تحریر: عابد حسین قریشی
چند یوم قبل ایک آرٹیکل” کبھی اپنے آپ سے ملاقات بھی ہوجائے” کے عنوان سے لکھا۔ دوستوں نے بہت پسند کیا۔ آج زندگی کے اسی پہلو پر غور و فکر کرتے من اور تن کی دنیا پر چند جملے دل و دماغ پر کچھ اثرات چھوڑ گئے۔اگرچہ ڈاکٹر علامہ اقبال نے اس تن اور من کی بحث میں بہت گہرائی میں جا کر لکھا ہے۔ مگر اس خاکسار نے اجمالاً چند فقرے اس موضوع پر لکھے ہیں۔ علم و ادب سے شغف رکھنے والے دوست ردیف قافیہ نہ ڈھونڈیں،البتہ صاحب نظر اس سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔ ویسے زندگی تو نہال ہے۔ من کی دنیا میں بھونچال ہے۔ تن کی دنیا تو صرف دھوکہ ہے۔ من کی دنیا محبت کا جھروکہ ہے۔ من کی دنیا میں چاہت ہے، راحت ہے۔ تن کی دنیا میں بے حد قباحت ہے۔ من کی دنیا معرفت ہے، صداقت ہے۔ تن کی دنیا میں بناوٹ ہے، ملاوٹ ہے۔ من کی دنیا تو خدا کا اک راز ہے۔ تن کی دنیا تجارت ہے،بازار ہے۔ من کی دنیا محبت و شفقت کا انگ ہے۔ تن کی دنیا اک مصنوعی سا رنگ ہے۔ من کی دنیا سود و زیاں سے ماورا ہے۔ تن کی دنیا ریاکاری کا بھر بھرا ہے۔ من کی دنیا اخلاص ہے، غمگساری ہے۔ تن کی دنیا مطلب براری اور عیاری ہے۔ من کی دنیا تو خدا کو پیاری ہے۔ تن کی دنیا صرف کھجل خواری ہے۔ من کی دنیا نصیب والوں کا جائے قرار ہے۔ تن کی دنیا غرض کے لئے بیقرار ہے۔ من کی دنیا وفاوں میں جزاوں میں۔ تن کی دنیا صرف ہواؤں اور فضاوں میں۔ من کی دنیا ہی حاصل زندگی ہے۔ تن کی دنیا تو باعث شرمندگی ہے۔



