اسلام آباد،واشنگٹن (نیشنل ٹائمز) عالمی مالیاتی فنڈ(آئی ایم ایف )نے گزشتہ روز ورلڈ اکنامک آؤٹ لک رپورٹ 2026ء جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی جنگ نے عالمی معاشی ترقی کو متاثر کیا اس لئے عالمی ترقی کی رفتار 0اعشار یہ 2 فیصد کمی سے 3اعشاریہ 4 فیصد رہنے کا امکان ہے ،رپورٹ میں پاکستان میں بھی معاشی شرح نمو سست،مہنگائی بڑھنے کی پیشگوئی کی گئی ہے ، رواں مالی سال معاشی شرح نمو 3اعشاریہ 6 فیصد رہنے کاامکان ہے ،حکومت نے اس سال معاشی ترقی کا ہدف 4اعشاریہ 2 فیصد مقرر کر رکھا ہے ، پاکستان میں رواں مالی سال مہنگائی 7اعشاریہ 2 فیصد ہونے کا امکان ہے ۔آئی ایم ایف کے مطابق اگلے مالی سال مہنگائی مزید بڑھ کر 8اعشاریہ 4 فیصدتک جانے کا خدشہ ہے ،گزشتہ مالی سال مہنگائی کی شرح 4اعشاریہ 5 فیصدریکارڈ کی گئی تھی ، پاکستان میں اس سال بیروزگاری 7اعشاریہ 1 فیصد سے کم ہوکر 6اعشاریہ 9 فیصد رہے گی، اگلے مالی سال بے روزگاری مزید کم ہو کر 6اعشاریہ 5 فیصد پرآسکتی ہے ۔ورلڈ اکنامک آؤٹ لک رپورٹ میں مزید کہا گیاہے کہ رواں مالی سال کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جی ڈی پی کا0اعشاریہ 4 فیصد ہو سکتا ہے ،اگلے سال کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جی ڈی پی کے 0اعشاریہ 9 فیصد تک جا سکتا ہے ،جنگ سے عالمی انرجی سپلائی اور مارکیٹس متاثر ہوئیں ، عالمی برادری بدلتی معاشی صورتحال کے مطابق نئی اقتصادی ترجیحات اپنائے ، جبکہ یہ بھی کہا ہے کہ جنگ کی مدت اور شدت عالمی معیشت کے مستقبل کا تعین کرے گی۔ دوسری طرف پاکستان کی حکومت آئی ایم ایف سے موجودہ توسیعی فنڈ سہولت قرض پروگرام میں توسیع کیلئے مختلف تجاویز پر کام کر رہی ہے ۔ باوثوق ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ معاشی ٹیم نے پرپوزل بارے وزیراعظم کیساتھ تبادلہ خیال کیا ہے ، خطے میں جاری کشیدگی کے باعث آئی ایم ایف کو ای ایف ایف قرض پروگرام کے تحت پیکج کا سائز بڑھانے کی درخواست کرے گی، 2024 میں پاکستان کا آئی ایم ایف سے 37 ماہ کیلئے 7 ارب ڈالر کا قرض معاہدہ طے پایا تھا ، ابتدائی طور پر حکومت کی قرض پروگرام کے سائز میں تقریبا 1اعشاریہ5 ارب ڈالر اضافہ کی تجویز ہے جس کے بعد قرض ساڑھے 8 ارب ڈالر تک پہنچ سکتا ہے ۔قرض پروگرام کے سائز میں ڈیڑھ ارب ڈالر یا اس سے کم یا زیادہ اضافہ ہو سکتا ہے ۔ ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کیساتھ یہ تجاویز ڈسکس کی جائیں گی تاہم حتمی فیصلہ آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ کرے گا، کوٹہ کے تحت ایکسٹنڈڈ فنڈ فیسلیٹی قرض پروگرام کا سائز بڑھایا جا ئے یا آئی ایم ایف سے الگ وار فنڈز کے طور پر رقم میسر ہو سکتی ہے ، تجاویز ابھی ابتدائی مراحل میں ہیں ۔ وزیرخزانہ محمداورنگزیب ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کی سپرنگ میٹنگز میں شرکت کیلئے موجود ہیں جہاں یہ تجاویز ڈسکس کی جا سکتی ہیں ، حکومت قرض پروگرام کا دورانیہ بڑھانے میں دلچسپی نہیں رکھتی اور 2027 کے دوران ہی موجودہ قرض پروگرام ختم کرنے کی خواہاں ہے ۔
آئی ایم ایف :پاکستان میں معا شی ترقی کم اور مہنگائی بڑھنے کی پیشگوئی



