واشنگٹن (نیشنل ٹائمز) امریکی سپریم کورٹ نے بدھ کو ٹرمپ کی تاریخی کوشش پر غور شروع کیا، جس میں انہوں نے پیدائشی شہریت ختم کرنے کی کوشش کی۔ صدارتی روایت توڑتے ہوئے ٹرمپ خود عدالت میں موجود رہے ۔۔
ٹرمپ نے ایگزیکٹو آرڈر جاری کیا تھا کہ غیر قانونی یا عارضی ویزے والے والدین کے بچے خودکار طور پر امریکی شہری نہ ہوں۔ تاہم نچلی عدالتوں نے اس حکم کو آئین کے خلاف قرار دیتے ہوئے روکا۔ امریکی آئین کی 14ویں ترمیم کے مطابق، تمام افراد جو امریکامیں پیدا یا شہریت حاصل کرتے ہیں اور اس کے دائرہ اختیار کے تابع ہیں، وہ امریکی شہری ہوں گے ۔سپریم کورٹ میں دلائل کے دوران امریکی سولیسٹر جنرل جان ساور نے کہا کہ یہ اقدام امریکی شہریت کے قیمتی تحفے کی توہین ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ غیر قانونی امیگریشن کو بڑھاوا دیتا ہے اور قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو انعام دیتا ہے ۔ٹرمپ نے اپنے دوسرے دور صدارت کے پہلے سال میں غیر معمولی صدارتی اختیارات استعمال کیے ، کانگریس کو کمزور کرنے اور عدلیہ پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی۔ گزشتہ ہفتے ہی انہوں نے دو سپریم کورٹ ججوں پر تنقید کی، جو ان کے ٹیرف پالیسی کیس میں ان کے حق میں نہیں آئے ۔یہ کیس امریکا میں شہری ہونے کی تعریف اور امیگریشن کے بنیادی اصولوں کی جانچ کرے گا۔ عدالت کے فیصلے سے ملک میں شہری حقوق اور امیگریشن قوانین کی سمت کا تعین ہوگا۔
پیدائشی شہریت کیس ، صدارتی روایت توڑتے ہوئے ٹرمپ سپریم کورٹ پہنچ گئے



