حقیقی اخبارت بقابلہ جعلی اخبارات

تحریر: انجینئر افتخار چودھری

پاکستان ایک ایسا ملک ہے جو بیک وقت کئی بحرانوں کی لپیٹ میں ہے۔ سیاسی عدم استحکام، معاشی بحران، کرپشن، بے روزگاری، اور سب سے بڑھ کر ایک ایسی جعلی میڈیا انڈسٹری وجود میں اچکی ہے جو اپنے اصل کردار سے کوسوں دور ہے۔ جس کا واحد مقصد اصل اخبارت کے اشتہارات اور صحافیوں کی مراعات پر ۂاتھ صاف کرنا ہے ،صحافت جسے ریاست کا چوتھا ستون کہا جاتا ہےآج خود احتساب سے عاری، مراعات یافتہ اور دھوکہ دہی کا مرکز بن چکی ہے۔
ملک بھر میں ہزاروں کی تعداد میں ڈکلریشن کے حامل اخبارات موجود ہیں اور ملی بھگت سے سرکولیشن سرٹیفکیٹ بھی ہزاروں میں لے رکھا ہے لیکن اگر ان کی حقیقی سرکولیشن، مواد، معیار اور اثر کا جائزہ لیا جائے تو تصویر کچھ اور ہی نظر آتی ہے یہ ایک ہی اخبار کا چربہ ہوتے ہیں اور شہر میں دو تین افراد بنا کر پیشانی بدلتے اور دو خبریں لگانے کے روزانہ ہزار سے پانچ سو روپیہ چارج کرتے ہیں جسے سوشل میڈیا کے نام پر میڈیا کی نظر کر دیا جاتا ہے ، جنہیں صحیح طرح سے اردو نہی اتی انگریزی اخبار کے چیف ایڈیٹر بنے ہوئے ہیں ، حضرات گرامی یہ کالم کسی خاص حکومت یا سیاسی جماعت کے خلاف نہیں، بلکہ ایک ایسا آئینہ ہے جس میں ہر حکومت، ہر دور اور حقیقی صحافتی قیادت کے دعویدار کو دیکھنے کی ضرورت ہے۔
پاکستان میں ان اخبارات میں سے بیشتر کا حال یہ ہے کہ وہ ہفتے میں بمشکل ایک یا دو مرتبہ چھپتے ہیں وہ بھی جب سرکاری اشتہار ملے اس پر بھی کمشن دی جاتی ہے انکی طباعت ، صرف چند درجن کاپیوں کی ہو تی ہے ایک خاص سوہان میں واقع پریس ان میں روح بھونکتی ہے انکا کوئی باقاعدہ قارئین نہیں، نہ رجسٹرڈ با ضابط ویب سائٹ، سوشل میڈیا وزارت اور سفارت خانوں کو وٹس ایپ کر دیا جاتا ہے اور نہ ہی کوئی تحقیقی مواد — لیکن سرکولیشن دکھائی جاتی ہے لاکھوں میں۔ اس جھوٹ کی بنیاد پر انہیں وفاقی و صوبائی حکومتوں کے اشتہارات چمک کی بدولت ملتے ہیں، فنڈز جاری ہوتے ہیں، اور عوام کے خون پسینے کی کمائی کا پیسہ ان جعلی اداروں کی جیبوں میں چلا جاتا ہے جو حقیقی اخبارت کا حق مارا جاتا ہے
ایک پرنٹنگ پریس،جعلی اخبارت کے لوگ خود کو ایڈیٹر، چیف ایگزیکٹو اور میڈیا مین بنا کر اس ملک کے سسٹم کو چونا لگا رہے ہیں۔
وفاقی وزارت اطلاعات اور اس سے وابستہ ادارے، خاص طور پر پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ، آڈٹ بیورو سرکولیشن ان جعلی اخبارات کے سب سے بڑے معاون بن چکے ہیں۔ اشتہارات کی تقسیم کا معیار کیا ہونا چاہیے؟ عام فہم جواب ہو گا: سرکولیشن، مواد کا معیار، عوامی رسائی، اثر پذیری،لیکن یہاں معیار یہ ہے کہ کس کا کس وزیر، سیکریٹری یا پی آئی او سے تعلق ہے؟ کس اخبار نے کس کی تعریف میں کالم لکھا؟ کسے کس ورکشاپ یا سیمینار میں بلایا گیا؟ یہاں حقیقی صحافت سے الگ صحافت کاروبار بن چکی ہے، اور اشتہارات اس کاروبار کی رگِ جاں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بڑے بڑے اخبارات کے مالکان بھی اس سے پریشان اور ورکر کو تنخواہیں دینے سے عاری ہیں بعض بڑے اخبارت مدت سے اس کھیلوں میں ملوث پائے جاتے ہیں وہ اے پی این ایس اور سی پی این ای میں ووٹ بڑھانے کیلئے مدت سے ایسا کر رہے ہیں ۔
