بیجنگ (شِنہوا) چین کے ایک قومی سیاسی مشیر نے کہا ہے کہ چین کے مکاؤ خصوصی انتظامی خطے نے 4 اہم قومی لیبارٹریاں قائم کر دی ہیں، جو روایتی چینی طب، مائیکرو الیکٹرونکس، سمارٹ سٹی انٹرنیٹ آف تھنگس اور قمری و سیاروی علوم کے شعبوں کا احاطہ کرتی ہیں۔
مکاؤ یونیورسٹی آف سائنس و ٹیکنالوجی کی کونسل کی نائب چیئر پرسن چھن جی من، جو چینی عوامی سیاسی مشاورتی کانفرنس کی 14 ویں قومی کمیٹی کے چوتھے اجلاس میں شرکت کے لئے بیجنگ میں موجود ہیں، نے کہا کہ جامعات اور کلیدی قومی لیبارٹریوں پر انحصار کرتے ہوئے اور بڑے قومی منصوبوں میں شرکت کے ذریعے مکاؤ نے نوجوان سائنسدانوں کی ایک بڑی تعداد کو پروان چڑھایا ہے اور دنیا کے صف اول کے محققین کی بڑی تعداد کو گوانگ ڈونگ- ہانگ کانگ- مکاؤ عظیم تر خلیجی علاقے کی طرف راغب کیا ہے۔
اجلاس کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مکاؤ ایس اے آر نے 1999 میں مادر وطن میں واپسی کے بعد سے اپنی اعلیٰ تعلیم میں تحقیق اور تکنیکی اختراع پر زور دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس مدت کے دوران مکاؤ کی جامعات میں زیر تعلیم طلبہ کی تعداد 8 ہزار سے بڑھ کر 62 ہزار ہوگئی ہے، جامعہ کے تحقیقی عملے کی تعداد 13 سے بڑھ کر ایک ہزار 773 ہوگئی ہے جو 136 گنا اضافہ ہے۔9 ہزار سے زیادہ انڈر گریجویٹس اور پوسٹ گریجویٹس سائنس وٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مکاؤ خود کو اعلیٰ صلاحیتوں کے حامل افراد کے لئے ایک بین الاقوامی مرکز کے طور پر تشکیل دے رہا ہے جو عالمی مہارت کو اکٹھا کرتا ہے اور ملکی و بین الاقوامی تعاون پر مبنی اختراع کو جوڑتا ہے۔
چین کے مکاؤ خصوصی انتظامی خطے نے 4 اہم قومی لیبارٹریاں قائم کر دیں



