پاک-چین کہانیاں|کتاب کا عالمی دن :پاکستانی نوجوان صدیوں پرانی چینی کتابوں کی “سرجری” کرکے ڈیجیٹل بحالی میں مصروف

نان چھانگ (شِنہوا) چمٹا، ہتھوڑا، گوند، حفاظتی کاغذ۔ واجد ایک گہرا سانس لیتا ہے اور ایک چھوٹا ہتھوڑا اٹھاتا ہے۔ ایک ماہر کی رہنمائی میں وہ نازک صفحے پر خاص طور پر تیار کیا گیا باریک حفاظتی کاغذ رکھتا ہے اور ہلکے سے تھپتھپاتا ہے تاکہ نیا کاغذ صدیوں پرانے اصل صفحے کے ساتھ بخوبی جڑ جائے۔ ماہر اسے یاد دلاتا ہے کہ “دباؤ یکساں رکھیں نہ بہت زیادہ، نہ بہت کم۔نان چھانگ یونیورسٹی میں زیر تعلیم ایک پاکستانی طالب علم واجد کنور عبدل جیانگشی صوبائی لائبریری کی قدیم کتب کی بحالی کی لیب میں ایک صدیوں پرانی چینی کتاب کی “سرجری” کر رہے ہیں۔ ان کے سامنے رکھا صفحہ زرد اور نازک ہے، کنارے گھسے ہوئے ہیں اور اس پر جگہ جگہ کیڑوں کے چھوٹے سوراخ ہیں جیسے کوئی پرانا نقشہ ہو۔ لائبریری کے خصوصی مجموعہ جات کے شعبے سے وابستہ ماہر وینگ یان یو بتاتی ہیں کہ ہر سوراخ کو بھرنے کے بعد مرمت شدہ حصے کو ہموار کرنے کے لئے ہتھوڑے سے برابر کرنا ضروری ہوتا ہے۔ “ورنہ کاغذ میں شکنیں پڑ جائیں گی اور بعد میں یہ زیادہ آسانی سے پھٹ سکتا ہے۔وینگ اس فن کو سرجری سے تشبیہ دیتی ہیں “ایک کاغذ، ایک پیالہ گوند، ایک چمٹا اور ایک ہتھوڑا، ہر مرحلہ درست ہونا چاہیے۔” واجد دلجمعی سے سنتے ہیں۔ اگرچہ ان کا شعبہ سافٹ ویئر انجینئرنگ ہے مگر وہ محسوس کرتے ہیں کہ ایک قدیم کتاب کی ہاتھ سے مرمت کرنا بھی اتنا ہی صبر اور باریک بینی چاہتا ہے جتنا پیچیدہ کوڈ لکھنا۔نامکمل اعداد و شمار کے مطابق صرف جیانگشی صوبے میں تقریباً 10 لاکھ قدیم کتب موجود ہیں جن میں سے 143 کو چین کی نایاب قدیم کتب کے قومی کیٹلاگ کے پہلے 6 بیچز میں شامل کیا گیا ہے۔ قدیم کتب کی بحالی کے فن کو 2008 میں چین کے قومی غیر مادی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل کیا گیا تھا اور اس شعبے کے ماہرین کو اکثر “کتابوں کے ڈاکٹر” کہا جاتا ہے۔لیب کے ایک کونے میں واجد کی نظر ایک ہائی ریزولوشن سکینر پر پڑتی ہے۔ وینگ انہیں بتاتی ہیں کہ ماضی میں یہ قیمتی کتب درجہ حرارت اور نمی کے کنٹرول والے کمروں میں محفوظ رکھی جاتی تھیں اور عام لوگ لائبریری آنے پر بھی انہیں شاذ و نادر ہی دیکھ پاتے تھے۔ اب ماہرین مرمت کے ساتھ ساتھ ان کتابوں کو ڈیجیٹل شکل بھی دے رہے ہیں۔15 دسمبر 2025 کو لائبریری نے “جیانگشی کی تاریخی دستاویزات کے ڈیجیٹل ذخیرے” کا آغاز کیا جو عوام کے لئے مفت دستیاب ہے۔ پہلے مرحلے میں 1162 قدیم کتب شامل ہیں جن میں سے کئی نایاب ایڈیشنز اور ہاتھ سے لکھی گئی نقول ہیں۔ قارئین اس پلیٹ فارم پر سمارٹ سرچ، کلیدی الفاظ کو نمایاں کرنا، متن اور تصویر کو ساتھ ساتھ دیکھنا، سادہ اور روایتی رسم الخط میں تبدیلی اور آن لائن نوٹس جیسی سہولیات استعمال کر سکتے ہیں۔عملے کا ایک رکن کہتا ہے کہ “دیکھیں، یہ ایک قدیم کتاب کا ڈیجیٹل ورژن ہے،” اور سکرین پر زرد صفحے کی تصویر کھول کر اس میں زوم کرتا ہے تاکہ کاغذ کی ساخت واضح ہو سکے۔ واجد قریب جھک کر جوش سے دیکھتے ہیں۔ “اپنے فون یا کمپیوٹر پر صدیوں پرانی کتاب دیکھنا واقعی حیرت انگیز ہے۔مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی واجد کے بنیادی تحقیقی شعبے ہیں اور قدیم کتب کی ڈیجیٹلائزیشن ہی وہ چیز ہے جو انہیں سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے۔23 اپریل 2026 کو 31 واں عالمی یوم کتاب منایا جا رہا ہے جبکہ چین میں پہلا “قومی ہفتہ مطالعہ” 20 سے 26 اپریل تک جاری ہے۔ واجد کہتے ہیں کہ انہوں نے دیکھا ہے کہ زیادہ سے زیادہ نوجوان چینی لوگ ڈیجیٹل ذخائر کے ذریعے قدیم کتابیں پڑھ رہے ہیں اور “اپنی انگلیوں سے صدیوں کی تاریخ کو چھو رہے ہیں۔ہتھوڑا رکھ کر اپنے ہاتھ صاف کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ “اپنے فون پر صدیوں پرانی نایاب کتاب دیکھنا مطالعے کے فروغ کے لئے بہت اہم ہے۔ صدیوں پرانی کتاب پر ‘سرجری’ کرنا صرف اسے ٹھیک کرنا نہیں بلکہ اسے دوبارہ لوگوں تک پہنچانا اور پڑھنے کے قابل بنانا ہے۔” وہ امید رکھتے ہیں کہ چین میں قدیم کتب کی ڈیجیٹلائزیشن کے بارے میں جو کچھ انہوں نے سیکھا ہے، اسے پاکستان لے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ “میں چاہتا ہوں کہ اسلام آباد اور لاہور کی پرانی لائبریریوں میں موجود مخطوطات بھی ڈیجیٹل دنیا میں نئی زندگی حاصل کریں۔2026 چین اور پاکستان کے سفارتی تعلقات کی 75 ویں سالگرہ کا سال ہے۔ واجد کی کہانی اس بات کی ایک چھوٹی مگر واضح مثال ہے کہ دونوں ممالک کی نئی نسلیں کس طرح ٹیکنالوجی کو ایک پل کے طور پر استعمال کرتے ہوئے انسانیت کے مشترکہ ثقافتی ورثے کو محفوظ بنانے میں کردار ادا کر رہی ہیں۔واجد مسکراتے ہوئے کہتے ہیں کہ “چاہے آپ پاکستان میں ہوں یا چین میں، اگلے عالمی یوم کتاب پر شاید آپ اپنی سکرین پر ٹیپ کر کے صدیوں پرانی کتاب پڑھ سکیں۔”



  تازہ ترین   
ٹرمپ کا آبنائے ہرمز میں کارروائیاں 3 گنا بڑھانے کا حکم
پاکستان نے 2023 کے بعد پہلی بار ایل این جی کارگو کیلئے تین ٹینڈر جاری کر دیے
انصاف، وقار اور دانشمندی کی بنیاد پر مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے: ایران
سیز فائر کی ڈیڈ لائن طے نہیں، وقت کا تعین کمانڈ ان چیف کرینگے: وائٹ ہاؤس
جنگی صورتحال میں بروقت اقدامات سے توانائی بحران پیدا نہیں ہوا: وزیراعظم
ایل این جی دستیابی کے بعد پیک ٹائم لوڈ مینجمنٹ کم ہو سکتی ہے: پاور ڈویژن
امریکا 6 ماہ تک آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکتا: پینٹاگون کا اعتراف
پہلگام فالس فلیگ: بھارت ایک سال بعد بھی آئی ایس پی آر کے سوالات کا جواب نہیں دے سکا





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر