چین کی قدیم درسگاہیں مشرقی دانش کے ذریعے بین الثقافتی روابط کو فروغ دینے کا وسیلہ

نان چھانگ، چین (شِنہوا) ایک ایسے وقت میں جب دنیا مختلف تہذیبوں کے درمیان مکالمے کے ساتھ ساتھ اپنی جداگانہ شناخت برقرار رکھنے کے طریقے تلاش کر رہی ہے، “شویوآن” یعنی قدیم چینی درسگاہیں چینی تاریخ سے ایک رہنما بن کر ابھری ہیں۔
تانگ عہد (618-907) میں قائم ہونے والی “شویوآن” منفرد چینی ادارے تھے، جہاں تعلیم، کتب خانے، مذہبی و رسمی سرگرمیاں اور علمی مباحثے یکجا ہوتے تھے۔ سونگ عہد (960-1279) تک یہ چین کے اہم فکری مراکز بن چکے تھے، جہاں سکالرز تنقیدی سوچ، سنجیدہ مکالمے اور مباحثوں میں حصہ لیتے تھے۔
چینی “شویوآن” کی دانش مغرب تک منگ عہد (1368-1644) میں پہنچی۔ 16 ویں صدی کے اواخر میں اطالوی مبلغ میٹیو ریچی نان چھانگ میں واقع یوژانگ اکیڈمی گئے اور اس وقت کے ممتاز بائی لوڈونگ (سفید ہرن غار) اکیڈمی کے سربراہ ژانگ ہوانگ سے رفاقت اختیار کی۔ ریچی مغربی فلکیات، جغرافیہ اور ریاضی کا علم لائے جبکہ ژانگ ہزاروں سال پرانی کنفیوشس تعلیمات کے وارث تھے۔ ریچی نے ژانگ کی رہنمائی میں کنفیوشس کلاسکس کا مطالعہ کیا، جبکہ ژانگ نے مغربی جغرافیائی علم کو اپنے کام میں شامل کیا، یہ باہمی احترام اور تبادلے کی ایک مثال تھی۔
ریچی نے روم کو لکھے گئے ایک خط میں ذکر کیا کہ انہیں چینی کلاسیکی متون میں کئی ایسی باتیں ملیں جو ان کے مذہبی عقائد سے ہم آہنگ تھیں۔
جیانگ شی اکیڈمی آف سوشل سائنسز کے صدر شیاؤ ہونگ بو کے مطابق “اختلاف کے باوجود اتفاق تلاش کرنا اور تبادلے کے ذریعے ہم آہنگی پیدا کرنا” روایتی چینی ثقافت کی ایک اہم دانش ہے، جو اختلافات سے نمٹنے اور تنازعات کے حل میں مدد دیتی ہے۔
یہ مکالمے کا جذبہ آج بھی زندہ ہے۔ اکتوبر 2025 میں 51 ممالک اور خطوں سے تقریباً 200 سکالرز نے صوبہ فوجیان کی کاؤتنگ اکیڈمی میں ژو شی کے فلسفے اور عالمی تہذیبی مکالمے پر کانفرنس میں شرکت کی، جہاں یہ جائزہ لیا گیا کہ چینی مفکر ژو شی کی تعلیمات تہذیبی تصادم کے حل میں کیسے مدد دے سکتی ہیں۔
یونیسکو کی سابق جنرل کانفرنس کی صدر سیمونا میریلا میکولیسکو نے کہا کہ ژو شی کا علم اور اخلاق کو لازم و ملزوم سمجھنے کا نظریہ یونیسکو کے اس مشن سے ہم آہنگ ہے جس کا مقصد باہمی احترام، تعلیم اور سمجھ بوجھ کے ذریعے امن قائم کرنا ہے۔
ایک ایسے وقت میں جب “تہذیبوں کے تصادم” کا نظریہ اب بھی دنیا میں موجود ہے اور تقسیم و تنازعات انسانی ترقی میں رکاوٹ ہیں، چینی درسگاہیں اپنی ہزار سالہ روایت کے ساتھ ایسا مشرقی فہم پیش کرتی ہیں جو مکالمے اور تعاون کو فروغ دیتا ہے۔



  تازہ ترین   
خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کا فیصلہ پہلے ہو جانا چاہیے تھا: نواز شریف
امریکا کی ایران کو جوہری معاہدہ نہ کرنے پر تباہ کرنے کیلئے فوجی کارروائی کی دھمکی
مصر کا سعودی عرب کے دفاع کیلئے ہر ممکن اقدامات اٹھانے کا اعلان
فرانس میں مظاہرے، 5 لاکھ افراد شریک، لوٹ مار، ہنگامہ آرائی، 400 گرفتار
مودی کی بدترین پالیسیوں کیخلاف بھارتی نوجوانوں کی آواز بیرون ملک بھی پہنچ گئی
یوکرینی صدر زیلنسکی کا روسی آئل ریفائنریوں پر حملے دوبارہ شروع کرنے کا اعلان
خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کا ملکی مفاد میں فیصلہ کیا، اچھے نتائج نکلیں گے: وزیراعظم
خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کا فیصلہ پہلے ہو جانا چاہیے تھا: نواز شریف





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر