اسلام آباد(نیشنل ٹائمز)چیئرمین پنجاب گروپ آف کالجز میاں عامر محمود نے کہا ہے کہ نئے صوبوں کی تجویز کے پیچھے کوئی سیاسی ایجنڈا نہیں ہے ،چھوٹے صوبوں سے بجٹ کم،مسائل کے حل میں آسانی ہوگی جبکہ سیاستدان مضبوط ہوں گے ،آئین میں18 ویں ترمیم کے بعد صوبوں کے پاس اختیارات اور پیسے چلے گئے لیکن نیچے تک سہولیات نہیں پہنچ رہیں، انڈیا صوبے بناتا چلا جارہا ہے ہم روک کر بیٹھے ہیں جس کے باعث تعلیم ،صحت سمیت تمام شعبوں میں زبوں حالی ہے۔سینئر صحافیوں اور اینکر پرسنز سے گفتگو کرتے ہوئے میاں عامر محمود نے کہا ہم کہیں جلسے نہیں کرتے ، نوجوانوں کیساتھ نشستیں کر رہے ہیں، نوجوانوں کو شعور دینے کی کوشش کررہے ہیں۔ دنیا میں چھوٹے صوبوں کی وجہ سے ترقی ہو رہی ہے ، پاکستان کا پبلک ویلفیئر انڈیکس میں 170 میں سے 140 واں نمبر ہے ، اسی طرح ہیومن ڈویلپمنٹ کا 193 میں سے 168 واں نمبر ہے ۔ میاں عامر محمود نے مزید کہا ہمارے لوگ بھوکے مر رہے ہیں، سیلاب کے علاوہ بھی لوگ بھوکے مر رہے ہیں، بچوں کی گروتھ صرف 44 فیصد ہے ، ہم نے اپنا 20 سال بعد کا مستقبل بھی خراب کر لیا ہے ۔ اڑھائی کروڑ بچے سکول سے باہر ہیں، ہمارے ملک میں دنیا میں سب سے زیادہ بچے سکولوں سے باہر ہیں، آبادی زیادہ ہونے کے باوجود بھارت کے ہم سے کم بچے سکولوں سے باہر ہیں۔انہوں نے کہا ہم نے کیپٹل سٹی کے علاوہ کچھ ڈویلپ ہی نہیں کیا، ہم نے صرف 5 بڑے شہر بنائے ہیں، ہم کسی پر تنقید نہیں کر رہے ہیں، ہم سسٹم کو خراب کہہ رہے ہیں، 78 سالوں میں کوئی تو اچھے لوگ آئے ہوں گے ناں؟ لیکن ملک میں ترقی نہیں ہوئی۔ ملک میں رول آف لاء ہے ہی نہیں، انصاف نہ ملنے کی وجہ سے کبھی کسی کو جرم کی سزا ہی نہیں ملتی، اختیارات کو تقسیم کرنا شاید ہماری جینز میں ہی نہیں ہے ، ہر ڈویژن کو صوبہ بنانے سے 33 صوبے بنیں گے اور مسائل حل کرنے میں بھی آسانی ہو گی۔ جب ہم کہتے ہیں پنجاب یا سندھ نہیں مانے گا، پنجاب کوئی 4 دیواروں کا نام نہیں، پنجاب 13 کروڑ لوگوں کا نام ہے ، 78 سالوں میں لوکل گورنمنٹ بنی اور ٹوٹی، بہت تجربے کر لیے کوئی کامیاب نہیں ہوا۔ ہمارے پاس لیڈر شپ کا فقدان ہے کیونکہ کوئی قیادت سسٹم سے نہیں آئی، ہر پارٹی کے اوپر ایک خاندان کا کنٹرول ہے ، ہم کہتے ہیں 33 صوبے بنائیں، لوگوں میں سے ہی لیڈر نکل سکتے ہیں، آرگینک لیڈر شپ ہمارے پاس نہیں ہے ۔ چھوٹی سے چھوٹی حکومت بھی بنے تو وہاں بھی حکومت کرنے لوگ ہی آئیں گے ، لوگ شاید اتنے برے نہیں، وہ سسٹم ہی موجود نہیں جس میں کام کرسکیں، وزیراعظم اور وزرائے اعلیٰ دن رات کام کرتے ہوں گے ایک سال بعد آڈٹ کرکے دیکھ لیں کافی چیزیں درست نہیں ہوں گی۔میاں عامر محمود نے مزید کہا کہ دنیا میں کسی ملک کے پاس اتنے اتنے بڑے صوبے نہیں ہیں، بھارت میں 9 صوبے تھے جو اس وقت 37 ہیں، بھارتی ریاستوں کے درمیان مقابلہ رہتا ہے ، پاکستان میں جتنے صوبے ہیں ان کی جی ڈی پی بنتی ہی نہیں، ان 80 سالوں میں کوئی لیڈر تو اس پر کام کر لیتا۔ ہم ابھی سیاستدانوں سے نہیں عوام سے بات کررہے ہیں، بھارت میں ہر 5 سال بعد آئینی ترمیم کے ذریعے ایک یا دو نئے صوبے بنائے جاتے ہیں، ہم بھی آئین میں ایسی ترمیم کرسکتے ہیں، ہمارے پاس حکومت کرنے کا اختیار نہیں لیکن عوام کو آگاہی دینے کا اختیار تو ہے ، سیاسی پارٹی عوام سے الگ تو نہیں ہو سکتی، ہم کہتے ہیں عوام کی جانب سے کوئی مطالبہ ہو۔ انہوں نے کہا جنوبی پنجاب کوئی نہیں چاہتا، بہاولپور، ملتان، ڈی جی خان الگ صوبہ بننا چاہتا ہے ، ساؤتھ پنجاب الگ سے کوئی مطالبہ نہیں ہے ، نئے صوبے بنانے سے خرچہ کم ہوجائے گا۔ ہم نے اب تک دس سیمینار کر لیے ہیں، پنجاب پر سرچ کر لی ہے ، چاہتا نہیں ہوں کہ صرف پنجاب کو ٹارگٹ کروں، بلوچستان اور پنجاب کے وزیراعلیٰ کے خرچ میں بہت فرق ہے ، جتنا پنجاب یا بلوچستان کے وزیراعلیٰ کے پاس اختیار ہے وہ اس حساب سے بجٹ اور پروٹوکول لیتے ہیں۔ صوبہ چھوٹا ہونے سے بجٹ کم ہوجائے گا تو اس کا پروٹوکول اور چیزیں 13 کروڑ کے مطابق نہیں ہوں گی بلکہ کم ہوجائیں گی۔انہوں نے کہا کتنے ڈیپارٹمنٹ ایسے ہیں جو بن گئے اور پھر بند ہو گئے لیکن آج تک ان کا بجٹ جارہا ہے ، اتنے بڑے حجم میں سب چیزیں پتہ نہیں چلتیں، پنجاب کا ڈویلپمنٹ بجٹ اربوں روپے ہے ۔ پیسوں کی کمی نہیں بلکہ اتنے زیادہ پیسے خرچ ہی نہیں ہوسکتے ، پنجاب وومن پروٹیکشن اتھارٹی ہے اس کا 18 کروڑ روپے بجٹ ہے ، عوام کی خدمت صرف 14 لاکھ روپے کی ہے ، پنجاب وومن پروٹیکشن اتھارٹی میں سینکڑوں ملازمین رکھ لیے ہیں۔ ساڑھے 17 کروڑ روپے تنخواہوں کی مد میں جارہا ہے ، گزشتہ سال گندم کی پیداوار 2 فیصد کم ہو گئی ہے ، بیج پر ریسرچ، پھول کی نئی اقسام اور نئے پھول لانے والا بھی گورنمنٹ کا ایک محکمہ ہے ۔ فلوریکلچر کے محکمے کو سالانہ 27 کروڑ روپے دے رہے ہیں، اس میں 350 ملازمین ہیں، فلوریکلچر کا محکمہ ایک نیا پھول بھی نہیں دے رہا، پی ایچ اے بازار سے پھول لے کر دے رہا ہے ، ایک پنجاب روڈ سیفٹی اتھارٹی بھی بنی ہوئی ہے ، اس کا کام انفورسٹمنٹ ہے ، پنجاب میں بہت سارے محکمے ایسے ہی بنے ہوئے ہیں۔ ایک ڈائریکٹوریٹ آف کچی آبادی بھی بنا ہوا ہے ، اس میں بھی 300 سے 400 لوگ کام کر رہے ہیں، اگر 20 یا 22 باؤنڈریز بنائیں گے تو مخالفتوں کی وجہ سے وہ نہیں بن سکتی۔ہم کہہ رہے ہیں ہر ڈویژن کو صوبہ بنادیں، ڈویژن بنی بنائی باؤنڈری ہے ، ہر ڈویژن پر ایک کمشنر اور آر پی او بیٹھا ہوا ہے ، ہم کہہ رہے ہیں اس ہی کمشنر کو چیف سیکرٹری بنادیں، ہم کہہ رہے ہیں اس ہی آرپی اوکو آئی جی بنا دیں، اتنے بڑے سسٹم میں چیزیں مس مینج رہیں گی، اگر آپ سسٹم کو چھوٹا کریں گے تو تب ہی چیزیں مینج ہوں گی۔پشاور بھی پنجاب کا حصہ تھا، ملتان ایک الگ صوبہ تھا، لاہور ایک صوبہ تھا، خیبرپختونخوا صوبہ نہیں تھا، ہم سیاست نہیں کر رہے ، چیمبرز کو ڈویژن کی سطح پر لیکر جائیں اور ہر ڈویژن میں ایک شاخ بنالیں تو ہمارا بھی فائدہ ہو گا۔ ہم نے پچھلے 80 سالوں میں صرف 5 کیپیٹل سٹی بنائے ہیں، ہم نے 80 سالوں میں چھٹا شہر بنایا ہی نہیں، فیصل آباد تیسرا بڑا شہر ہے وہاں ایک ڈھنگ کا ہسپتال، سکول یا کالج نہیں، فیصل آباد ایسے ہی ہے جیسے کوئی گاؤں بڑا ہو گیا۔ لاہور میں آبادی بڑھتی گئی، سب سے زیادہ مائیگریشن لاہور میں ہوتی ہے ، لاہور کو جتنا پیسہ بھی دیا اس سے زیادہ مائیگریشن ہو گئی، 80 سالوں میں ہم نے لوکل گورنمنٹ بنائی ہی نہیں، انہوں نے کہا جب ناظم تھا تو دنیا کے ساتھ تعلقات ہمارے بہت اچھے تھے ، دنیا سے بہت سے لوگ یہاں آیا کرتے تھے ۔میرا امریکا کا ویزا لگنا تھا اور سفارتخانہ بند پڑا ہوا تھا، میں نے ضروری کام جانا تھا، پتہ چلا کہ گورنمنٹ شٹ ڈاؤن ہے تب کھلے گی جب بجٹ پاس ہو گا، گورنمنٹ اکثریت سے بیٹھی ہوئی ہے ، یہاں کی گورنمنٹ کو وہ مسائل درپیش نہیں جو امریکا میں ہیں۔ پاکستان میں 106 بڑے اضلاع ہیں، بھارت واحد ملک ہے جہاں نیوزپیپر کی سرکولیشن بڑھ رہی ہے ، بھارت میں اخبار پڑھنے والوں کی تعداد بھی زیادہ ہے ، بھارت میں 37 صوبے ہیں اس لیے وہاں اخبار پڑھنے والے بھی زیادہ ہیں۔ لوگ کہتے ہیں صوبوں نے ملک بنایا، ملک نے صوبے نہیں بنائے ، ون یونٹ بھی بنا تو بن کر چلتا رہا پھر وہ ٹوٹ گیا، بھارت 9 صوبوں کے ساتھ شروع ہوا اب وہ 37 صوبوں کا ہے ، بھارت ہر الیکشن پر ایک، 2 نئے صوبے بنارہا ہے ، بھارت تقسیم نہیں ہوا بلکہ یہ دو ملک بنے تھے ۔انڈیا صوبے بناتا چلا جارہا ہے ہم روک کر بیٹھے ہیں، ہمارے صوبوں میں ڈھائی کروڑ بچے سکول نہیں جارہے ، ہم دنیا کے کسی سروے میں پہلے نمبروں پر نہیں ہیں، ہیومن انڈیکس سروے میں آخری 10 ممالک میں جاکر بیٹھے ہوئے ہیں۔ بلوچستان میں نئے صوبے کی تحریک چل رہی ہے ، حیدر آباد، خیرپور، کے پی میں ہزارہ صوبہ بننا چاہ رہا ہے ، آپ کے پوٹھوہار میں صوبے کی تحریک چلتی رہی ہے ، انہوں نے کہا ہمارے اس سسٹم نے ہمیں 80 سال سے فیل کیا ہوا ہے ، نئے صوبے بننے سے سیاستدان مضبوط بن جائے گا، ہر صوبے میں 33 اسمبلیاں بن جائیں گی، 33 وزرائے اعلیٰ بن جائیں گے ۔ہر ڈویژن میں وہ عمارتیں موجود ہیں جہاں آپ کا سیکرٹریٹ چل سکتا ہے ، جب نیا صوبہ بنائیں گے تو اس کا کمشنر نہیں سیاسی باس ہو گا جو الیکٹ ہو کر آئے گا، نئے صوبے میں لیڈر شپ کام کر کے اوپر آئے گی۔ انہوں نے کہا ڈیموکریسی کوئی بھی ہوتو اس میں ذہن سازی ہی کرنی چاہیے ۔ صحیح طریقہ یہی ہے کہ لوگوں کی رائے عامہ ہموار کریں، ہماری سیاسی پارٹیوں کی کبھی یہ ترجیح نہیں رہی، پورے ملک میں نہ ٹھیک تعلیم ،نہ صحت، نہ لاء اینڈ آرڈر اور نہ ہی انفرااسٹرکچر مل رہا ہے ۔جو سہولیات صوبے نے ہمیں دینی ہیں وہ نہیں دے پا رہا، ہمیں ایسے نظام کی کوشش کرنی ہے جو یہ بنیادی سہولیات تو دے ، قتل کے جرم میں کیس کا فیصلہ ہوتے ہوئے 16 سے 18 سال لگ جاتے ہیں۔اس موقع پر سینئر صحافی حامد میرنے کہا کہ چھوٹے صوبوں کا آئیڈیا بہت اچھا ہے اور میں اس سے کافی حد تک متفق ہوں، ہر صوبے سے اس کی سپورٹ ملے گی کیونکہ تمام صوبوں میں ایسے لوگ موجود ہیں جو کہ الگ اور چھوٹے صوبے چاہتے ہیں۔ سینئر صحافی اور اینکر پرسن محمد مالک نے کہا میں چھوٹے صوبوں کے اس آئیڈیا سے مکمل اتفاق کرتا ہوں ہمیشہ میں چھوٹے یونٹس کا حامی رہا ہوں اور یہ ہونے چاہئیں اس سے گورننس بہتر ہوگی۔
چھوٹے صوبوں سے بجٹ کم، مسائل کے حل میں آسانی : میاں عامر محمود



