تحریر: سعدیہ ناروتحریر: سعدیہ نارو
۲۰ جولائی ۲۰۲۵
اسکولی یا اسکولے شمال کا آخری گاؤں، یہ میں نے بارہا پڑھا اور سنا تھا اور آج ہم اسکولے کی جانب روانہ ہونے والے تھے۔ ۲۰ جولائی کو علیٰ الصبح میری آنکھ کھل گئی۔ ایک خوبصورت دن کا آغاز ہونے جا رہا تھا۔ دل میں خوشی اور اطمینان تھا کہ بالآخر وہ دن آ گیا جس کی تیاری مہینوں سے ہو رہی تھی۔ تیار ہونے کے بعد ہم نے اپنا سامان ہوٹل کے گیٹ کے پاس رکھوایا جہاں سے اس کو جیپوں میں رکھا جانا تھا۔ کمرے کو چیک کرنے کے بعد اس کی چابی ریسیپشن پر دی اور ناشتے کے لیے بیٹھ گئے۔

ناشتے سے فراغت کے بعد ہم سب ساتھی ہوٹل کے عقبی لان میں جمع ہو گئے، جہاں ہمارے گروپ لیڈر عمیر حسن نے سفر کے متعلق مختصر بریفنگ دی اور گروپ فوٹو بنائی گئی۔ اسی دوران ہوٹل میں جیپیں پہنچ چکی تھیں۔ سب ممبرز کو ان کی جیپ کا نمبر بتا دیا گیا تھا۔ ہر جیپ میں ڈرائیور کے ساتھ چار ممبرز سفر کر رہے تھے اور ان کا سامان بھی ان کی جیپ میں رکھ دیا گیا تھا۔

عمیر حسن اور نیک اختر کی رہنمائی میں ۲۷ ممبرز پرمشتمل ایک بڑے گروپ کی روانگی ہو رہی تھی اور سمٹ ہوٹل کے اردگرد موجود لوگ اس قافلے کی ویڈیوز بنا رہے تھے۔ صبح نو بجے Ascender Adventures کا آٹھ جیپوں کا قافلہ سکردو سے اسکولے کی جانب روانہ ہوا۔ تقریبا پونے دس بجے انڈس ریور کے پل سے پہلے پولیس چوکی پر اندراج کروانے کے لیے رُکا گیا۔ سب ممبرز کے شناختی کارڈ لیے گئے۔ سورج چڑھ رہا تھا اور جیپ میں گرمی کا احساس ہو رہا تھا۔ ہم اُتر کر دریا کنارے درخت کے سائے میں بیٹھ گئے۔ دریا میں پانی کا بہاؤ کافی اونچا اور تیز تھا۔ پندرہ منٹ کے بعد ہمارا سفر دوبارہ شروع ہو گیا۔ سرفرنگا کولڈ ڈیزرٹ سے گزرتے ہوئے ہمارے ڈرائیور نے ہمیں خسر گنگ چوٹی دکھائی اور بتایا کہ اس پہاڑ کو خسر گنگ کہے جانے کی وجہ تسمیہ ایک مقامی روایت ہے۔ خسر بلتی زبان میں کدو اور گنگ گلیشئیر کو کہتے ہیں۔ اس روایت کے مطابق اس پہاڑ پر کوئی گلیشئیر نہیں تھا۔ ایک بزرگ عورت کہیں سے کدو میں گلیشیئر کا ٹکڑا بند کرکے یہاں لائی تھی اور اس مقام پر اس کی پیوندکاری کی گئی تھی۔ اس وجہ سے اس پہاڑ کا نام خسر گنگ پڑ گیا۔ اس دلچسپ داستان پر ہم سب مسکرائے بنا نہ رہ سکے۔ نسل در نسل منتقل ہونے والی یہ لوک داستانیں ہمارے علاقوں کی تہذیب اور ثقافت کا حصہ ہیں۔ ہمارا کام ان کی صداقت کو پرکھنا نہیں بس ان سے لطف اندوز ہونا ہے۔

سکردو سے نکلنے کے بعد تقریباً دو گھنٹے ہم نے پختہ سڑک پر سفر کیا۔ اس کے بعد کچی سڑک کا آغاز ہو گیا۔ ہم سب کی نظریں شیشوں کے پار خوبصورت نظاروں پر جمی تھیں۔ نیند کا کیا ہے وہ تو سولی پر بھی آ جاتی ہے۔ گرمی اور دھول کے باوجود مجھے ہچکولے کھاتی جیپ میں بار بار نیند آ رہی تھی۔

