اسلام آباد(نیشنل ٹائمز) سینیٹ کی اقتصادی امور کمیٹی نے ملک بھر میں لوڈشیڈنگ اور سولر سسٹم پر ٹیکس کے نفاذ پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اسے فوری طور پر ختم کرنے کی سفارش کی ہے اورچیئرمین نے کہاکہ بس سلطان راہی اور مصطفی قریشی ٹیکس لگانا رہ گیا ہے ۔ کمیٹی کا اجلاس چیئرمین سینیٹر سیف اللہ ابڑو کی سربراہی میں پارلیمنٹ لاجز (باقی صفحہ7بقیہ9) میں ہوا۔ اجلاس میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے معاملے پر سینیٹر کامل علی آغا نے کہاکہ لاہور میں 24 گھنٹوں میں سے 18 گھنٹے لوڈ شیڈنگ ہو رہی ہے ،چیئرمین کمیٹی سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے استفسار کیا کہ آپ کہتے ہیں بجلی سرپلس ہے جبکہ لوڈ شیڈنگ ختم نہیں ہو رہی ۔اس موقع پر وزارت توانائی کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ ایل این جی نہیں آ رہی اس لیے لوڈ شیڈنگ ہو رہی ہے۔
جس پر سینیٹر کامل علی آغا نے کہاکہ کیا آپ کی 48 ہزار میگاواٹ میں سے ساری بجلی ایل این جی پر بنتی ہے ، حکام نے بتایا کہ اگر 600 میگاواٹ کا شارٹ فال ہو تو ایک گھنٹہ کی لوڈ شیڈنگ ہوتی ہے ،اس وقت ملک میں 38 ہزار میگاواٹ کی پیداواری صلاحیت ہے ، اورمیرٹ آرڈر کے تحت کہیں کہیں زیادہ لوڈ شیڈنگ ہو رہی ہے ، رکن کمیٹی سینیٹر کامل علی آغا نے کہاکہ میرے پارلیمنٹ لاجز کا 11 ہزار 800 روپے کا بل آیا ہے ، میرے بل میں استعمال ہوئے یونٹس کی قیمت ہے 3300 روپے ہے ، بل میں باقی سارے ٹیکسز شامل کیے گئے ہیں، 102 یونٹ کا 11800 بل آئے تو فی یونٹ کتنی قیمت بنتی ہے ، آپ صارفین کو کنزیومر نہ کہا کریں بکرے کہا کریں۔
اس موقع پر ایڈیشنل سیکرٹری توانائی ڈویژن نے کہاکہ جب سے سولر آیا ہے تب سے 200 یونٹ والا سلیب تبدیل ہو گیا ہے ، معذرت کے ساتھ اس وقت حکومت بکرا بنی ہوئی ہے ، چیئرمین کمیٹی سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے کہاکہ کہیں سپر ٹیکس تو کہیں جگا ٹیکس لگایا جاتا ہے ، بس سلطان راہی اور مصطفی قریشی ٹیکس لگانا رہ گیاہے ۔کمیٹی نے ملک بھر میں غیر علانیہ لوڈشیڈنگ فوری طور پر ختم کرنے اور سولر سسٹم پر عائد ٹیکس ختم کرنے کی سفارش کی جبکہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے این 45 منصوبے میں کنسلٹنٹس کی عدم شمولیت پر این ایچ اے کی مالی بولی روک دی اور جامشورو پاور پراجیکٹ میں مشین مرمت کیس پر 2 کروڑ روپے کی ریکوری کا حکم بھی دیا۔



