کراچی(نیشنل ٹائمز) نجی یونیورسٹی کی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ شہر کے سرکاری اسکولوں میں زیر تعلیم 25 فیصد بچے ذہنی اور جسمانی نشوونما میں پیچھے رہنے کے خدشے دوچار ہیں۔
آغا خان یونیورسٹی کی جانب سے بچوں کی نشوونما سے متعلق ایک نئی تحقیق کی گئی جس کے مطابق کم آمدن، اقلیتوں اور پسماندہ طبقے کے بچے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ کراچی کے سرکاری اسکولوں میں زیر تعلیم 25 فیصد بچے ذہنی اور جسمانی نشوونما میں پیچھے رہنے کے خدشے دوچار ہیں۔3 سے 8 برس کی عمر کے بچوں پر کی گئی تحقیق میں سامنے آیا ہے کہ لڑکے لڑکیوں کے مقابلے میں زیادہ کمزور ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بچوں کی نشوونما میں صنف، گھریلو آمدن اور لسانی پس منظر اہم کردار ادا کر رہے ہیں، اگر خلا کو جلد دور کیا جائے تو بچوں کے بہتر مستقبل کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔
کراچی: سرکاری اسکولوں کے 25 فیصد بچوں کا ذہنی اور جسمانی نشوونما میں پیچھے رہنے کا خدشہ: تحقیق



