لاہور(نیشنل ٹائمز)مسجد نبوی شریف کے پاکستانی نژاد مدرس قاری بشیر احمد صدیق 88سال کی عمر میں مدینہ منورہ میں انتقال کرگئے جنہیں جنت البقیع میں آسودہ خاک ہونے کی سعادت بھی مل گئی۔
قاری بشیر احمد صدیق کی نماز جنازہ امام مسجد نبوی صلاح البدیر نے پڑھائی اور غیر معمولی طور پر ان کی تدفین کے عمل میں بھی شریک ہوئے ۔قاری بشیر 60 کی دہائی میں جنوبی پنجاب سے مدینہ منورہ منتقل ہوئے اور 60 سال سے مسجد نبوی میں قرآن مجید پڑھا رہے تھے ۔انہوں نے 44 سال مسجد نبوی کے ایک ستون تلے بیٹھ کر قرآن پڑھایا اور 54سال بغیر تنخواہ خدمات انجام دیں۔وہ قرآن مجید کے اعلی ٰ پائے کے استاد تھے اور مسجد نبوی کے امام و خطیب اور مدینہ منورہ کے جج عبدالمحسن قاسم اور امام مسجد نبوی صلاح البدیر ان کے شاگرد رشید ہیں۔قاری بشیر احمد صدیق مدینہ منورہ میں پاکستان کا قابل عزت حوالہ تھے ۔سعودی حکومت نے قرآن مجید کے لیے گراں قدر خدمات پر انہیں سعودی شہریت بھی دی اور وہ مدینہ منورہ کے شہری تھے ۔
مسجد نبوی کے پاکستانی نژاد مدرس قاری بشیر احمد کاانتقال ،جنت البقیع میں تدفین



