ماسکو (شِنہوا) روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زخارووا نے کہا ہے کہ ایران کے شہر نطنز میں یورینیم افزودگی کی تنصیب پر حملہ بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
ایران کی ایٹمی توانائی تنظیم نے بتایا کہ ہفتے کے اوائل میں اسرائیل اور امریکہ نے نطنز میں واقع یورینیم افزودگی کے کمپلیکس کو نشانہ بنایا تاہم کسی قسم کے اخراج کی اطلاع نہیں ملی۔
زخارووا نے کہا کہ اس بات کے باوجود کہ امریکہ کی جانب سے گزشتہ سال جون میں فضائی حملوں کے بعد ایران کے جوہری پروگرام کو مکمل طور پر تباہ کرنے کے دعوے کئے گئے تھے، نطنز میں واقع یورینیم افزودگی کی تنصیب جو بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کی نگرانی میں ہے، پر دوبارہ حملے کئے گئے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے منشور، آئی اے ای اے کے قانون اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور آئی اے ای اے جنرل کانفرنس کی متعلقہ قراردادوں کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ امریکہ اور اسرائیل ایرانی فوجی، شہری اور جوہری تنصیبات پر بڑے پیمانے پر حملے جاری رکھے ہوئے ہیں، جس میں نہ تو شہری ہلاکتوں کا خیال رکھا جا رہا ہے اور نہ ہی ممکنہ تابکاری اور ماحولیاتی اثرات کا خیال رکھا جارہاہے۔
انہوں نے کہا کہ ماسکو عالمی برادری، بشمول اقوام متحدہ اور بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ ان غیر ذمہ دارانہ اقدامات کا غیر جانبدار اور سخت جائزہ لے جو پورے مشرق وسطیٰ میں بڑے سانحے کے حقیقی خطرات پیدا کر رہے ہیں اور خطے میں امن، استحکام اور سلامتی کو مزید نقصان پہنچانے کے لئے کئے جا رہے ہیں۔
روس نے ایرانی جوہری تنصیب پر حملہ بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی قرار دے دیا



