تحریر: عابد حسین قریشی
اس وقت ملک شدید سیلاب کی زد میں ہے۔ سیالکوٹ کے بعد گجرات شہر بھی پانی میں ڈوب چکا ہے۔ چناب کے ساتھ خاموش اور سوکھے دریاؤں ستلج اور راوی نے بھی تباہی مچا رکھی ہے۔ بڑے پیمانے پر لوگ سیلاب زدہ علاقوں سے نقل مکانی کرنے پر مجبور ہیں۔ اس وقت میدانی پنجاب کا شاید ہی کوئی علاقہ سیلاب کی تباہ کاریوں سے محفوظ ہو۔ انسانوں کے کھانے کا انتظام تو حکومتی سطح پر بھی اور الخدمت اور دیگر سماجی اور فلاحی تنظیمیں اپنے اپنے لیول پر کر رہی ہیں۔ لوگ انفردی سطح پر بھی مدد کر رہے ہیں۔ مگر اس کے ساتھ منافع خور مسلمان بھائی بھی میدان میں پوری طرح متحرک ہیں اور روبہ عمل ہیں۔ اس وقت سب سے بڑا مسئلہ جانوروں اور مویشیوں کے چارہ کی سپلائی کا ہے۔ ہر طرف پانی ہے۔ کسانوں کا اپنے مویشیوں کے لئے لگایا گیا چارہ ڈوب بھی گیا اور ضائع بھی ہو گیا۔ لاکھوں مویشی سڑکوں پر یا اونچی جگہوں پر چارہ کے منتظر ہیں۔ کل ایک عزیز نے جو جنوبی پنجاب میں سیلاب زدگان کی مدد کر رہے ہیں، بتایا کہ جن کا چارہ سیلاب سے بچ گیا ہے، انہوں نے اتنے زیادہ ریٹ بڑھا دیئے ہیں، کہ خریدنا اب کسی کے بس میں نہیں رہا۔ صرف چارہ ہی مہنگا نہیں ہوا، سبزیاں اور دیگر اشیائے ضروریہ بھی مہنگی ہو رہی ہیں۔ ایک طرف سیلاب کی تباہی، بھوکے مویشی اور بے کس و مجبور سیلاب کے متاثرین انسان اور دوسری طرف زیادہ منافع کی ہوس۔ نجانے کیوں چند سال قبل جاپان میں آنے والے شدید زلزلہ کی داستان ذہن میں آگئی کہ جب وہاں کے دکانداروں نے اپنی دکانوں کا سامان باہر رکھ کر لوگوں سے کہا کہ جس کے پاس پیسے ہیں وہ وہاں خود ہی رکھ کر سودا لے جائے اور جس کے پاس نہیں ہیں، وہ بھی اپنی ضرورت کے مطابق بغیر قیمت ادا کئے لے جا سکتا ہے۔ خیر یہ تو ایک مشرک اور کافر قوم کی کہانی ہے، جو نہ جنت کے حصول کی کوشش کرتی ہے، نہ جنت کی دعوے دار۔ ہم تو مومن اور مسلمان ہیں۔ جنت کی امید اور توقع بھی رکھتے ہیں، مگر شاید نہیں جانتے جنت کے دروازے مخلوق خدا کو تنگ اور پریشان کرنے والوں اور ضرورت کے وقت ان کی مصیبت کو exploit کرنے والوں کے لئے ذرا مشکل سے ہی کھلیں گے۔ جنت چاہیئے تو مخلوق خدا کی خدمت سے بہتر کوئی طریقہ نہیں۔ اور اس وقت یہ سہولت دستیاب ہے کہ اپنے سیلاب زدگان بھائیوں کی اور انکے مال ڈنگر کی خدمت کر لیں اور وہ لوگ جو اس سیلاب سے بچ گئے ہیں، صرف شکرانہ کے طور پر ہی اس کار خیر میں شامل ہو کر اپنےرب کا شکر ادا کرلیں۔



