اسلام آباد (نیشنل ٹائمز) پاکستان کے معروف کاروباری شخصیت ملک ریاض اور ان کے صاحبزادے علی ریاض کے خلاف انٹرپول کے ذریعے ریڈ نوٹس کے اجرا کی کارروائی شروع کر دی گئی ہے، جبکہ دوسری جانب قومی احتساب بیورو (نیب) نے کراچی میں بحریہ ٹاؤن کے مرکزی دفتر سمیت مختلف مقامات پر چھاپے مار کر تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔
چیئرمین نیب نذیر احمد نے بریفنگ کے دوران بتایا کہ ملک ریاض اور علی ریاض کو وطن واپس لانے کے لیے قانونی اور سفارتی سطح پر اقدامات تیز کر دیے گئے ہیں اور اس مقصد کے لیے ایک خصوصی ٹیم بھی تشکیل دے دی گئی ہے۔
ریڈ نوٹس ایک بین الاقوامی درخواست ہوتی ہے جس کے تحت دنیا بھر کے قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطلوب افراد کی تلاش اور عارضی گرفتاری میں تعاون طلب کیا جاتا ہے، تاہم یہ بذاتِ خود کوئی عالمی وارنٹ گرفتاری نہیں ہوتا۔
دوسری جانب نیب نے کراچی میں بحریہ ٹاؤن سے منسلک مختلف دفاتر، بشمول مرکزی دفتر، پر چھاپے مارے، جہاں سے متعدد افراد کو حراست میں لیا گیا اور بڑی مقدار میں ریکارڈ قبضے میں لے کر سیل کر دیا گیا تاکہ کسی بھی ممکنہ رد و بدل کو روکا جا سکے۔
ذرائع کے مطابق ضبط کیے گئے ریکارڈ میں سندھ میں بحریہ ٹاؤن کے منصوبوں سے متعلق اہم دستاویزات شامل ہیں، جن کا تعلق زمینوں کے حصول، الاٹمنٹ اور ملکیت کے دعوؤں سے ہے۔ یہ کارروائیاں ان شکایات کی روشنی میں کی جا رہی ہیں جن میں متاثرین نے نجی رہائشی منصوبوں کے لیے زمینوں پر غیر قانونی قبضے اور سرکاری اراضی پر تجاوزات کے الزامات عائد کیے ہیں۔
تفتیشی حکام اس امر کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا وسیع پیمانے پر سرکاری زمین کو غیر قانونی طور پر نجی منصوبوں میں شامل کیا گیا، جبکہ ضبط شدہ ریکارڈ کو ممکنہ بے ضابطگیوں کے شواہد کے لیے کھنگالا جا رہا ہے۔
دوسری جانب قریبی خاندانی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ملک ریاض نے مبینہ طور پر مالٹا کی رہائش حاصل کر لی ہے اور وہ جلد دبئی سے وہاں منتقل ہونے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ان کے اثاثوں کی منتقلی کا عمل بھی بڑی حد تک مکمل ہو چکا ہے اور مالٹا میں ایک بڑے رہائشی منصوبے کے آغاز کی تیاریاں جاری ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت کے ساتھ معاملات طے کرنے اور ممکنہ مفاہمت کی کوششیں بھی کی گئیں، تاہم کامیابی نہ ہونے کے بعد بیرونِ ملک منتقل ہونے کا فیصلہ کیا گیا۔
حکومتی اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) سے وابستہ ذرائع کے مطابق موجودہ صورتحال میں ملک ریاض یا ان کے اہلِ خانہ کی فوری واپسی کا امکان کم دکھائی دیتا ہے، خصوصاً اگر وہ مالٹا میں مستقل قانونی حیثیت حاصل کر لیتے ہیں۔
تاہم انٹرپول کے ذریعے ریڈ نوٹس کے اجرا کی تاحال آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی، جس کے باعث اس معاملے کے بین الاقوامی پہلو کی باضابطہ توثیق ابھی باقی ہے۔
ملک ریاض اور علی ریاض کے خلاف ریڈ نوٹس کی کارروائی شروع، نیب نے چھاپے مار کر تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا



