2025 کے سیلاب کی تباہ کاریاں، میرا سیالکوٹ بھی ڈوب گیا

تحریر: عابد حسین قریشی

2025 کا مون سون پاکستان بھر کے لئے بہت ہی دلدوز، دلسوز اور بھیانک خبریں لیکر وارد ہوا۔ پہلے گلگت بلتستان میں کلاوڈ برسٹ ہوا۔ پنجاب اور دیگر علاقوں سے گئے سیاح متاثر بھی ہوئے اور کئی جانوں سے بھی گئے۔ پھر خیبر پختون خواہ کے ضلع بونیر میں بادل اس بے رحمی سے برسے کہ ایک پورا گاؤں ہی صفحہ ہستی سے مٹ گیا۔ اسی دوران کراچی میں ایک دن کی بارش ہی اس میٹرو پولیٹن کا حلیہ بگاڑ گئی۔ پنجاب بچا ہوا تھا۔ مگر اگست کے آخری دنوں میں بھادوں اس زور سے برسا کہ صرف میرے آبائی شہر سیالکوٹ میں چند گھنٹوں میں چار سو سے زائد ملی لٹر بارش اور پھر اوپر catchment area میں طوفانی بارشیں اور تاریخ کا شدید ترین سیلاب۔ سیالکوٹ میں عمومی طور پر دیگر علاقوں کے مقابلہ میں زیادہ بارشیں ہوتی ہیں، مگر کبھی بھی اربن فلڈنگ کا منظر نہیں بنا۔ اب کہ بار سیالکوٹ کے اندر سے گزرنے والے تین برساتی نالوں اییک، پلکھو اور بھیڑ نے وہ تباہی مچائی کہ مدتوں یاد رہے گی۔ پسرور کی طرف نالہ ڈیک نے الگ تباہی مچائی۔ سیالکوٹ شہر کے اندر تین چار روز تک معمولات زندگی شدید متاثر رہے کہ چار چار فٹ پانی گھروں کے اندر براجمان رہا۔ سیالکوٹ کی تمام پوش ہاوسنگ سوسائٹیز بری طرح متاثر ہوئیں۔ ادھر روایتی بد نیت دشمن بھارت نے موقع غنیمت جانا اور ان دریاؤں میں بھی سارا ہی پانی چھوڑ دیا جو مدت سے خشک ہو چکے تھے۔ اب سیلاب کا پانی ہے، ہماری مرکزی اور صوبائی حکومتیں ہیں، ایمرجنسی ادارے ہیں اور تباہی کا منظر ایک ضلع سے دوسرے ضلع تک پھیل رہا ہے۔ کہیں بیراج بچانے کے لئے بند توڑے جا رہے ہیں اور کہیں شہر بچانے کے لئے۔ عام آدمی اور کسان کی حالت بہت بری ہے۔ اب ساری قوم پانی کے یہ بڑے بڑے ریلے خیریت سے سمندر کی نظر ہونے کی دعائیں کر رہی ہے۔ واہ کیا قوم ہے، کہ جو ہر دو چار سال بعد پانی کی فراوانی کے ہاتھوں مون سون میں تباہ و برباد ہوتی ہے، اور باقی دس مہینے خشک سالی کی سزا بھگتتی ہے۔ مگر یہ قومی سوچ پیدا ہی نہیں ہونے دی جاتی کہ ان سیلابوں کا فوری حل ملک کے ہر حصہ میں چھوٹے بڑے ڈیم بنانے میں ہے۔ کوئی نہ کوئی سیاسی مصلحت ہر بار اس طرح کے کسی بھی قومی منفعت کے منصوبے کو پروان نہیں چڑھنے دیتی۔ اب کہ بار بھی شاید ایسا ہی ہو۔ ہمارے پاس تو اپنے شہروں کو برساتی نالوں سے بچانے کا بھی کوئی معقول منصوبہ نہیں اور ہم نے تو سب سے زیادہ زر مبادلہ کمانے والے سیالکوٹ کی بھی وہ درگت بنا دی ہے کہ اس سیلاب کے مالی، معاشرتی اور نفسیاتی اثرات سے نبٹتے کافی وقت لگے گا۔ لاہور میں عین راوی دریا کے bed میں شاندار ہاؤسنگ سکیمیں اور شاید کوئی نیا لاہور بھی راوی کی ہمسائیگی میں بننے جا رہا ہے۔ مگر راوی نے بڑی بے رحم قسم کی وارننگ جاری کرکے اپنی territory واپس لینے کی ٹھانی ہے۔ ہاؤسنگ سوساٹیز کے کلچر نے تو پانی کے اخراج کا کوئی راستہ بھی نہیں چھوڑا۔ بہرحال اس سیلاب نے قدرت کی طرف سے عزاب نہ سہی مگر ماحولیاتی تبدیلیوں کی ایک بڑی گھنٹی ضرور بجا دی ہے۔ اب بھی سمجھ جاو۔ پہاڑوں سے درخت کاٹ کر، لینڈ سلایڈنگ، کلاوڈ برسٹ اور میدانی علاقوں میں بے ہنگم ہاؤسنگ سوسائیٹییز بنا کر ہم قدرت کے طےشدہ نظام سے چھیڑ خوانی کر رہے ہیں۔ نتیجہ یہی ہونا تھا۔ اب بھی وقت ہے سنبھل جاو۔ اگر یہ قدرت کی طرف سے وارننگ ہے تو استغفار کرو اور اپنے اعمال پر نگاہ ڈالو، اور اگر یہ ماحولیاتی تبدیلی کے تابع ہے، تو اپنی پلاننگ بدلو۔ چلن بدلو، صرف نفع کمانے کے لئے اپنی بہترین زرعی زمینیں بنجر نہ بناو۔ بطور قوم اٹھو اور اس تباہی سے تعمیر نو کا سامان پیدا کرو۔



  تازہ ترین   
سہیل آفریدی جس دن پرامن احتجاج پر آئیں گے تب عمران سے ملاقات ہو گی: رانا ثنا اللہ
ترلائی امام بارگاہ کے واقعے سے پوری قوم سوگوار ہے: وزیراعظم
ڈی آئی خان : دہشت گردوں سے مقابلے میں ایس ایچ او سمیت 5 اہلکار شہید
300 یونٹ تک بجلی استعمال کرنیوالے گھریلو صارفین پر بھی فکسڈ چارجز عائد
وزیراعظم کا نیپرا کے سولر سے متعلق نئے ریگولیشنز کے اجراء کا نوٹس
پاک فوج کے بارے میں محمود خان اچکزئی کا بیان غیر ذمہ دارانہ ہے: خواجہ آصف
بلوچستان میں امن و امان اور استحکام پورے پاکستان کی ترجیح ہے: مریم نواز
سربراہ بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) سردار اختر مینگل کا استعفیٰ منظور





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر