جرمن کمپنیاں چین میں زیادہ پرامید، مضبوط شراکت داری کے لئے کوشاں

برلن(شِنہوا)ایک سالانہ سروے کے مطابق چین میں کام کرنے والی جرمن کمپنیاں اپنے کاروباری مستقبل کے بارے میں زیادہ پرامید ہو گئی ہیں اور وہ چینی شراکت داروں کے ساتھ تعاون کو مزید مضبوط بنانے کا ارادہ رکھتی ہیں، جس سے ان کے سب سے بڑی ایشیائی منڈی میں مضبوط شمولیت کا اظہار ہوتا ہے۔
چین میں جرمن چیمبر آف کامرس (اے ایچ کے چائنہ) نے 2025/2026 کے کاروباری اعتماد کے سروے میں کہا ہے کہ 93 فیصد شرکا ءچینی منڈی میں سرگرم رہنے کا ارادہ رکھتے ہیں جو گزشتہ سال کے مقابلے میں زیادہ پرامیدی کو ظاہر کرتا ہے۔
تقریباً 65 فیصد نے کہا کہ وہ اگلے پانچ سال میں چین کی اقتصادی ترقی کے بارے میں پراعتماد ہیں جبکہ باقی بیشتر نے معتدل رجحان کا اظہار کیا۔
سروے میں شامل 627 جرمن کمپنیوں میں سے نصف سے زیادہ اگلے دو سال کے اندر چین میں سرمایہ کاری بڑھانے کا منصوبہ رکھتی ہیں، خاص طور پر دھات کی مصنوعات، گاڑیوں، الیکٹرانکس، کیمیکل اور نقل وحمل کے شعبے میں تاکہ مقابلہ برقرار رکھا جا سکے، مقامی نوعیت کو فروغ دیا جا سکے اور چینی شراکت داروں کے ساتھ مشترکہ جدت کو بڑھایا جا سکے۔
چیمبر کے مطابق تقریباً دو تہائی جرمن کمپنیاں اپنے چینی ہم منصبوں کو ممکنہ جدت کے رہنما کے طور پر دیکھتی ہیں اور یہ رجحان تعاون کے طریقوں کو بدل رہا ہے۔
سروے کے مطابق 56 فیصد کمپنیوں کا مقصد چینی ہم منصبوں کے ساتھ حکمت عملی کی شراکت داری یا جوائنٹ وینچر جیسے تعاون کے طریقوں کے ذریعے تعلقات کو بڑھانا ہے تاکہ علم کے تبادلے اور ترقی کو فروغ دیا جا سکے۔ چیمبر کے مطابق چینی شراکت دار جرمن کمپنیوں کی حکمت عملی کی ایک بنیاد بن جاتے ہیں۔
چیمبر کے نارتھ چائنہ شاخ کے چیئرپرسن مارٹن ہوف مین نے کہا کہ چینی کمپنیوں کے ساتھ جدید شراکت داریاں اور تیسرے مرحلے کی لوکلائزیشن جو تحقیق و ترقی (آر اینڈ ڈی) اور صنعتی کاری کی رفتار پر مرکوز ہے، جرمن کمپنیوں کے لئے چین کی منڈی میں اپنا مقام مضبوط بنانے اور نہ صرف مقامی بلکہ عالمی سطح پر بہترین جدت کو آگے بڑھانے کے لئے اہم حکمت عملی بن گئی ہیں۔
چینی مارکیٹ میں جدت کی رفتار بڑھنے کے ساتھ جرمن کمپنیاں وہاں تیار کی جانے والی صلاحیتوں سے زیادہ فائدہ اٹھا رہی ہیں۔ سروے میں بتایا گیا کہ علم کا تبادلہ اب روایتی ایک طرفہ طریقے سے بدل کر دو طرفہ ہو گیا ہے، یعنی پہلے ہیڈکوارٹرز چینی ذیلی کمپنیوں کو تکنیکی اور مصنوعات کی مہارت دیتے تھے جبکہ اب یہ تبادلہ دونوں طرف سے ہو رہا ہے۔
40 فیصد شرکاء نے کہا کہ اب جدت اور کارکردگی کے حل چین سے واپس جرمنی کے صدر دفتر خاص طور پر مشینری اور آٹوموٹو صنعتوں تک پہنچتے ہیں ۔
چیمبر نے یہ بھی کہا کہ چین اور جرمنی کے درمیان اچھے تعلقات اور چین اور یورپی یونین کے تعلقات ان کمپنیوں کی کاروباری کامیابی کے لئے بہت اہم ہیں کیونکہ دو تہائی شرکاء نے کہا کہ ان کی چین میں سرگرمیاں دو طرفہ تعلقات سے جڑی ہوئی ہیں۔
سروے میں بھی بتایا گیا کہ جرمن کمپنیاں توقع کرتی ہیں کہ جرمن حکومت جرمنی میں چین کے تشخص کو بہتر بنانے کے لئے مزید اقدامات کرے۔



  تازہ ترین   
آزاد کشمیر: 2 حلقوں کے 23 سٹیشنوں پر ری پولنگ، ایل اے 17 سے فیصل راٹھور کامیاب
سابق فوجیوں کا تجربہ اور رہنمائی پاک فوج کا ادارہ جاتی اثاثہ ہے: فیلڈ مارشل
وزیراعظم کی سیلاب متاثرین کو ہر ممکن امداد فراہم کرنے کی ہدایت
بیوروکریٹس ہی اصل اور مستقل حکمران، کسی نے احتساب نہیں کیا: خواجہ آصف
صدر ٹرمپ نے مذاقاً آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دیا: وائٹ ہاؤس
دنیا بھر میں کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں، آسام، ناگالینڈ، منی پور میں بھی بھارت کا بائیکاٹ
تعمیراتی شعبے کی ترقی کیلئے ڈویلپمنٹ بورڈ اور الگ بینک بنانے کی تجویز
ملک بھر میں آج 79 واں جشن آزادی ملی جوش و جذبے کے ساتھ منایا جارہا ہے





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر