‏سیلاب صرف ایک سال میں روکے جا سکتے ہیں؟

تحریر: احمد جواد

‏ہر مناسب مقام پر، نہروں کے کوریڈورز کی نشاندہی کی جا سکتی ہے، اسی طرح آبی ذخائر یا جھیلوں کی جگہ کی نشاندھی کی جا سکتی ہے، جہاں نہریں پانی لیکر جائیں گی، اور پھر ان جگہوں پر صرف کھدائ کرنے کی ضروت ہے، کھدائ کے بعد نہروں اور آبی ذخائر کے کنارے، کھدائ سے نکالی گئی مٹی سے بناۓ جا سکتے ہیں، جن پر درخت لگاۓ جا سکتے ہیں جو کناروں کو مضبوط کر سکتے ہیں، میلوں پر پھیلی نہریں، آبی ذخائر اور درختوں کی قطاریں چند سال میں مکمل ہو سکتی ہیں، اسمیں صرف کھدائ کی مشینیں چاہیے، نا سیمنٹ، نا سریا، نا کنکریٹ اور نا کسی کنسٹرکشن میٹریل کی ضرورت، یعنی اس پراجیکٹ کیلئے آپکو صرف کھدائ کی مشینیں اور لیبر چاہیے، ایسی نہروں اور جھیلوں سے ہم زراعت، گھریلو پانی کی فراہمی اور زیر زمین پانی کی سطح کو بہتر بنا سکتے ہیں

‏جو حل میں پیش کر رہا ہوں، یہ دُنیا میں کوئ نیا حل نہیں، یہ انسانی تاریخ میں اُس وقت بھی استعمال ہوا جب مشینیں نہیں ہوتی تھیں, آج کی تاریخ میں افغانستان 300 کلومیٹر نہر تقریباً مکمل کر چکا ہے، اس نہر کی تعمیر صرف لیبر اور کھدائ کی مشینوں سے کی گئی ہے، اس پراجیکٹ کیلئے ورلڈ بینک یا کسی ملک سے قرضہ بھی نہیں لیا گیا، اس نہر کے کنارے زرعی اور کمرشل سرگرمیوں میں استعمال ہوں گے، یہ ایک انقلابی پراجیکٹ ہے،

‏1869 میں 193 کلومیٹر کی سویز کینال بنائ گئی جسنے دُنیا کا تیسرا بڑا سمندری نقل و حمل کاراستہ بنایا اور آج بھی مصر کی معیشت کا اہم ترین حصہ ہے،

‏پانچویں صدی قبل مسیح میں 1800 کلومیٹر نہر چین میں بیجنگ سے گانگ زاؤ تک بنائ گئی جو آج بھی تجارت اور زراعت کیلئے اہم آبی راستہ ہے

‏یعنی جو کام صدیوں پہلے صرف مزدوروں کی مدد سے کیے گئے، کوئ ٹیکنالوجی نہیں تھی، کوئ مشینیری نہیں تھی، وہ ہم 78 سالوں میں ٹیکنالوجی کے ذریعے بھی نا کر سکے، بھارت کی طرف سے چھوڑا جانے والا پانی ہمارے لیے رحمت بن سکتا تھا لیکن کبھی کوئ پلاننگ ہی نا کر سکے، چین اپنی حفاظت کیلئے دیوار چین صدیوں پہلے بنا سکتا ہے تو کیا ہم نہریں، جھیلیں اور آبی ذخائر کھود کر ہر سال لاکھوں کیوسک سیلابی پانی ان آبی ذخائر اور جھیلوں میں ذخیرہ نہیں کر سکتے،

‏اسکے علاوہ ہمیں کالا باغ ڈیم اُسی طاقت سے بنا لینا چاہیے جس طاقت سے ہم آئین توڑتے ہیں،

‏ایسی پلاننگ نا ہونے کیوجہ صرف یہ ہے کہ دو سیاسی جماعتوں اور اُنکے سہولت کاروں نے اقتدار پر باریاں لگا رکھی ہیں، وہ میرٹ کو تباہ کرکے نالائق اور کرپٹ ترین لوگوں کو تمام اداروں پر مسلط کر چکے ہیں، انکا وجود اور بقا ایسے نالائق اور کرپٹ لوگوں سے ہی ممکن ہے، انکی آکسیجن کرپٹ اور نالائق لوگ ہیں، اور عام آدمی کی آکسیجن بند ہو گئی ہے وہ بیماری سے مرتا ہے، سڑک پر حادثوں سے مرتا ہے، قتل ہوتا ہے، دہشت گردی سے مرتا ہے، سیلاب سے مرتا ہے، اور اب پی ٹی آئ کا حامی ہونے پر بھی مرتا ہے، بدقسمتی سے دو سیاسی خاندانوں اور ان کے سہولت کاروں نے مل کر گزشتہ 78 سالوں سے حکمرانی کرتے ہوئے میرٹ کو تباہ کر دیا جس کی وجہ سے نااہلی اور بدعنوانی پورے ملک کی فیصلہ سازی پر قابض ہو گئی ہے، اور ہر سال آنے والے سیلاب اور سارا سال جاری دہشت گردی ایسی ہی فیصلہ سازی کا نتیجہ ہے

‏جتنا نقصان ہر سال سیلاب سے ہوتا ہے، اس پیسے سے ہم اپنے ملک کو نہروں، جھیلوں، جنگلات کا ملک بنا سکتے تھے، زراعت اتنی ہوتی کہ دُنیا کو زرعی اجناس برآمد کرتے، لیکن صرف چور اور سہولت کار اس ملک کی ترقی کی راہ میں رُکاوٹ بنے ہوۓ ہیں

‏ہمارے مسائل کا آسان اور فوری حل موجود ہے لیکن نااہلی اور کرپشن پاکستان کے ہر ادارے پر حاوی ہے،

‏انداز بیان گرچہ بہت شوخ نہیں ہے

‏شاید کے اُتر جاۓ تیرے دل میں میری بات



  تازہ ترین   
سہیل آفریدی جس دن پرامن احتجاج پر آئیں گے تب عمران سے ملاقات ہو گی: رانا ثنا اللہ
ترلائی امام بارگاہ کے واقعے سے پوری قوم سوگوار ہے: وزیراعظم
ڈی آئی خان : دہشت گردوں سے مقابلے میں ایس ایچ او سمیت 5 اہلکار شہید
300 یونٹ تک بجلی استعمال کرنیوالے گھریلو صارفین پر بھی فکسڈ چارجز عائد
وزیراعظم کا نیپرا کے سولر سے متعلق نئے ریگولیشنز کے اجراء کا نوٹس
پاک فوج کے بارے میں محمود خان اچکزئی کا بیان غیر ذمہ دارانہ ہے: خواجہ آصف
بلوچستان میں امن و امان اور استحکام پورے پاکستان کی ترجیح ہے: مریم نواز
سربراہ بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) سردار اختر مینگل کا استعفیٰ منظور





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر