پشاور، راولپنڈی (نیشنل ٹائمز)پشاور ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کو وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کے خلاف کارروائی سے روک دیا۔
جسٹس سید ارشد علی اور جسٹس محمد فہیم ولی نے وزیراعلیٰ کی الیکشن کمیشن کے نوٹس کے خلاف درخواست پر سماعت کی۔دوران سماعت جسٹس سید ارشد علی نے سوال کیا کہ 90 دن کے بعد الیکشن کمیشن کارروائی کیسے کر سکتا ہے ؟الیکشن کمیشن کے ڈپٹی ڈائریکٹر لانے جواب دیا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ موجود ہے ، کرپٹ پریکٹسز پر کارروائی ہو سکتی ہے ، اس میں وقت کی پابندی نہیں۔جس کے بعد عدالت نے الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 14 دن میں جواب طلب کر لیا۔دوسری جانب وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کا نام پی سی ایل سے نکالنے کے خلاف دائر درخواست پر پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس سید ارشد علی اور جسٹس محمد فہیم ولی نے سماعت کی۔عدالت نے ریمارکس دئیے کہ آپ باہر بھی تو نہیں جا رہے ، ویزا آپ نے نہیں لگایا، جس پر وکیل نے کہا کہ اگلے مہینے وزیراعلیٰ ایک وفد کے ساتھ بیرون ملک جا رہے ہیں۔جسٹس سید ارشد علی نے ریمارکس دئیے کہ آپ کو جانے سے کون روک سکتا ہے ، ہائیکورٹ نے رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت 14 اکتوبر تک ملتوی کر دی۔علاوہ ازیں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد نے شراب و اسلحہ برآمدگی کیس میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے وارنٹ گرفتاری برقرار رکھے ہیں۔سینئر سول جج مبشر حسن چشتی کی عدم دستیابی کے باعث سماعت بغیر کارروائی ملتوی کر دی گئی، کیس کی سماعت آج ہوگی۔
عدالت نے الیکشن کمیشن کو گنڈا پور کیخلاف کارروائی سے روکدیا



