اسلام آباد/ واشنگٹن (نیشنل ٹائمز) پاکستان کی سفارتی کوششیں کامیاب ثابت ہوئیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستانی تجویز کے تحت دو ہفتے کی جنگ بندی منظور کر لی، جس سے دنیا کو ایک بڑی تباہی سے بچایا گیا۔
امریکہ کے بعد ایران نے بھی پاکستان کی جنگ بندی کی پیشکش قبول کر لی۔ نو منتخب سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے وزیراعظم شہباز شریف کی دو ہفتے کی جنگ بندی کی منظوری دے دی۔ عالمی مبصرین نے اسے پاکستان کی ایک بڑی سفارتی کامیابی قرار دیا ہے، جس کے نتیجے میں ملک اس وقت عالمی توجہ کا مرکز بن چکا ہے اور اس کی سفارتی کاوشوں سے دنیا ایک ممکنہ تیسری عالمی جنگ سے بچ گئی۔
صدر ٹرمپ کی جانب سے ایران پر تباہ کن حملے کے حوالے سے الٹی میٹم بدھ کی صبح پانچ بجے ختم ہو رہا تھا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے نصف شب کو امریکہ اور ایران دونوں سے اپیل کی کہ وہ دو ہفتے کے لیے جنگ بندی کریں۔
تازہ ترین اطلاعات کے مطابق ایران نے کہا ہے کہ امریکہ سے مذاکرات اسلام آباد میں ہوں گے اور اس حوالے سے 10 اپریل کی تاریخ طے کی گئی ہے۔ اگر مذاکرات کامیاب ہوئے تو جنگ بندی میں مزید توسیع کی جا سکتی ہے۔
برطانوی خبر رساں ایجنسی کے مطابق امریکی صدر نے کہا کہ پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کی درخواست پر وہ ایران کے خلاف طے شدہ حملے کو دو ہفتوں کے لیے مؤخر کرنے پر راضی ہیں، بشرطیکہ ایران آبنائے ہرمز کو فوری، مکمل اور محفوظ طریقے سے کھول دے۔ یہ ایک دو طرفہ جنگ بندی ہوگی۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکہ اپنے تمام فوجی اہداف حاصل کر چکا ہے اور ایران کے ساتھ طویل مدتی امن معاہدے پر پیش رفت کافی حد تک ہو چکی ہے۔ ایران کی جانب سے موصول ہونے والی 10 نکاتی تجویز مذاکرات کے لیے ایک قابل عمل بنیاد فراہم کرتی ہے۔
ان کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان زیادہ تر اختلافی نکات پر اتفاق ہو چکا ہے، اور دو ہفتے کی مہلت معاہدے کو حتمی شکل دینے میں مدد دے گی۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ بطور صدر اور مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کی نمائندگی کرتے ہوئے، اس دیرینہ مسئلے کے حل کے قریب پہنچنا ان کے لیے باعثِ اعزاز ہے۔
پاکستان کی بڑی سفارتی کامیابی، امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی ہوگئی



