بالتورو: حوصلے کی داستان

تحریر: سعدیہ نارو

بالتورو گلیشئیر برف پوش پہاڑوں میں گھرا قدرت کا عجائب خانہ ہے۔ مٹی اور پتھروں سے ڈھکے برف کے انبار، فلک بوس چوٹیوں کی خاموشی اور تیز ہوا کی سرگوشیاں۔ ایسے لگتا ہے جیسے فطرت نے اپنی تمام صناعی ایک ہی اسٹیج پر لا کھڑی کی ہو۔ ان قدرتی مظاہر کے درمیان مجھے خوشگوار حیرت ان چند بڑے پتھروں پر لکھی ہوئی سطور پر ہوئی، جو فوجی جوانوں نے اپنی تنہائی، حوصلے اور زندہ دلی کے اظہار کے طور پر درج کی تھیں۔ دور دراز کے ان برفانی علاقوں میں جہاں میلوں تک انسان کا سایہ دکھائی نہ دے، یہ اشعار پڑھ کر یوں لگا جیسے وہ جوان بھی وہی سب محسوس کرتے رہے ہوں جو اس وقت ہم پر بیت رہی تھی۔ فرق صرف اتنا تھا کہ ہم خاموش رہے اور وہ اپنے دل کا حال لفظوں کے حوالے کر گئے۔

دوپہر ایک بجے کا وقت تھا اور سورج برفانی پہاڑوں کے درمیان بھی خاصی تپش دے رہا تھا۔ گرمی اور تھکان سے ہمارے قدم بھاری ہو گئے تھے۔ ایسے ہی لمحے میں ایک پتھر پر یہ شعر لکھا نظر آیا:

منزلیں بلند ہوں تو مشکلیں بھی آتی ہیں

مشکلوں سے لڑنے کا حوصلہ تو رکھتے ہیں

شاباش جوان!! ہمت کر۔

یہ پڑھ کر جیسے قدموں کو ایک نیا ولولہ مل گیا۔ ہم نے ہنستے ہوئے ایک دوسرے کو دیکھا اور کہا:

شاباش جوان!! ہمت کر۔

گویا وہ فوجی شاعر ہمارے ساتھ چل رہا ہو اور ہمیں بار بار یاد دلا رہا ہو کہ تھکن بس ایک وہم ہے۔

دوپہر ڈھائی بجے تک ہمیں پایو کیمپ سائٹ سے نکلے اور مسلسل چلتے ہوئے سات گھنٹے ہو چکے تھے۔ جسم جیسے احتجاج میں نعرے لگا رہا تھا اور ہمت وسکت جواب دے رہی تھی تو اس وقت ایک اور شعر نظر آیا:

موسم پہاڑوں پر گھومنے کا ہے

اور حالات پہاڑوں سے کودنے والے

یہ پڑھ کر ہماری ہنسی چھوٹ گئی اور یوں ایک لمحے کے لیے تھکن ہلکی ہو گئی۔

چار بجے شام کا رنگ ابھرتا جا رہا تھا مگر ہمیں خوبورسے کیمپ سائٹ کا نشان تک نظر نہ آیا۔ میں دل ہی دل میں اس شوق پر خود کو کوس رہی تھی اور ایسے میں ایک پتھر پر یہ مصرعے نظر آئے:

اُٹھانا خود ہی پڑتا ہے تھکا ٹوٹا بدن اپنا

کہ جب تک سانس چلتی ہے کوئی کندھا نہیں دیتا

یہ پڑھ کر دل سے ایک آہ نکلی۔۔۔ واہ، کیا خوب کہا ہے۔ واقعی پہاڑوں پر انسان کو اپنا بوجھ خود ہی اٹھانا پڑتا ہے۔

بالآخر جب ہم خوبورسے کیمپ سائٹ کی دہلیز پر پہنچے تو فوجی کیمپ کی دیوار پر ایک قطعہ لکھا نظر آیا۔ ایسے لگا جیسے ہماری داستان مختصر کر کے سامنے رقم کر دی گئی ہو:

اچھا تو پھر بتائیے کیسا رہا سفر

ٹوٹی کہاں پہ جوتیاں، چھالے کہاں پڑے

کس موڑ پر جناب کی ہمت نے دم دیا

صاحب کو اپنی جان کے لالے کہاں پڑے

یوں بالتورو کی اس کٹھن مسافت میں حوالدار نیاز، سپاہی جواد، سپاہی ذیشان اور سپاہی مشاہد سے میری ملاقات تو نہ ہو سکی مگر ان کے الفاظ میرے ساتھ چلتے رہے۔ دعا ہے کہ ان کی یہ زندہ دلی سلامت رہے اور اس راہ پر آئندہ آنے والے مسافروں کو بھی یہی سہارا ملتا رہے۔



  تازہ ترین   
سہیل آفریدی جس دن پرامن احتجاج پر آئیں گے تب عمران سے ملاقات ہو گی: رانا ثنا اللہ
ترلائی امام بارگاہ کے واقعے سے پوری قوم سوگوار ہے: وزیراعظم
ڈی آئی خان : دہشت گردوں سے مقابلے میں ایس ایچ او سمیت 5 اہلکار شہید
300 یونٹ تک بجلی استعمال کرنیوالے گھریلو صارفین پر بھی فکسڈ چارجز عائد
وزیراعظم کا نیپرا کے سولر سے متعلق نئے ریگولیشنز کے اجراء کا نوٹس
پاک فوج کے بارے میں محمود خان اچکزئی کا بیان غیر ذمہ دارانہ ہے: خواجہ آصف
بلوچستان میں امن و امان اور استحکام پورے پاکستان کی ترجیح ہے: مریم نواز
سربراہ بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) سردار اختر مینگل کا استعفیٰ منظور





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر