اسلام آباد (نیشنل ٹائمز)نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی نے پاکستانی شہریوں کیلئے بڑا ریلیف فراہم کرتے ہوئے اعلان کیا کہ اب پیدائشی سرٹیفکیٹ کے بغیر بھی قومی شناختی کارڈ بنایا جا سکے گا۔ تاہم یہ سہولت مشروط ہوگی اور اس سے استفادہ کرنے کے لئے شہریوں کو متبادل طریقوں سے اپنی شناخت ثابت کرنا ہوگی۔ یہ سہولت پہلی بار شناختی کارڈ بنوانے والوں کیلئے 31 دسمبر 2026 تک دستیاب رہے گی ، ترجمان نادرا کے مطابق اس نئے طریقہ کار کے تحت مختلف درخواست گزاروں کیلئے الگ الگ شرائط مقرر کی گئی ہیں ،18سال یا اس سے زائد عمر کی شادی شدہ خواتین کیلئے نکاح نامہ پیش کرنا لازمی ہوگا۔اس کے ساتھ ان کے والد یا والدہ اور شوہر کا قومی شناختی کارڈ بنا ہونا چا ہئے ، جبکہ ان کی با ئیومیٹرک تصدیق بھی ضروری ہوگی، 24 سال یا اس سے زائد عمر کے مردوں کیلئے ان کے والد یا والدہ اور کسی ایک بہن یا بھائی کا شناختی کارڈ بنا ہوا ہو۔ اس کے علاوہ والدین میں سے کسی ایک کی بائیومیٹرک تصدیق لازمی ہے ۔ اگر والدین اور شوہر دونوں فوت ہو چکے ہوں لیکن نادرا کے ریکارڈ میں ان کا اندراج موجود ہو تو بائیومیٹرک تصدیق کی شرط میں نرمی برتی جا سکے گی۔نادرا نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ پہلی بار نان سمارٹ کارڈ بنوانے پر کوئی فیس وصول نہیں کی جائے گی۔ تاہم شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ رجسٹریشن کے وقت درست معلومات فراہم کریں، کیونکہ ولدیت، تاریخِ پیدائش اور جائے پیدائش میں بعد ازاں کسی قسم کی تبدیلی نہیں کی جا سکے گی۔
پیدائشی سرٹیفکیٹ کے بغیر شناختی کارڈ بنانیکی مشروط اجازت



