اسلام آباد (نیشنل ٹائمز) حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ، مشعال ملک نے ایک وڈیو پیغام میں عالمی برادری، انسانی حقوق کی تنظیموں اور دنیا بھر کے با شعور انسانوں سے درد مندانہ اپیل کی ہے کہ وہ یاسین ملک کی گرتی ہوئی صحت کے حوالے سے فوری آواز بلند کریں۔
مشعال ملک نے کہا کہ “میری اپیل ایک ماں، ایک بیوی یا بیٹی کی نہیں بلکہ پوری انسانیت کے ضمیر کی ہے۔ یاسین ملک اس وقت موت و زندگی کی کشمکش میں مبتلا ہیں، اور بھارتی جیل میں انہیں طبی سہولیات سے محروم رکھا جا رہا ہے۔”
انہوں نے انکشاف کیا کہ یاسین ملک کے دل میں 1990 میں لگایا گیا میٹلک والو اب ناکارہ ہو چکا ہے، اور ان کی حالت آئی سی یو کی متقاضی ہے، مگر انہیں تاحال کوئی طبی سہولت فراہم نہیں کی گئی۔
“خوراک میں زہر دیے جانے کی اطلاعات اور دل کی بیماری سب کچھ ایک ہی طرف اشارہ کر رہا ہے – اگر ہم خاموش رہے تو بہت دیر ہو جائے گی،” مشعال ملک نے خبردار کیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ صرف ایک شخص کے ساتھ زیادتی نہیں، بلکہ انسانیت پر حملہ ہے۔ “یہ جنگ صرف یاسین ملک کی نہیں، بلکہ حق، سچ اور انصاف کی بقا کی جنگ ہے۔ اگر ان کی جان کو کچھ ہوا تو اس کے اثرات پورے خطے کو لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔”
مشعال ملک نے عالمی اداروں، انسانی حقوق کے علمبرداروں اور دنیا بھر کے انصاف پسند انسانوں سے اپیل کی کہ وہ خاموش نہ رہیں، اور فوری عمل کریں۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ عالمی میڈیکل تنظیمیں اس سنگین انسانی مسئلے پر خاموش کیوں ہیں؟ “یاسین ملک کی زندگی خطرے میں ہے، وقت کم ہے، عمل فوری درکار ہے۔”
مشعال ملک نے بتایا کہ اس وقت کشمیر، پاکستان اور دنیا بھر میں یاسین ملک کی صحتیابی کے لیے دعاؤں اور احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔



