پاکستانی طالب علم چین میں بائیوٹیکنالوجی کے خوابوں کی تعبیر کے لئے کوشاں

ہیفے (شِنہوا) چین کے مشرقی صوبے آنہوئی کے دارالحکومت ہیفے میں تقریباً ہر صبح محمد جلال خود کو ایک لیبارٹری کے شیلف اور آلات کے درمیان گھرے ہوئے پاتے ہیں جہاں وہ مختلف قسم کے تجرباتی ڈیٹا اکٹھا کرتے ہیں۔بائیوٹیکنالوجی میں انڈرگریجویٹ کرنے والے 24 سالہ جلال کا کہنا ہے کہ بائیوٹیکنالوجی میں چین کی حیران کن ترقی اور سائنسی تحقیق کی مضبوط صلاحیت مجھے ہمیشہ متاثر کرتی ہے۔ یہاں تعلیم حاصل کرنا مجھے میرے خواب کے بہت قریب لے آیا ہے۔ چین میں اپنے گزشتہ 3 سال کے دوران انہوں نے ملک کے سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں ہونے والی تیز رفتار ترقی کا خود مشاہدہ کیا ہے۔جلال کا چین کے ساتھ لگاؤ بچپن کے ایک خاص تجربے سے شروع ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں ہمارے خاندان کی ایک چینی ڈاکٹر سے گہری دوستی تھی، جن کے پیشہ ورانہ جذبے نے مجھ پر گہرا اثر ڈالا۔ اس کے علاوہ، کینسر کے بارے میں ایک کتاب نے مجھے اس شعبے میں تحقیق کی ترغیب دی۔ جلال جینیات اور مالیکیولر بائیولوجی میں چین کی پیشرفت اور سائنسی کامیابیوں کے عملی اطلاق سے بے حد متاثر ہیں۔جلال کہتے ہیں کہ چینی سائنسدانوں کو حیرت انگیز رفتار سے ویکسین تیار کرتے دیکھ کر مجھے بائیوٹیکنالوجی کی طاقت کا احساس ہوا۔ اس لمحے مجھے یقین ہو گیا کہ یہی وہ راستہ ہے جس پر میں چلنا چاہتا ہوں۔ انہوں نے مزید کہا کہ چین سائنس اور ٹیکنالوجی میں اعلیٰ معیار کی خود انحصاری کے لئے پرعزم ہے۔جلال نے کہا کہ آج کل سائنسی تحقیق میں روبوٹس اور مصنوعی ذہانت کا وسیع استعمال ہو رہا ہے جو سائنس کی حدود کو وسعت دے رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ چین میرے لئے بائیوٹیکنالوجی کی گہرائی میں جانے اور اپنے خوابوں کو پورا کرنے کا بہترین مقام ہے۔فی الوقت جلال اور ان کے چینی ہم جماعت بڑی آنت کے سرطان کی وجوہات پر مشترکہ تحقیق کر رہے ہیں جس میں وہ کینسر کے علاج کے لئے نئی پیش رفت حاصل کرنے کی کوشش میں متعلقہ ادویات کی تاثیر کی جانچ اور تصدیق کر رہے ہیں۔ ان کے دن مکمل طور پر لیبارٹری کے کام میں گزرتے ہیں اور ان کے سپروائزر کی محتاط رہنمائی اور صبر آزما تربیت ان کے تحقیقی سفر میں ایک مضبوط سہارے کا کام کرتی ہے۔چین نے ترقی اور اختراع کو تقویت دینے اور اعلیٰ معیار کے کھلے پن کو فروغ دینے کی خاطر 2026 کے لئے ایک مفصل پالیسی مجموعہ پیش کیا ہے۔ چین اپنی سروسز مارکیٹ تک رسائی کو مزید وسعت دے گا، جس میں ٹیلی کام اور بائیوٹیکنالوجی کے شعبوں کے ساتھ ساتھ مکمل طور پر غیر ملکی ملکیتی ہسپتالوں میں آزمائشی منصوبے بھی شامل ہوں گے۔ان نئی کامیابیوں نے جلال کو بے پناہ جوش و خروش سے بھر دیا ہے۔ جلال کی نظر میں یہ پالیسیاں نہ صرف چین کی حیاتیاتی ادویات کی صنعت کی ترقی میں ایک نئی روح پھونک رہی ہیں بلکہ بین الاقوامی تبادلوں اور تعاون کے لئے ایک وسیع پلیٹ فارم بھی فراہم کر رہی ہیں۔ جلال نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ بین الاقوامی طلبہ کو سائنسی اور تکنیکی اختراع کے مواقع بانٹنے اور آپس میں رابطے کے قابل بناتا ہے۔جلال کے مطابق چین کی نئی معیاری پیداواری قوتوں کی ترقی زندگی اور تحریک سے بھرپور ہے اور مصنوعی ذہانت اور بائیو میڈیسن کے گہرے ملاپ کے ساتھ ساتھ سائنس، ٹیکنالوجی اور صنعت کے شعبوں میں ہونے والی اختراعات نے مسلسل نئے مواقع پیدا کئے ہیں۔جلال نے اپنی بات کا اختتام کرتے ہوئے کہا کہ اس کھلے ماحول نے سائنسی تعاون کے مزید مواقع پیدا کئے ہیں۔ مجھے امید ہے کہ ایک دن چین اور پاکستان کے محققین کینسر جیسے چیلنجز سے نمٹنے کے لئے ہاتھ ملائیں گے اور یہ خواب اب بالکل قریب محسوس ہوتا ہے۔



  تازہ ترین   
سیکورٹی فورسز نے اسلام آباد، راولپنڈی میں 2 ڈرونز مار گرائے
وزیراعظم شہبازشریف کا پیٹرول اور ڈیزل کی مزید قیمتیں نہ بڑھانے کا فیصلہ
اسلام آباد ائیر پورٹ پر پروازوں کو عارضی طور پر معطل کر دیا گیا
آپریشن غضب للحق، افغان طالبان رجیم کے ہلاک کارندوں کی تعداد 663 ہو گئی
لکی مروت: پولیس گاڑی کے قریب دھماکا، ایس ایچ او سمیت 6 اہلکار شہید
ایران کی اسرائیل اور امریکا کے اڈوں پر بمباری، عراق میں جنگجوؤں نے امریکی طیارہ مار گرایا
مشرق وسطیٰ میں کشیدگی فوری ختم کی جائے، پاکستان کا سلامتی کونسل میں مطالبہ
وزیراعظم کی سعودی ولی عہد سے ملاقات، مکمل یکجہتی اور بھرپور حمایت کا اعادہ





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر