لاہور (نیشنل ٹائمز) وزیراعظم شہبازشریف نے مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف اوروزیراعلیٰ مریم نواز شریف سے جاتی امرامیں ملاقات کی ،جس میں پیپلزپارٹی کیساتھ بیان بازی اور اختلافات ختم کرنے پر اتفاق کیاگیا۔
شہبازشریف نے نوازشریف کو پیپلزپارٹی سے رابطوں ،آزادکشمیر کی صورتحال اور بیرون ملک دوروں میں اپنی ملاقاتوں کے حوالے سے بریفنگ بھی دی ،وزیراعظم نے جے یوآئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمن سے ٹیلفونک رابطے میں غزہ کی صورت حال پر تبادلہ خیال بھی کیا۔تفصیلات کے مطابق جاتی امرا میں وزیراعظم کی نوازشریف اور مریم نواز سے اہم ملاقات ہوئی جس میں پیپلز پارٹی کے ساتھ سیز فائر پر اتفاق کیا گیا اورباہمی مشاورت کے ذریعے اختلافات کو مرحلہ وار ختم کرنے پر زور دیا گیا۔ مریم نواز نے پیپلز پارٹی کے ساتھ اختلافات کے پس پردہ محرکات سے آگاہ کیا جبکہ وزیراعظم نے پارٹی قائد کو پیپلز پارٹی قیادت سے رابطوں کے بارے میں بریفنگ دی۔نواز شریف نے فلسطین میں قیام امن کیلئے حکومت کی کوششوں کی ستائش کی اور وزیراعظم شہباز شریف نے نوازشریف کو آزاد کشمیر کی صورتحال پر بریفنگ دی۔وزیراعظم نے آزاد کشمیر میں کشیدگی کے خاتمے اور طے پانے والے معاہدے کی تفصیلات سے نواز شریف کو آگاہ کیا جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ اور عرب سربراہوں کے تازہ رابطوں کی بھی معلومات فراہم کیں۔نواز شریف نے کہا کہ پاک سعودی معاہدے نے پاکستان کی اہمیت مزید بڑھا دی ہے اور اختلافی امور کو باہمی مشاورت سے حل کیا جائے گا۔انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ کشمیریوں کے جائز مطالبات پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے اور کشمیر میں فسادات کو ہوا دینے والوں کا سدباب کیا جائے ۔پیپلزپارٹی کیساتھ بیان بازی اور اختلافات ختم کرنے کے حوالے سے حکومت نے پیپلزپارٹی سے ایک بار پھر رابطہ کیا ، جس میں پی پی قیادت کی وطن واپسی سے متعلق معلومات لی گئی ہیں۔ پی پی ذرائع کا کہنا ہے کہ پیپلزپارٹی نے حکومت کو قیادت کی وطن واپسی سے متعلق آگاہ کردیا، صدر زرداری 9 اکتوبر اوربلاول بھٹو 11 اکتوبر کے بعد پاکستان واپس آئیں گے ۔حکومت کا پی پی قیادت سے براہ راست رابطہ کئے جانے کا امکان ہے ۔وزیراعظم شہباز شریف اور مولانا فضل الرحمن نے ٹیلفونک رابطے میں مشرق وسطیٰ میں امن ،خطے کے لوگوں کی ترقی و خوش حالی کیلئے انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیتے ہوئے کہا کہ حماس کا بیان خطے میں امن کی راہ ہموار کرنے اور فلسطینیوں کی نسل کشی روکنے کا نادر موقع ہے ۔وزیراعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور سعودی عرب کے مابین دفاعی معاہدے پر بھی تبادلہ خیال کیا۔فضل الرحمن نے معاہدے کو تاریخی قراردیا اور کہاکہ پاکستان کو حرمین شریفین کی حفاظت کی سعادت نصیب ہونا قابل مسرت ہے ۔غزہ کے حوالے سے شہبازشریف نے کہا کہ پاکستان فلسطینیوں کے حقوق کیلئے ہمیشہ ان کیساتھ کھڑا رہا اورکھڑارہے گا۔دریں اثنا شہباز شریف نے ایکس پرایک پیغام میں کہاکہ غزہ جنگ بندی کے قریب پہنچ چکے ہیں، پاکستان فلسطینیوں کی حمایت ہمیشہ جاری رکھے گا۔ میں شکر گزار ہوں صدر ٹرمپ کے ساتھ ساتھ قطر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، ترکی، اردن، مصر اور انڈونیشیا کی قیادت کا، جنہوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اجلاس کے موقع پر امریکی صدر ٹرمپ سے فلسطینی مسئلے کے حل کے لئے ملاقات کی۔ حماس کے مثبت بیان سے جنگ بندی اور امن کے قیام کیلئے ایک موقع پیدا ہوا ہے ، جسے ہمیں ضائع نہیں ہونے دینا چاہئے ۔وزیراعظم نے اساتذہ کے عالمی دن پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ قوموں کی مجموعی تعمیر و ترقی اور کسی بھی ملک کی نسلوں کی انفرادی تعلیم و تربیت میں اساتذہ کا کلیدی کردار ہے ۔ شہباز شریف آج دو روزہ سرکاری دورے پر ملائیشیا روانہ ہوں گے جہاں وہ ملائیشیا کے اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کریں گے ، وہ یہ دورہ ہم منصب انور ابراہیم کی دعوت پر کر رہے ہیں ۔
شہباز شریف کی نواز،مریم سے ملاقات،پی پی کیساتھ بیان بازی،اختلافات ختم کرنے پر اتفاق



