لاہور (نیشنل ٹائمز)پنجاب اسمبلی کااجلاس 2گھنٹے 26منٹ کی تاخیر سے سپیکر ملک محمد احمد خان کی صدارت میں شروع ہوا۔اپوزیشن کی ریکوزیشن پر بلائے گئے اجلاس میں اپوزیشن کی ہی عدم دلچسپی ،پورے اجلاس میں صرف چار سے چھ ارکان ہی نے شرکت کی ۔
اجلاس میں دی لاہور کیپٹل یونیورسٹی بل 2025،دی ساؤتھ ہل یونیورسٹی بل ، لاہور انسٹی ٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی لاہور ترمیمی بل 2025ئپنجاب اسمبلی سے منظور کر لیا ۔پنجاب اسمبلی میں تمام پرائیویٹ اور پبلک سکولز میں موبائل فون کے استعمال پر پابندی لگانے کی قرارداد منظور کر لی گئی۔ قرارداد حکومتی رکن راحیلہ خادم حسین نے ایوان میں پیش کی ، جس میں مطالبہ کیا گیا کہ موجودہ دور میں موبائل اورسوشل میڈیا کی بدولت بچوں کے ذہن اور اخلاقی اقدار بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔پارلیمانی سیکرٹری خالد محمود رانجھا نے قرارداد پر من و عن عمل درآمد کی یقین دہانی کروا دی۔ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ میں سرکاری میڈیکل کالج کے قیام ،فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی اور اسرائیلی دہشت گردی کے خلاف ، لاوارث بچوں کی دیکھ بھال کے لئے ادارہ قائم ،ضلع ساہیوال میں کمیروالا کو تحصیل کا درجہ دینے کے مطالبے کی قرارداد یں منظور کر لی گئیں ، اجلاس میں حکومتی رکن رائو کاشف رحیم کی نشاندہی پر سپیکر ملک محمد احمد خان گنے کی قیمت کی اب تک عدم ادائیگی پر شوگر مل مالکان پر برس پڑے اور فوری طور پر کین کمشنر کو طلب کر لیا، ایجنڈا مکمل ہونے پر پنجاب اسمبلی کااجلاس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردیاگیا۔
پنجاب اسمبلی :سکولوں میں موبائل پر پابندی لگانے کی قرارداد منظور



