سرگودھا(نیشنل ٹائمز)چیئرمین دنیا میڈیا گروپ میاں عامر محمود نے کہا ہے کہ ہمارا مقصد بہتر پاکستان تشکیل دینا ہے، نظام کو بدلنے کیلئے آواز بلند کرنا ہوگی، صوبے چھوٹے کرنے سے اخراجات کم ہوں گے اور وسائل لوگوں تک پہنچیں گے۔
ایسوسی ایشن آف پرائیویٹ سیکٹر یونیورسٹیز آف پاکستان (ایپ سپ) کے زیر اہتمام آگاہی سیمینار “2030 کا پاکستان: چیلنجز، امکانات اور نئی راہیں” سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین دنیا میڈیا گروپ میاں عامر محمود کا کہنا تھا کہ ملک اس لئے بنتے ہیں کہ وہ اپنی قوم کی بہتر فلاح وبہبود کر سکیں، ایسے ملک بھی ہیں جن کی آبادی ڈیڑھ سو کروڑ ہے، بڑے ملک خود کو سٹیٹس اور پھر اس کو لوکل گورنمنٹس میں تقسیم کرتے ہیں، لوکل گورنمنٹ آپ کے گھر کی دہلیز پر مسائل کو حل کرتی ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ پاکستان 25 کروڑ آبادی کا ملک ہے اور صرف 4 صوبے ہیں، پنجاب باقی تمام تین صوبوں سے بڑا ہے، بلوچستان رقبے کے لحاظ سے بڑا ہے جس کی وجہ سے وہاں محرومیاں ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ پچھلے 80 سالوں میں پاکستان میں اب تک صرف 5 شہروں کو ترقی دی گئی، کراچی سے باہر نکلیں تو باقی سندھ آپ کو کچی آبادی کی طرح نظر آئے گا، بلوچستان میں کوئٹہ کے علاوہ کوئی شہر ڈویلپ نظر نہیں آئے گا۔چیئرمین دنیا میڈیا گروپ نے کہا ہے کہ ادارے کمزور ہوں تو کرپشن زیادہ ہوتی ہے، پنجاب کی آبادی 13 کروڑ ہے اور ایک وزیراعلیٰ ہے، پنجاب اگر ملک ہو تو یہ دنیا کا چھٹا یا ساتواں بڑا ملک ہوگا، دنیا میں بہت بڑے بڑے ملک ہیں جہاں ویلفیئر بھی ہو رہی ہے اور ترقی بھی کر رہے ہیں۔میاں عامر محمود کا کہنا تھا کہ بھارت ہمارے ساتھ ہی آزاد ہوا، تب اس کی 9ریاستیں تھیں، بھارت میں آج 37انتظامی یونٹس ہیں، صرف پاکستان وہ ملک ہے جو 4 صوبے لیکر بیٹھا ہوا ہے، باقی بڑے ممالک میں لوکل گورنمنٹ بھی موجود ہے، بلوچستان صرف 11 لاکھ کی آبادی کا صوبہ تھا آج اس کی آبادی ڈیڑھ کروڑ ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارا ایک تھنک ٹینک ہے جس میں دیکھتے ہیں کہ گورننس کیسے بہتر ہوسکتی ہے، ہماری تجویز ہے پاکستان کے ہر ڈویژن کو صوبہ بنانا چاہیے، ہم ہر ڈویژن کو صوبہ بنا دیں تو یہ 33 صوبے بن جائیں گے، مخالفت میں ایک بات آتی ہے کہ صوبے بنانا اچھی بات ہے لیکن اخراجات زیادہ ہوجائیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ صوبہ چھوٹا کرنے سے اخراجات کم ہوں گے، وزیراعلیٰ پنجاب اور بلوچستان کا پروٹوکول دیکھ لیں تو فرق نظر آئے گا، ہم 4 صوبے لیکر 80 سال بیٹھے رہے اس کا کچھ نتیجہ نہیں نکلا، قانون کی بالادستی کے حوالے سے سروے میں ہم 142 ممالک میں 129 نمبر پر ہیں، گلو بل ہنگر انڈیکس میں 129 ممالک کا سروے کیا گیا جس میں ہم 109 پر ہیں۔چیئرمین دنیا میڈیا گروپ نے کہا کہ ہم اپنے لوگوں کو پیٹ بھر کر کھانا نہیں دے پا رہے، ہمارے 44 فیصد بچوں کی اسٹنٹنگ گروتھ ہو رہی ہے، یہ 44 فیصد بچے مستقبل میں راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ ہوں گے، جن کی اسٹنٹنگ گروتھ ہو رہی ہے وہ خود بھی کام نہیں کر پائیں گے اور آپ کو بھی نہیں کرنے دیں گے۔میاں عامر محمود کا کہنا تھا کہ ہم نے اس نظام کو بدلنے کیلئے آواز بلند کرنی ہے، چھوٹے صوبے ہونے سے وسائل لوگوں تک پہنچیں گے، ہمارے ملک میں ڈھائی کروڑ بچے سکول نہیں جاتے، آپ کے پاس 15 سال بعد ایسے نوجوان ہوں گے جو کوئی کام کر ہی نہیں سکیں گے، آپ کو 15 سال بعد مزدور بھی پڑھا لکھا چاہیے ہوگا، آج ہم اگر کام نہیں شروع کرتے تو آنے والے 20 سال بھی خراب کر لیں گے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک میں جنگ نہیں لگی ہوئی، تمام بڑے ممالک میں 30 سے زیادہ ہی صوبے ہیں، ہم وہ واحد عقل مند ہیں جو 4 صوبے لے کر بیٹھے ہیں، باقی دنیا چھوٹے صوبوں پر پہلے سے کام کر رہی ہے۔قبل ازیں چیئرمین ایپ سپ چودھری عبدالرحمان نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ میاں عامر محمود کو ملک کے ہمدرد کے طور پر دیکھتا ہوں، انہوں نے اس ملک کو 400 کالجز، 3 خوبصورت یونیورسٹیاں دیں۔ان کا کہنا تھا کہ وہی زندہ قومیں کہلاتی ہیں جو اپنے ہیروز کو یاد رکھتی ہیں، پاکستان کو بنے تقریباً 80 برس ہوچکے ہیں، ہماری ذمہ داری ہے کہ نوجوانوں کو صحیح راستہ دکھائیں، ہمیں اس نظام کو دیکھنا پڑے گا کہ اس نے 80 سال میں ملک کو دیا کیا ہے۔چودھری عبدالرحمان نے مزید کہا ہے کہ ہر ایک شعبے میں ہمارا آخری نمبر ہی کیوں ہے؟ ہمیں خرابیوں کو ٹھیک کرنا پڑے گا، ہمیں اپنے اصل ہیروز کو پہچاننا ہوگا، ہمارے پاس سب سے بڑی طاقت نوجوان ہیں، ہمارے ملک میں 60 فیصد سے زیادہ نوجوان ہیں، انشاءاللہ ایک دن سرگودھا بھی صوبہ بنے گا۔
بہتر پاکستان کی تشکیل مقصد، نظام کی تبدیلی کیلئے آواز بلند کرنا ہوگی: میاں عامر محمود



