تحریر: سعدیہ نارو
۱۹ جولائی ۲۰۲۵
ہمیں سکردو میں آئے دوسرا دن تھا اور سارا دن ہمیں فراغت تھی۔ اگر آپ کے پاس کچھ وقت میسر ہو اور آپ اپنے اردگرد خوبصورت مقامات نہ دیکھیں تو یہ وقت اور ان جگہوں کی نا قدری ہے۔ دن گرم تھا لیکن سکردو کے اردگرد ایک دو خوبصورت جگہیں دیکھی جا سکتی تھیں۔ ناشتے سے فارغ ہوئے تو ہم نے شنگریلا ریزارٹ جانے کا پروگرام بنا لیا۔ پہلے دن ائیرپورٹ پر ایک ڈرائیور چاچا نے اپنا کارڈ تھمایا تھا۔ وہ بھلے مانس لگے تھے تو شنگریلا ریزارٹ جانے کے لیے ان کو فون کر کے بلوا لیا۔ ہم تقریبا ڈیڑھے بجے سمٹ ہوٹل سے جھیل کے لیے روانہ ہو گئے۔


شنگریلا جھیل جسے زیریں کچورہ جھیل بھی کہا جاتا ہے سکردو شہر سے بیس سے پچیس منٹ کے فاصلے پر ہے۔ ہم دو بجے شنگریلا جھیل کے گیٹ پر پہنچ گئے اور اس کی اینٹری ٹکٹ خرید لی جو ایک ہزار فی شخص ہے۔ جھیل کو جاتے راستے کے دائیں جانب وسیع و عریض ہرا بھرا لان تھا۔ جس میں لگے رنگ برنگے پھول اور انواع و اقسام کے پودے آنکھوں کو فرحت بخش رہے تھے۔ پھولوں کی آرائش اور پودوں کی تراش خراش نہایت دیدہ زیب تھی۔ تمام راستے کو پھولوں سے لدی کیاریوں سے سجایا گیا تھا۔

شنگریلا جھیل کے کنارے ٹورسٹ ریزارٹ تھا جو یہاں آنے والے سیاحوں کے لیے بہترین قیام گاہ ہے۔ شنگریلا ریزارٹ ہوٹل ۱۹۸۳ میں بنایا گیا تھا اور یہ سکردو بلتستان کا پہلا ٹورسٹ ریزارٹ تھا۔ اس کی خوبصورتی، دلکش نظاروں اور پُر سکون ماحول کی وجہ سے اسے “زمین پر جنت” کا نام دیا گیا تھا۔ شنگریلا ریزورٹ ہوٹل کی بنیاد مرحوم بریگیڈیئر (ریٹائرڈ) محمد اسلم خان نے رکھی تھی۔

میں نے شنگریلا جھیل کو اکثر تصاویر میں دیکھا تھا اب یہ اپنے مکمل حسن اور سبزہ زاروں کے ساتھ میری آنکھوں کے سامنے تھی۔ اس کا پانی ہرے رنگ کا اور اتنا صاف شفاف تھا کہ تہہ پر پڑے پتھر اور تیرتی مچھلیاں صاف نظر آ رہیں تھیں۔ رنگ برنگے پھول، بلند و بالا پہاڑ، سفید بادلوں سے سجا نیلا آسمان اور خوبصورت نظارے ہمارے لیے کسی نعمت سے کم نہیں تھے۔ دھوپ تیز تھی لیکن اطراف میں پھیلی ہریالی آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچا رہی تھی۔ ملک کے مختلف علاقوں سے گرمی کے ستائے شہری شنگریلا کے مسحور کن نظاروں سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔ خواتین اور بچے جھیل کے پانی میں بوٹنگ کا مزہ بھی لے رہے تھے۔ ہمیں وہاں زیادہ دیر ٹھہرنے اور کھانے پینے کا موقع نہیں مل سکا کیونکہ شگر سے ایک دوست ہمیں ملنے اور سوق ویلی کی سیر کروانے کے لیے پہنچ چکے تھے۔
جاری ہے ۔