میں نے سیٹ بیلٹ لگائی اور تین گھنٹوں کا سفر سوتے جاگتے طے کیا۔ بارہ بجے کے قریب ہم برالڈو ریور پر ایک فوجی چیک پوسٹ پر اندراج کے لیے رکے۔ اس وقت سورج سوا نیزے پر تھا اور جیپ میں لمحہ بھر رُکنا بھی محال تھا۔ سب ممبرز جیپوں سے باہر آ گئے۔ ہم کچھ فاصلے پر ایک چھوٹے سے درخت کے سائے میں بیٹھ گئے جو اس تپتی دوپہر میں بڑی غنیمت تھا۔ تقریباً آدھے گھنٹے بعد سفر دوبارہ شروع کیا گیا۔ جیپیں ایک قطار میں سفر کر رہیں تھیں اور ہر گزرتے لمحے کے ساتھ فاصلہ گھٹ رہا تھا۔

دن کے دو بجنے والے تھے اور بھوک کا احساس بڑھ رہا تھا۔ اپو علی گوند پر دوپہر کے کھانے کے لیے رکا گیا۔ خوبانی کے درختوں کے سائے میں بیٹھ کر ہم سب نے پرتکلف کھانا کھایا۔ درختوں سے اُترا تازہ پھل ہم شہریوں کے لیے بڑی نعمت ہوتا ہے۔ میں نے ویٹر سے خوبانیوں کی فرمائش کی تو اس نے خوبانیاں توڑیں اور دھو کر سب کو پیش کیں۔ جب تک چائے تیار ہو رہی تھی ایک ویٹر ایک پلیٹ میں نیم قیمتی پتھر لے کر آ گیا جنہیں سب دلچسپی سے دیکھنے لگے۔ چائے نے سفر کی تھکان کافی کم کر دی تھی۔

پون گھنٹے کی اس بریک کے بعد ہمارا سفر دوبارہ شروع ہو گیا۔ برالڈو ریور کے ساتھ ساتھ تمام جیپیں رواں دواں تھیں۔ دریا کی دھاڑتی ہوئی لہریں پتھروں سے ٹکراتی اور چٹانوں میں سے اپنا راستہ بناتی نشیب کی جانب دوڑ رہی تھیں۔ ان لہروں کو دیکھ کر میں سوچتی رہی کہ یہ سرکش دریا جب کسی میدانی علاقے میں پہنچے گا تو کیا حشر برپا کرے گا۔ پگھلتے گلیشئیرز کا یہ پانی جو زندگی کی اساس ہے اگر قابو میں نہ رہا تو بربادی کی داستانیں رقم کرے گا۔

تقریباً پونے پانچ بجے سفر کا سلسلہ تھوڑی دیر کے لیے رک گیا۔ اس وقت ہم اسکولے سے تھوڑا پیچھے تھے۔ ہمارے سامنے اترائی پر ایک منہ زور نالہ تھا جس پر لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے پتھر آن گرے تھے۔ ان پتھروں کو ہٹائے بغیر جیپوں کا وہاں سے گزرنا ممکن نہیں تھا۔ ہم سب ساتھی اپنی اپنی جیپوں سے نکل آئے۔ سورج ڈھل رہا تھا اور گرمی کا احساس کم ہو گیا تھا۔

نالے پر ٹوریزم پولیس کے دو اہلکار کھڑے تھے۔ مقامی لوگ پتھر ہٹانے کی کوشش کر رہے تھے لیکن بات نہیں بن رہی تھی۔ پھر ہمارے دو گائیڈز احمد اور اقبال آگے بڑھے اور پتھر ہٹا کر جیپوں کے لیے راستہ بنایا۔ اس انتظار کے دوران عمیر نے مجھے وہاں مونا خان سے ملوایا جو سنو لیک ٹریک کے لیے جا رہی تھیں اور اپنی ٹیم کے ہمراہ راستہ کلئیر ہونے کا انتظار کر رہی تھیں۔ مونا سے میں پچھلے سال چٹہ کٹھہ ٹریک کے دوران بھی مل چکی تھی۔ تو پہاڑوں کے مسافر کسی نہ کسی گزرگاہ پر ٹکراتے رہتے ہیں۔ ہماری بات چیت کا دورانیہ مختصر رہا کیونکہ عمیر نے مجھے جیپ میں نالے کے پار بھجوا دیا جبکہ مرد حضرات کو احمد اور اقبال نے نالہ پار کروایا۔ تمام جیپ ڈرائیوروں نے بڑی مہارت سے نالہ پار کیا۔ اس ساری کاروائی میں گھنٹہ صرف ہو گیا۔ نالے کے پار ہریالی ہی ہریالی تھی اور سامنے گندم کی فصل لہلہا رہی تھی۔ ہم سب دوبارہ جیپوں میں سوار ہوئے اور تھوڑی ہی دیر بعد ہمارا سفر اختتام پذیر ہو گیا۔ ہم اسکولے کیمپ سائیٹ پر پہنچ چکے تھے جسے CKNP والے مینج کرتے ہیں۔
صبح نو بجے سکردو سے شروع ہوا ہمارا سفر شام چھ بجے اسکولے میں ختم ہو گیا تھا۔ ہمارے پہنچنے سے پہلے ہمارے کیمپس لگے تھے اور میس ٹینٹ میں چائے کا انتظام تھا۔ جب تک ہم نے چائے پی ہمارا سامان جیپوں سے اُتار کر ہمارے کیمپس میں پہنچا دیا گیا۔ جیپ ڈرائیوروں کے لئے احمد نے ہم سب سے ٹپ اکٹھی کی۔ ہم تازہ دم ہونے کے بعد اسکولے میوزیم اور گاؤں دیکھنے چلے گئے۔ میوزیم کا ٹکٹ ۵۰۰ فی بندہ تھی۔ میوزیم دو منزلہ مکان پر مشتمل تھا۔ اس میں پتھر کی ہانڈی، چکی، چرخا اور استعمال کی روایتی اور قدیم اشیاء نمائش کے لیے رکھی تھیں۔ سردیوں میں یہ لوگ تہہ خانے میں رہتے تھے تو وہاں پکانے اورسونے کا مکمل انتظام ہوتا تھا۔ چھوٹے چھوٹے کمروں اور نیچی چھت والا یہ مکان کافی دلچسپ تھا۔ میوزیم سے نکل کر ہم گاؤں گھومنے نکل پڑے۔ راستے میں ایک گھر کے باہر چند نوجوان لڑکیاں بیٹھی باتوں میں مشغول تھیں۔ میں نے مسکراتے ہوئے ان کی جانب دیکھا اور پاس سے گزر گئی۔ تبھی مجھے ایک آواز آئی “ادھر آؤ، ہم سے باتیں کرو۔” میں واپس پلٹی اور اس چنچل سی لڑکی کے پاس جا کھڑی ہوئی جس کا نام سوسن تھا۔ جو بارہویں پاس تھی اور گاؤں میں پڑھاتی تھی۔ اسے پڑھنے کا شوق تھا لیکن کچھ وجوہات کی بنا پر مزید تعلیم حاصل نہیں کر پائی تھی۔ سوسن مجھ سے مختلف سوالات کرتی رہی اور میں جوابات دیتی رہی، یوں اس کا مسکراتا چہرہ اور منفرد نام میری یاد داشت میں محفوظ ہو گیا۔
ہم گاؤں گھومتے رہے اور گھروں کی تعمیر اور طرزِ زندگی کا مشاہدہ کرتے رہے۔ رات کے آٹھ بجنے والے تھے لیکن ابھی روشنی باقی تھی۔ جب ہم کیمپ سائیٹ واپس پہنچے تو کھانا تیار تھا۔ کھانے کے بعد میس ٹینٹ میں محفل جمی اور عمیر نے صبح پانچ بجے جاگنے کا وقت بتایا۔ چھ بجے ناشتہ کرنے کے بعد سات بجے جھولا کے لیے ٹریکنگ کا آغاز ہونا تھا۔ کھانے کے بعد میں اپنے چار نمبر کیمپ میں آ گئی۔ یہ ہماری کیمپ میں پہلی رات تھی اور اب سے پتھریلی زمین پر سونے کی عادت ڈالنی تھی۔ اگلی صبح ٹریکنگ کا پہلا دن تھا اور اس کے لیے بھرپور آرام ضروری تھا۔ سارے دن کی تھکان کے باوجود نیند میری آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔ میں کروٹیں بدلتے ہوئے نیند کی دیوی کے مہربان ہونے کی منتظر تھی۔
جاری ہے۔۔۔



