دریائے چناب کا اصل مسئلہ: ہیڈ تریموں 18ہزاری حفاظتی بند نہیں، باہو پل گڑھ مہاراجہ ہے۔۔
دریائے چناب پر تعمیر ہونے والا ہیڈ تریموں اس خطے کی ایک عظیم انجینئرنگ یادگار ہے۔ اس کی تعمیر 1937 میں شروع ہوئی اور 1939 میں مکمل ہوئی۔ اس وقت کے برطانوی چیف انجینئر جیمز ڈگلس ہارڈی بیڈفورڈ اس منصوبے کے نگران تھے اور ان کے ساتھ ایک اور قابل انجینئر اجودھیا ناتھ کھوسلہ بھی شامل تھے جنہوں نے تریموں پر کام کے دوران ایک مشہور تھیوری پیش کی جس نے بیراج ڈیزائن کو نئی بنیادیں فراہم کیں۔
ہیڈ تریموں اس دور میں سیلابی پانی کو سنبھالنے کے لیے بنایا گیا اور کئی دہائیوں تک اس نے بہترین کارکردگی دکھائی۔ لیکن وقت کے ساتھ دریا کے بہاؤ اور دباؤ میں اضافہ ہوتا گیا۔ اسی لیے 2015 سے 2023 کے دوران تریموں پر مزید دروازے بڑھائے گئے تاکہ پانی کے اخراج کی گنجائش میں اضافہ ہو اور بڑے سے بڑے سیلاب کو سنبھالا جا سکے۔
مگر اصل مسئلہ کہیں اور ہے۔ ہیڈ تریموں کے چند کلومیٹر بعد تعمیر ہونے والا باہو پل (تقریباً 2014–2016 میں مکمل ہوا) پانی کے بہاؤ کے لیے ناکافی ہے۔ اس کے نیچے اتنے کم درے رکھے گئے کہ ہیڈ تریموں جتنا بھی پانی خارج کر دے، پل کے مقام پر وہ پانی رکتا اور پھیلتا ہے۔ اس کی وجہ سے تریموں اور پل کے درمیانی علاقے ہر سال زیرِ آب آ جاتے ہیں، زمین کٹاؤ کا شکار ہوتی ہے اور لوگوں کے مکانات اور فصلیں برباد ہو جاتی ہیں۔
حالیہ دنوں میں نواب سرفراز سیال صاحب نے کہا کہ سیلابی ریلیف آپریشن کی نگرانی براہِ راست پاک فوج کرے تاکہ سیاست سے بالاتر ہو کر لوگوں کو ریلیف مل سکے۔ یہ ایک بہترین تجویز ہے اور ہم اس کی تائید کرتے ہیں۔ لیکن ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ دریائی پیٹ کے لوگوں کو بچانے کے لیے 18 ہزاری کا بند توڑ دیا جائے۔
یہ وہ نکتہ ہے جس پر غور ضروری ہے۔ اگر بند ہی توڑ دیا جائے تو پھر ہیڈ تریموں پر درے بڑھانے کا مقصد کیا ہوا؟ اصل مسئلہ 18 ہزاری نہیں ہے بلکہ باہو پل ہے۔
دریائی پیٹ میں زیادہ تر گنے (کماد) کی فصل ہوتی ہے جو دریا کا پانی لگنے سے نسبتاً بچ جاتی ہے، اگرچہ مکانات اور چارے کے نقصانات ضرور ہوتے ہیں۔ لیکن اگر 18 ہزاری بند توڑ دیا گیا تو آگے جو پوری پٹی ہے—فیروزیاں، اچگل، امام، روڈو سلطان، حسو بلیل، کوٹ بہادر، ڈولوآنہ، کپوری اور رنگپور تک—یہ دھان اور کپاس کا علاقہ ہے۔ یہاں نقصان کئی گنا زیادہ ہو جائے گا اور ہزاروں کسان تباہ ہو جائیں گے۔
یعنی یہ ایسا ہے جیسے ہم ایک طرف کا نقصان کم کرنے کے لیے دوسری طرف کہیں زیادہ بڑا نقصان کر بیٹھیں۔ اصل اور مستقل حل یہ ہے کہ باہو پل کے دروں کو بڑھایا جائے یا اس کا ڈیزائن تبدیل کیا جائے تاکہ پانی بغیر رکاوٹ کے گزر سکے۔ یہی وہ واحد راستہ ہے جس سے ہیڈ تریموں کی اصل صلاحیت بروئے کار آئے گی اور دونوں طرف کے لوگ محفوظ رہیں گے۔
ہم نواب صاحب کے جذبے کو سراہتے ہیں مگر احترام کے ساتھ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ 18 ہزاری بند توڑنے سے نہ صرف مسئلہ حل نہیں ہوگا بلکہ نقصان کہیں زیادہ ہوگا۔ لوگوں کو اصل حقیقت سمجھنی چاہیے کہ مسئلہ ہیڈ تریموں یا 18 ہزاری بند نہیں بلکہ باہو پل ہے۔
میں نے یہی سوچا تھا کہ ربیع الاول کے مہینے میں صرف امدِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حوالے سے پوسٹ کروں گا، لیکن یہ ایک ایسی ضروری بات تھی جس پر خاموش رہنا ممکن نہ رہا۔
اللّٰهُمَّ اجِرْنَا مِنَ الفِتَنِ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ، وَقِنَا شَرَّ مَا تَقْضِی بِهِ۔
(اے اللہ! ہمیں ظاہر اور پوشیدہ ہر فتنے سے محفوظ فرما اور ہر اس شر سے بچا جس کا فیصلہ تو فرمائے۔)
تمام احباب سے گزارش ہے کہ اس دعا کا ورد کریں اور یہ پیغام زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچائیں تاکہ عوام کو اصل مسئلہ سمجھ آئے اور 18 ہزاری بند کو بچایا جا سکے۔ ہیڈ تریموں پانی پاس کرتا ہے، خطرہ صرف اور صرف باہو پل کی وجہ سے ہے۔



