، مساوات اور مشترکہ ترقی پر مبنی متبادل راستہ فراہم کرتا ہے اور نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ گہرے تعاون کے مواقع سے فائدہ اٹھائیں۔
سایاگا کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر نکسوسانا مہلانگو نے چین کی افریقی ممالک کے لئے زیرو ٹیرف پالیسی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ انسانیت کے مشترکہ مستقبل کے تصور کی عکاسی کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی افریقی براعظم کے آزاد تجارتی علاقے کے تحت نوجوان کاروباری افراد اور چھوٹے کاروبار کے لئے نئے مواقع پیدا کر سکتی ہے۔
یہ تقریب جنوبی افریقہ میں چینی سفارتخانے، پریٹوریا یونیورسٹی اور سایاگا کے اشتراک سے منعقد کی گئی جس میں حکومت، جامعات، تھنک ٹینکس اور نوجوان تنظیموں کے تقریباً 60 نمائندوں نے شرکت کی۔
چین اور جنوبی افریقہ کے نوجوانوں کے درمیان تعاون مضبوط بنانے کا مکالمہ



