جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) راولپنڈی میں یومِ شہداء کی خصوصی تقریب منعقد کی گئی، جس میں ملک کے مختلف حصوں سے شہداء کے اہلِ خانہ، اعلیٰ عسکری و سول قیادت، اور دیگر معزز مہمانوں نے شرکت کی۔ اس تقریب کا سب سے جذباتی لمحہ اُس وقت آیا جب شہید کیپٹن طحٰہ کی بیوہ نے اسٹیج پر آکر ایک ایسا خطاب کیا جس نے ہال میں موجود ہر شخص کو اشک بار کر دیا۔
“السلام علیکم! آج میں یہاں طحٰہ کی خوبیاں بتانے نہیں آئی۔ میں کچھ اور کہنا چاہتی ہوں،” یہ کہہ کر مائدہ، شہید کی بیوہ، نے مائیک سنبھالا اور پوری قوم کے ضمیر کو جھنجھوڑ دینے والی باتیں کیں۔
انہوں نے اپنے دل کی گہرائیوں سے وہ درد بانٹا جو ہر شہید کے گھر والوں کی خاموش زبان ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا،
“میری خواہش تھی کہ میری شادی ایک فوجی سے ہو۔ اللہ نے یہ خواہش پوری کی، مگر میں نادان یہ نہ جان سکی کہ فوجی کی زندگی جتنی کٹھن ہوتی ہے، اس کے پیچھے کھڑا گھر بھی اتنا ہی مضبوط ہونا پڑتا ہے۔”
انہوں نے کہا کہ شہید طحٰہ سے ان کا آخری جھگڑا اُن عناصر کے بارے میں تھا جو پاک فوج کے خلاف زہر اُگلتے ہیں۔
“جب میں نے لوگوں کو کہتے سنا کہ فوج تو پیسوں کے لیے لڑتی ہے، تو میں نے طحٰہ سے کہا کہ آپ واپس آجائیں۔ مگر انہوں نے ایک بات کہی، جو میری زندگی کا سبق بن گئی:
‘چند برے لوگوں کی وجہ سے میں اپنے ملک اور مذہب کے ساتھ کیا گیا وعدہ نہیں توڑ سکتا۔ جیسے والدین اپنی اولاد کو برا ہونے کے باوجود بددعا نہیں دیتے، ویسے ہی میں اپنے وطن سے منہ نہیں موڑ سکتا۔’“
تقریب کے شرکاء اُس وقت مزید پرنم ہو گئے جب انہوں نے ایک سوالیہ انداز میں قوم کے کچھ حلقوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا:
“فوجی آپ کے ملازم نہیں، محافظ ہیں! کون سا خزانہ لٹا رہے ہیں ہم ان ‘ملازموں’ پر؟ جب سیلاب آئے، زلزلے گریں، آگ بھجانی ہو یا کہیں لفٹ میں لوگ پھنسے ہوں—ہر جگہ یہی فوجی پہنچتے ہیں۔”
ان کا کہنا تھا کہ صرف ایک رات کے لیے بارڈر پر کھڑے ہونے کا تصور بھی روح کو ہلا دیتا ہے۔
“آپ مجھے ایک لاکھ دے دیں، صرف ایک رات بارڈر پر گزار کے دکھا دیں۔ میں اپنا سب کچھ دے دوں گی، صرف میری بیٹی کا باپ واپس لا دیں!”
خطاب کے آخر میں انہوں نے فوج پر تنقید کرنے والوں کو مخاطب کرتے ہوئے دوٹوک الفاظ میں کہا:
“اگر آپ پاک فوج کے بارے میں اچھا نہیں کہہ سکتے، تو مہربانی فرما کر اپنی زبانوں کو خاموش کروا دیں۔ اور اگر نہیں ہو سکتا، تو انہیں کاٹ دیں، میں پیسے دے دوں گی۔ کیونکہ آپ کو تو لگتا ہے کہ فوجی کے لیے پیسہ ہی سب کچھ ہوتا ہے!”
ان کے جذباتی الفاظ ختم ہوئے تو پورا ہال تالیوں اور آنکھوں سے بہتے آنسوؤں سے گونج اٹھا۔
الحاج فضل آمین خان چھوٹا لاہور صوابی



