ویانا (شِنہوا) بین الاقوامی ایٹمی توانائی ادارے کے سربراہ نے ایران کی ایٹمی تنصیبات پر ایک نئے حملے کے بعد کسی بھی ایٹمی حادثے کے خطرے سے بچنے کے لئے عسکری صبر و تحمل کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
آئی اے ای اے نے سوشل میڈیا پر بتایا کہ ایران نے اسے ہفتہ کی صبح نطنز ایٹمی تنصیبات پر ہونے والے حملے سے باقاعدہ آگاہ کر دیا ہے۔ ایجنسی صورتحال کی تحقیقات کر رہی ہے اور ابھی تک سائٹ سے باہر تابکاری کی سطح میں اضافے کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔
آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی نے مزید تباہ کن نقصان سے بچنے کے لئے فوجی تحمل کے اپنے مطالبے کا اعادہ کیا۔
ایران کے ایٹمی توانائی ادارے کے مطابق امریکہ اور اسرائیل نے ہفتہ کی صبح نطنز میں یورینیم کی افزودگی کی تنصیب پر حملہ کیا۔ تابکاری کے اخراج کی کوئی اطلاع نہیں ملی ہے اور سائٹ کے قریب رہنے والے رہائشیوں کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔
28 فروری کو ایران پر اسرائیلی اور امریکی افواج کے مشترکہ حملوں کے آغاز کے بعد سے ایرانی ایٹمی تنصیبات کو کئی بار نشانہ بنایا جا چکا ہے۔ گزشتہ ہفتے منگل کی شام خلیج فارس کے ساحل پر واقع ایران کے بوشہر ایٹمی بجلی گھر کے احاطے پر بھی حملہ ہوا تھا۔ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ نطنز اور اصفہان کے بعد ایٹمی تنصیبات کے قریب یہ تیسرا حملہ تھا اور انہوں نے آئی اے ای اے سے ایسے حملوں کی مذمت کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے “انتہائی سنگین اور خطرناک صورتحال” سے خبردار کیا ہے۔
آئی اے ای اے سربراہ کا ایران کی جوہری تنصیبات پر تازہ حملے کے بعد تحمل سے کام لینے کا مطالبہ



