گجرات(نیشنل ٹائمز)امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ ملک پر اشرافیہ، وڈیروں اور جاگیرداروں کا قبضہ ،ان کی اجارہ داری نے مڈل کلاسز کا راستہ روک رکھا ہے ،عوام کو خیرات نہیں ان کا حق دیں،26ویں اور 27 ویں آئینی ترامیم نے عدلیہ کو مزید کمزور کر دیا ، پنجاب میں غربت 41 فیصد بڑھ چکی لیکن وزیراعلیٰ کی عیاشیاں ختم نہیں ہو رہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز گجرات میں ممبر سازی مہم کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کھاریاں اور ڈنگہ میں بھی اظہار خیال کے دوران ایک مرتبہ پھر عید کے بعد حقوق کی بحالی کیلئے بڑی تحریک چلانے کے اعلان کو دہرایا۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ 79 سال سے سیاسی جماعتیں عوام کو بے وقوف بناتی رہی ہیں، چینی، آٹا اور آئی پی پیز مافیا زکے ساتھ ملکی حالات نہیں بدل سکتے ، پنجاب کے ایک کروڑ بچے سکولوں سے باہر ہیں،لیکن فارم 47 کے سہارے اقتدار میں آنے والے سکولوں اور صحت کے مراکز کو آؤٹ سورس کر رہے ہیں، مہنگائی کے طوفان میں وزیراعلیٰ پنجاب نے عوامی ٹیکس کے 11 ارب روپے سے لگژری جہاز خرید کر عوام کے زخموں پر نمک چھڑکا ۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ آئی پی پیز کے جعلی معاہدے پیپلز پارٹی، ن لیگ اور پی ٹی آئی ادوار کے مشترکہ گناہ ہیں،مافیاز کو 2 ہزار ارب روپے کی کیپیسٹی پیمنٹ دی جا رہی ، پٹرول کی اصل قیمت 246 روپے ہونی چاہیے مگر حکومت فی لٹرپر 160 روپے ٹیکس وصول کر رہی ہے ، لیڈی ہیلتھ ورکرز اور کسان سڑکوں پر رل رہے ہیں ، عدالتوں میں 24 لاکھ مقدمات زیر التوا ہیں، غریب کیلئے ایف آئی آر تک کٹوانا مشکل ہو چکا ۔



