لاہور (نیشنل ٹائمز)قائم مقام صدرِ مملکت سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ دنیا تیزی سے بدل رہی ہے اور ہمیں نئے عالمی تقاضوں کے مطابق خود کو ہم آہنگ کرنا ہوگا،آرٹیفیشل انٹیلی جنس،ماحولیاتی تبدیلی، ڈیجیٹل معیشت اور گلوبلائزیشن جیسے عوامل نوجوانوں کیلئے نئے مواقع اور چیلنجز لے کر آئے ہیں جن سے نمٹنے کیلئے جدید تعلیم اور عملی رہنمائی ناگزیر ہے ،گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور عظیم علمی، فکری اور تاریخی روایت کی امین درسگاہ ہے ،نئی نسل کو اپنے تجربات منتقل کرنے کیلئے اولڈ راوینز ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام مربوط اور موثر مینٹور شپ نیٹ ورک قائم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز یہاں مقامی ہوٹل میں اولڈ راوینز ایسوسی ایشن کے زیرِ اہتمام منعقدہ سالانہ عشائیہ2026 سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ،وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی پروفیسر احسن اقبال،وفاقی وزیر برائے آبی وسائل معین وٹو، ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری شہباز احمد شیخ اورمختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے اولڈ راوینز کی بڑی تعداد موجود تھی۔
سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ وہ اس تقریب میں کسی سرکاری عہدے کے بجائے ایک اولڈ راوین کے طور پر شریک ہوئے ہیں ، اس عظیم ادارے نے نہ صرف ہمارے کیریئر بلکہ ہماری شخصیت کو بھی تشکیل دیا، جی سی یو نے طلبہ کو آزادانہ سوچ، برداشت اور اختلافِ رائے کا احترام سکھایا جو آج کے منقسم عالمی ماحول میں نہایت اہم ہیں۔ سید یوسف رضا گیلانی نے گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ ادارہ محض ایک تعلیمی مرکز نہیں بلکہ ایسا فکری ماحول فراہم کرتا ہے جہاں طلبہ کو آزادانہ سوچنے ،سوال کرنے ، دلیل دینے اور اختلافِ رائے کو برداشت کرنے کی تربیت دی جاتی ہے ، یہی اقدار کسی بھی مہذب معاشرے کی بنیاد ہوتی ہیں اور آج کے دور میں ان کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے ۔ قائم مقام صدر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور اور اس کے طلبہ کی ترقی کے لیے ہر ممکن تعاون جاری رکھیں گے اور اس ادارے کی روایات کو فروغ دینے میں اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے ۔ سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ اب مئی2025 کو دیکھیں !،اس واقعے (پلوامہ)کو ایک سال ہو چکا ، اس کے بعد بھارت نے مئی میں پاکستان پر بلا اشتعال حملہ کیاجس کے جواب میں پاکستان نے ایک ذمہ دار ایٹمی ریاست ہونے کے ناطے تحمل کا مظاہرہ کیا،ہمارا موقف عالمی برادری نے سمجھا اور تسلیم کیا،ہم نے دنیا کو دعوت دی کہ آ کر آزادانہ تحقیقات کرے جبکہ بھارت کا بیانیہ عالمی سطح پر مسترد کر دیا گیا ۔



