پیٹرول کی سیاست، ڈیزل کی حقیقت

تحریر: منظر نقوی

پاکستان میں حالیہ پیٹرولیم قیمتوں کا رجحان صرف اتار چڑھاؤ کی کہانی نہیں بلکہ معاشی طرزِ حکمرانی میں ایک گہری عدم مطابقت کو ظاہر کرتا ہے۔ مارچ سے اپریل 2026 کے درمیان کیے گئے فیصلے شفافیت، پالیسی ہم آہنگی اور عوام کو منصفانہ ریلیف فراہم کرنے کے حکومتی عزم پر سنجیدہ سوالات اٹھاتے ہیں۔

5 مارچ 2026 کو آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی نے عوام کو یقین دہانی کرائی کہ ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کے وافر ذخائر موجود ہیں اور گھبراہٹ کی کوئی ضرورت نہیں۔ مگر چند ہی گھنٹوں بعد یہ یقین دہانی غیر مؤثر ثابت ہوئی۔ 7 مارچ سے پیٹرول کی قیمت 266.17 روپے سے بڑھا کر 321.17 روپے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل 280.66 روپے سے بڑھا کر 335.86 روپے فی لیٹر کر دیا گیا۔ یہ اچانک اضافہ خود ریگولیٹر کے مؤقف سے متصادم نظر آیا۔

مارچ کے دوران مزید مالی اقدامات کیے گئے، جن میں ہائی آکٹین فیول پر پیٹرولیم لیوی کو 100 روپے سے بڑھا کر 300 روپے فی لیٹر کر دیا گیا۔ اگرچہ اس اقدام کو عوامی تحفظ کے طور پر پیش کیا گیا، مگر اس سے معیشت پر بڑھتے ہوئے مجموعی بوجھ میں کوئی خاطر خواہ کمی نہ آ سکی۔

صورتحال 2 اپریل کو مزید بگڑ گئی جب وزارتِ پیٹرولیم نے ایک اور بڑا اضافہ کرتے ہوئے پیٹرول کی قیمت 458 روپے اور ڈیزل کی قیمت 520 روپے فی لیٹر تک پہنچا دی۔ اس فیصلے کو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی سے جوڑا گیا، حالانکہ نہ تو سپلائی لائن متاثر ہوئی تھی اور نہ ہی ملک میں ذخائر کی کمی تھی۔ اس تناظر میں قیمتوں میں اتنا بڑا اضافہ ضروری کے بجائے مالی دباؤ یا محصولات بڑھانے کی کوشش محسوس ہوتا ہے۔

اس کے اگلے ہی روز وزیر اعظم شہباز شریف نے پیٹرول کی قیمت میں 80 روپے فی لیٹر کمی کا اعلان کیا، جس سے قیمت 458 سے کم ہو کر 378 روپے ہو گئی۔ بظاہر یہ ایک بڑا ریلیف تھا، مگر ڈیزل کی قیمت کو 520 روپے پر برقرار رکھنا اس اقدام کی افادیت کو کمزور کر دیتا ہے۔

ڈیزل پاکستان کی معیشت کا بنیادی ایندھن ہے۔ یہ زراعت، مال برداری، ٹرانسپورٹ اور بجلی کی پیداوار کو چلاتا ہے۔ اس کی قیمت براہِ راست خوراک، اشیائے ضروریہ اور خدمات کی لاگت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ ڈیزل کی قیمت میں کمی نہ ہونے کے باعث مہنگائی کا دباؤ برقرار رہتا ہے اور ریلیف کا فائدہ محدود ہو کر رہ جاتا ہے۔

مزید یہ کہ حکومت کی جانب سے رکشہ، موٹر سائیکل اور ٹرانسپورٹ سیکٹر کے لیے دی جانے والی ہدفی سبسڈیز بھی مسائل پیدا کر سکتی ہیں۔ ماضی کے تجربات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ اس نوعیت کی اسکیمیں اکثر بدعنوانی، وسائل کے ضیاع اور غیر شفافیت کا شکار ہو جاتی ہیں۔ ایسے حالات میں یہ اقدامات حقیقی ریلیف دینے کے بجائے نظام میں مزید کمزوریاں پیدا کر سکتے ہیں۔

اسی طرح کابینہ کے ارکان کی جانب سے چند ماہ کی تنخواہیں چھوڑنے کا اعلان ایک علامتی قدم ہے، مگر اس کا معاشی اثر نہ ہونے کے برابر ہے۔ معاشی بہتری کے لیے نمائشی اقدامات نہیں بلکہ ٹھوس اور دانشمندانہ فیصلوں کی ضرورت ہوتی ہے۔

ایک بہتر حکمتِ عملی یہ ہوتی کہ مارچ میں کیے گئے اضافے پر نظرثانی کی جاتی اور ڈیزل کی قیمت میں کمی کو ترجیح دی جاتی۔ اس مقصد کے لئے IMF کے ساتھ مشاورت کے ذریعے ایک متوازن سبسڈی نظام تشکیل دیا جا سکتا تھا، جو عوامی ریلیف اور مالیاتی استحکام دونوں کو یقینی بناتا۔

پاکستان کی معاشی بقا کا انحصار پالیسی کے تسلسل، شفافیت اور انصاف پر ہے۔ ایندھن کی قیمتیں صرف محصولات کا ذریعہ نہیں بلکہ مہنگائی، پیداوار اور سماجی استحکام کا بنیادی عنصر ہیں۔ موجودہ پالیسی، جو منتخب ریلیف اور غیر مربوط اقدامات پر مبنی ہے، ایک ردعملی سوچ کی عکاسی کرتی ہے نہ کہ ایک جامع حکمتِ عملی کی۔

آخر میں یہ کہنا ضروری ہے کہ پیٹرول کی قیمت میں کمی وقتی ریلیف فراہم کرتی ہے، مگر ڈیزل کو نظرانداز کرنا اس پالیسی کو غیر مؤثر بنا دیتا ہے۔ اگر فوری اصلاحات نہ کی گئیں تو یہ عدم توازن مہنگائی میں مزید اضافہ، عوامی مشکلات اور اعتماد کے فقدان کا سبب بنے گا۔ پاکستان کو اس وقت جزوی ریلیف نہیں بلکہ جامع اور حقیقت پسندانہ اصلاحات کی ضرورت ہے۔



  تازہ ترین   
پاکستان آئل ریفائننگ پالیسی میں ترامیم منظور، پٹرولیم مصنوعات کے سٹریٹیجک ذخائر بڑھانے کی ہدایت
آزاد کشمیر انتخابات: ن لیگ سب سے آگے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے: رانا ثناء
پاکستان اور امریکا کی سٹریٹجک شراکت داری مزید مضبوط ہو رہی ہے: اسحاق ڈار
کل سے بارشوں کا نیا طاقتور سپیل داخل ہونے کا امکان، سیلاب کا خدشہ
امریکا کی غیر قانونی بحری ناکہ بندی مزید کشیدگی تصور ہوگی: ایرانی فوج
میر پور ڈویژن کے انتخابات: ن لیگ 7 نشستوں پر کامیاب، پیپلزپارٹی کی 4 سیٹیں
حملے عارضی طور پر روکے، مذاکرات ناکام ہوئے تو فوجی کارروائی ہوگی: ٹرمپ
میرپور نے شیر پر مہر لگا کر اعلان کر دیا ترقی ن لیگ سے جڑی ہے: مریم اورنگزیب





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر