نان چھانگ (شِنہوا) پاکستان میں ابرار الحق نے بچپن جیکی چھن اور بروس لی کی فلمیں دیکھتے ہوئے گزارا۔ سکرین پر دکھائی دینے والا چینی کنگ فو، جو کشش ثقل اور منطق کو چیلنج کرتا تھا، کسی دیومالائی کہانی جیسا محسوس ہوتا تھا۔ پھر مارچ کے ایک دن وہ چین کے مشرقی صوبے جیانگشی میں نان میاؤ ٹاؤن پہنچے جو مینگ یوئے پہاڑ کے دامن میں واقع ہے۔ وہاں انہوں نے حقیقت دیکھی۔ یہ مارشل آرٹ کبھی بھی صرف خیالی دنیا تک محدود نہیں تھا، بلکہ دیہاتی زندگی کے معمولات، لکڑی کی بینچوں اور بچوں کی تربیت میں زندہ ہے۔نان میاؤ میں مارشل آرٹس کی جڑیں بہت گہری ہیں جو تانگ خاندان تک جا پہنچتی ہیں۔ پہاڑوں سے گھرا یہ گاؤں ماضی میں ڈاکوؤں کا شکار رہتا تھا جس کی وجہ سے ہر گھر ایک تربیتی میدان بن گیا۔ تقریباً ہر خاندان اس فن کی مشق کرتا تھا اور اکثر لوگ ایک یا دو انداز جانتے تھے۔ آج اگرچہ ڈاکو ختم ہو چکے ہیں مگر مارشل آرٹس کی روایت اب بھی زندہ ہے۔ بزرگوں کے مطابق یہاں 10 میں سے 9 گھرانے اب بھی مشق کرتے ہیں۔ یہاں کنگ فو صرف ایک مظاہرہ نہیں بلکہ زندگی کا حصہ ہے۔نان میاؤ مارشل آرٹس وراثتی مرکز کے اندر اس غیر مادی ثقافتی ورثے کی محافظ پینگ فانگ نے ایک سادہ لکڑی کی بینچ اٹھائی، وہی جو کسی بھی دیہاتی گھر میں مل سکتی ہے۔ انہوں نے اسے گھمایا، روکا اور جھاڑا۔ بینچ ہوا کو اس زور سے چیر رہی تھی کہ دیکھنے والا بھول جاتا ہے کہ یہ محض ایک فرنیچر کا ٹکڑا ہے۔اس فن کو “بینچ فلاور” کہا جاتا ہے۔ پرانے زمانے میں کسان کھیتوں میں آرام کے لئے بینچ ساتھ لے جاتے تھے اور ضرورت پڑنے پر اسے ہتھیار کے طور پر بھی استعمال کرتے تھے۔ یوں روزمرہ اشیاء ہتھیار بن گئیں اور زندگی خود تربیت کا ذریعہ بن گئی۔ یہ مارشل آرٹس مٹی سے جڑا ہوا تھا۔پینگ فانگ نے ابرار کو “مٹھی اور ہتھیلی کا سلام” سکھایا، بائیں ہاتھ کی کھلی ہتھیلی اور دائیں ہاتھ کی بند مٹھی۔ کھلی ہتھیلی تہذیب اور اخلاق کی علامت ہے، جبکہ مٹھی طاقت اور جرات کی نمائندگی کرتی ہے۔ اسے دیکھ کر ابرار کو اپنا سلام یاد آیا “السلام علیکم” یعنی آپ پر سلامتی ہو۔ زبانیں مختلف، مگر پیغام ایک: احترام سب سے پہلے۔ایک اور چیز جس نے انہیں متاثر کیا وہ “تین بار جھکنے” کا اصول تھا۔ نان میاؤ کے مارشل آرٹس میں ضبط سکھایا جاتا ہے۔ اگر کوئی آپ کا سامنا کرے تو آپ ایک بار، دو بار، تین بار پیچھے ہٹتے ہیں۔ صرف اسی صورت میں دفاع کرتے ہیں جب جارحیت جاری رہے۔ اصول سادہ ہے “فن سیکھو، مگر پہلے اخلاق سیکھو۔ حرکت کرو، مگر غصے کو حرکت نہ کرنے دو۔ بچے کو مکا مارنا سکھانے سے پہلے یہ سکھایا جاتا ہے کہ کب نہ مارا جائے۔آج یہ قدیم فن سب سے زیادہ جہاں زندہ ہے وہ کوئی مخصوص تربیتی ہال نہیں بلکہ مقامی سکول ہے۔نان میاؤ مڈل سکول میں ہر روز سینکڑوں طلبہ “مارشل آرٹس وقفہ” کے لئے میدان میں آتے ہیں۔ وہ ایک ساتھ حرکات کرتے ہیں۔ مکے، لاتیں مارتے اور نعرے لگاتے ہیں۔ ان کی آواز پہاڑوں کو جگانے کے لئے کافی ہوتی ہے۔ نائب پرنسپل یانگ ہوئی کے مطابق 2012 میں اس روایت کو نصاب کا حصہ بنایا گیا۔ ہر طالب علم اسے سیکھتا ہے۔ اس کے نتائج صرف جسمانی فٹنس تک محدود نہیں۔ اساتذہ اور والدین نے دیکھا ہے کہ بچے زیادہ مہذب، منظم اور ٹیم ورک کے شعور کے ساتھ گھر لوٹتے ہیں۔گزشتہ سال اس سکول کو “چینی روایتی ثقافت کے فروغ کے لئے بہترین سکول” کا قومی اعزاز بھی ملا۔ یہ اس بات کا اعتراف ہے کہ یہ فن صرف حرکات کا نہیں بلکہ کردار سازی کا ذریعہ ہے۔ابرار نے کھیل کے میدان کے کنارے سے دیکھا کہ سورج کی روشنی بچوں کی قطاروں پر پڑ رہی ہے جو لگاتار مکے مار رہے ہیں۔ اس منظر نے اسے گھر کی یاد دلائی، روایتی رقص جو نسل در نسل منتقل ہوتے آئے ہیں اور نوجوان ذہنوں کو بار بار مشق کے ذریعے سنوارتے ہیں۔ وہی مقصد، وہی لگن۔انہوں نے کہا کہ مارشل آرٹس ایک زبان ہے۔ یہ نظم و ضبط، احترام اور استقامت سکھاتا ہے۔ یہ وہی اقدار ہیں جو پاکستان میں بھی اہم ہیں۔ دونوں روایات امن، اچھائی اور خوبصورتی کی طرف رہنمائی کرتی ہیں۔ مارشل آرٹس ہر اس شخص کا ہے جو اس کا احترام کرے۔نان میاؤ میں شام ڈھل گئی مگر مشق جاری رہی۔ دریا کے کنارے ایک بوڑھا شخص زرعی اوزار کے ساتھ حرکات دہرا رہا تھا، یہ یاد دلاتے ہوئے کہ یہ روایت عجائب گھروں میں نہیں بلکہ انسانوں کی یادداشت اور جسم میں زندہ ہے۔ابرار فلموں کے خواب لے کر آئے تھے، مگر حقیقت کی ایک جھلک لے کر لوٹے، یہ سمجھتے ہوئے کہ ایک ثقافت ایک وقت میں ایک مکے کے ساتھ اپنی روح کو کیسے نسل در نسل منتقل کرتی ہے ۔
مکوں اور حرکات کے ذریعے بین الثقافتی مکالمہ: پاکستانی نوجوان کا چینی مارشل آرٹس کا تجربہ



