اسلام آباد (نیشنل ٹائمز) وفاقی دارالحکومت میں قومی سلامتی سے متعلق اہم مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے عدالت نے چار سرکاری ملازمین کو روسی ایجنٹ کو حساس خفیہ معلومات فراہم کرنے کے جرم میں قید کی سزائیں سنا دیں۔
عدالت نے یہ فیصلہ آفیشل سیکرٹس ایکٹ 1923 کی دفعہ 3 اور 4 کے تحت سنایا۔ کیس کی سماعت جج طاہر عباس سپرا کی عدالت میں ہوئی، جہاں شواہد کی بنیاد پر ملزمان کو قصوروار قرار دیا گیا۔
عدالت نے ملزم صفدر رحمان کو 10 سال قید کی سزا سنائی، جبکہ دیگر ملزمان تنزیل الرحمان، محمد وقار اور محمد طاہر کو بالترتیب 5، 5 اور 5 سال قید بامشقت کی سزائیں دی گئیں۔
عدالت نے دو دیگر ملزمان مجتبیٰ اور محمد اشفاق کو ناکافی شواہد کی بنیاد پر بری کر دیا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ان دونوں کا مبینہ روسی ایجنٹ سے براہ راست رابطہ یا خفیہ معلومات کی منتقلی ثابت نہیں ہو سکی۔
یہ مقدمہ وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) نے گزشتہ سال درج کیا تھا۔ تفتیش کے مطابق ملزمان مبینہ طور پر روس کے سفارتخانہ اسلام آباد سے منسلک ایک مشتبہ ایجنٹ کے ساتھ رابطے میں تھے اور پاکستان کے دفاعی شعبے سے متعلق انتہائی حساس معلومات فراہم کر رہے تھے۔
حکام کے مطابق یہ معلومات وزارت دفاعی پیداوار پاکستان سے متعلق تھیں، جو ملک کی دفاعی ضروریات اور پیداواری صلاحیتوں سے متعلق ایک اہم ادارہ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کی معلومات کے افشا ہونے سے قومی سلامتی اور دفاعی مفادات کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
کیس کی تفتیش کے دوران ملزمان کے فون ریکارڈز، ملاقاتوں اور دیگر شواہد کا جائزہ لیا گیا جس کی بنیاد پر عدالت نے فیصلہ سنایا۔ عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ قومی سلامتی کے معاملات میں کسی قسم کا سمجھوتہ قابل قبول نہیں۔
ذرائع کے مطابق اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا سزا یافتہ ملزمان عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرتے ہیں یا نہیں۔ اس واقعے کے بعد سیکیورٹی اداروں نے دفاعی اداروں میں خفیہ معلومات کے تحفظ کو مزید سخت بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے۔



