لاہور(نیشنل ٹائمز)کافی عرصے سے سیلابی صورتحال پر پیپلز پارٹی کی جانب سے پنجاب حکومت کی ریلیف سرگرمیوں سمیت بعض ایشوز پر اظہار کیے جانے والے تحفظات کی وجہ سے، پنجاب حکومت بھی شدید ردعمل پر مجبور ہو گئی۔ خود وزیر اعلیٰ مریم نواز نے فیصل آباد میں نئی بسوں کی افتتاحی تقریب میں پیپلز پارٹی کا نام لیے بغیر واضح کر دیا کہ کسی کو ہمارے معاملات میں مداخلت کا اختیار نہیں۔پنجاب اور پنجابیوں کے حوالے سے فیصلے ہمیں کرنا ہیں۔ پنجاب کے وسائل پنجاب پر خرچ کریں گے ، کسی کے دباؤ میں نہیں آنے دیں گے ۔جواباً، سندھ کے وزیر اطلاعات شرجیل میمن نے ردعمل میں کہا کہ مریم نواز کے نفرت انگیز بیان پر دکھ ہوا، اور ان کا بیان تو ہوا دینے والا ہے ۔ پیپلز پارٹی کے ردعمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ بھی پسپائی کے موڈ میں نہیں اور خصوصاً مریم نواز کی جانب سے پنجاب کے پانی اور چولستان کی نہروں کے بارے میں ان کا بیان سندھ کے لیے پریشان کن ہو گا۔ وزیر اعلیٰ کے طرز عمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ کسی دباؤ کو قبول کرنے کو تیار نہیں اور نہ ہی فیصلہ سازی پر کوئی کمپرومائز کریں گی۔لیکن بڑا سوال یہ ہے کہ ایک اتحادی سیٹ اپ میں یہ کیفیت کیسے چل پائے گی، اور کیا آپ کا تنائو نظام کے لیے خطرناک نہ ہو جائے گا؟ حقائق یہ ہیں کہ وفاق اور پنجاب میں ہر طرح کی ذمہ داری ن لیگ پر ہے ، مگر پیپلز پارٹی ذمہ داری میں حصہ دار بننے کی بجائے حکومت پر دباؤ جاری رکھے ہوئے ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ وہ حکومت میں شامل نہیں، مگر حکومت اپنی ذمہ داریاں پوری کرے ۔ اس طرزِ عمل سے حکومت پریشان دکھائی دیتی ہے ۔وفاق کی سطح پر تو وزیراعظم شہباز شریف صبر و تحمل سے کام لیتے نظر آتے ہیں، لیکن پنجاب کی سطح پر مریم نواز کسی دباؤ کو قبول کرنے کو تیار نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں انہیں پیپلز پارٹی کے سہارے کی ضرورت نہیں، اور وہ ان کا دباؤ قبول نہیں کرتیں۔ اب سیلابی صورتحال پر ان کی حکومت متحرک نظر آ رہی ہے ، اور انہوں نے بڑا پیکیج بھی دیا ہے ۔ پنجاب میں پیپلز پارٹی کا کوئی گہرا کردار نظر نہیں آ رہا۔ وہ احساس محرومی کا شکار ہے ، لہٰذا سیلاب کی بنیاد پر حکومت کو ٹارگٹ کرتی نظر آ رہی ہے ۔خصوصاً بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت متاثرین کو رقم کی فراہمی کا جواز نہیں بنایا جا سکتا، کیونکہ یہ پروگرام مستحقین کے لیے ہے ، متاثرین کے لیے نہیں۔ لہٰذا پنجاب حکومت نہ تو کسی کی مدد قبول کرنے کو تیار ہے اور نہ ہی اپنے پروگرام اور پیکیج پر تنقید برداشت کر رہی ہے ۔پیپلز پارٹی میں ردعمل ہے اور اس کا اظہار بھی ہو رہا ہے ۔ لگتا ہے کہ مریم نواز نے تنگ آ کر سخت انداز میں بول دیا ہے ۔ وہ پیپلز پارٹی کے سامنے جوابدہ نہیں بننا چاہتیں۔ مگر کیا ن لیگ اس طرزِ عمل کو برداشت کر پائے گی؟ ایسا ممکن نہیں لگتا۔ ویسے پیپلز پارٹی نے عالمی سطح پر امدادی رقم کے حصول کو بھی ایشو بنا دیا ہے ، کیونکہ حالات اور سیلاب پر جوابدہ تو ن لیگ کی حکومتیں ہیں۔جبکہ سندھ میں سیلابی صورتحال سے نقصان کم ہوا ہے ، اچھا ہوتا کہ سندھ بھی پنجاب کی طرح اپنے وسائل پر انحصار کرتا اور سیلاب پر سیاست نہ ہوتی۔ بہرحال اب تو بیانات نے جلتی پر تیل کا کام کر دیا ہے ، اور لگتا ہے کہ یہ آگ جلد بجھنے والی نہیں۔ مریم نواز نے اپنا کیس جس انداز سے پیش کیا ہے ، گیند اب پیپلز پارٹی کے کورٹ میں چلی گئی ہے ۔اب معاملہ ٹھنڈا پڑنا بعید نظر آتا ہے ۔ لگتا ہے اس حوالے سے صدر زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کو درمیان میں آنا ہوگا، ورنہ یہ تنائو کا سلسلہ مخلوط سیٹ اپ کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے ۔ البتہ، وزیرِ اعلیٰ مریم نواز کے انداز سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنی حکومت اور پنجاب کے مفادات پر کوئی کمپرومائز نہیں کریں گی۔ اس حوالے سے انہوں نے اپنے وزراء کو ہدایت کی ہے کہ وہ ہر حال میں طے شدہ پروگرام اور پیکیج پر عملدرآمد کریں اور قطعی طور پر کوئی دباؤ قبول نہ کریں۔ن لیگ کے معتبر ذرائع کے مطابق اگر پنجاب حکومت اپنے وسائل پر اکتفا کر رہی ہے تو اس پر کسی کو اعتراض کرنے کی گنجائش نہیں، جبکہ دوسری جانب پیپلز پارٹی باضابطہ طور پر ایک پریس کانفرنس کے ذریعے اس کا جواب دے گی۔
مریم نے بتا دیا کسی کو معاملات میں مداخلت کا اختیار نہیں