جب کسی بھی حکومت کا وزیر اطلاعات اس بات کو اپنا فرضِ اولین سمجھ لے کہ وہ مخصوص اخباروں کو نوازے، مخصوص اینکرز کوبھاری تنخواہ پر سرکاری ٹی وی پر نوکری دے، اس میں بھی حصہ داری بیان کی جاتی ہے ،آج “قومی مفاد” کے نام پر صحافت کو استعمال کیا جا رہا ہے۔ میڈیا کے نام پر جو کانفرنسیں، ورکشاپیں اور سیمینار منعقد ہوتے ہیں، وہ دراصل پی آر ایکٹیویٹیز ہوتی ہیں جن میں مخصوص افراد کو نوازا جاتا ہے۔ اور افسوسناک پہلو یہ ہے کہ یہ سب کچھ حکومت کے فنڈ سے ہوتا ہے — یعنی عوام کے ٹیکس کے پیسے سے۔
میرے پاس حکومت پاکستان کے لیے ایک سادہ، شفاف اور مؤثر تجویز ہے جو نہ صرف ان جعلی اخبارات کو بے نقاب کر سکتی ہے بلکہ ریاست کے ریونیو میں بھی خاطرخواہ اضافہ کر سکتی ہے۔ جتنے اخبارات رجسٹرڈ ہیں، ان سب پر سرکولیشن کے مطابق فی کاپی کم از کم 50 پیسے سیلز ٹیکس لگا دیا جائے ساٹھ لاکھ روزانہ کی سرکولیشن والے تیس لاکھ روزانہ ادا کریں گے ۔۔؟؟؟ اگر کسی اخبار کی سرکولیشن کا دعویٰ ایک لاکھ ہے تو ماہانہ بنیاد پر پچاس ہزار روپے ٹیکس ادا کرنا ہو گا اس سے اخبارت اپنی حقیقی سرکولیشن پر اجائیں گے ۔
اور یہاں سب سے اہم سوال یہی ہے: جب حکومت انہی اخباروں کو ان کی سرکولیشن کے مطابق اشتہارات دیتی ہے، تو پھر ان ہی سرکولیشن اعداد و شمار کے مطابق ان سے ٹیکس کیوں نہیں لیا جاتا؟ اگر ایک اخبار یہ کہتا ہے کہ اس کی سرکولیشن ایک لاکھ ہے اور اسی دعوے پر وہ لاکھوں روپے کے اشتہارات وصول کرتا ہے، تو پھر اسی بنیاد پر وہ ٹیکس سے مستثنیٰ کیسے ہو سکتا ہے؟ یہ وہ بنیادی تضاد ہے جو حکومتی پالیسی میں موجود ہے اور جسے دور کرنے کے لیے صرف ارادہ درکار ہے، کوئی اضافی قانون سازی نہیں۔
جب ایک ملک کا ایک الگ میڈیا ہی جھوٹ پر قائم ہو گیا تو اس کی باقی اداروں سے سچ کی امید کیسے رکھی جا سکتی ہے؟ اگر وزیراعظم پاکستان واقعی ٹیکس نیٹ کو وسعت دینا چاہتے ہیں اور ریاستی اداروں پر سے کرپشن کا داغ مٹانا چاہتے ہیں تو انہیں سب سے پہلے اس شعبے میں شفافیت لانا ہو گی۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ تمام اخبارات کی سالانہ آڈٹ رپورٹ لازمی قرار دی جائے۔ ہر اخبار کی اصل سرکولیشن کی تیسرے فریق سے تصدیق کروائی جائے۔ جن اخبارات کی سرکولیشن دس ہزار سے کم ہو، ان کے لیے اشتہارات بند کیے جائیں۔ فی کاپی ٹیکس کے نفاذ کے بعد صرف وہی اخبارات اشتہارات کے اہل ہوں جو ٹیکس ادا کرتے ہوں۔
قائداعظم محمد علی جناح نے ایک اصولی، دیانتدار اور باوقار ریاست کا خواب دیکھا تھا۔ آج بدقسمتی سے انہی کے نام پر اخبارات نکالنے والے حضرات اپنے مالی مفادات کے لیے ہر اصول کو روندتے ہیں۔ قائداعظم نے فرمایا تھا: “بدعنوانی، اقربا پروری اور جھوٹ نئی ریاست کو تباہ کر دیں گے۔” کیا ان کے نام پر کاروبار کرنے والے مالکان ان الفاظ کا سامنا کر سکتے ہیں؟
پاکستانی صحافت آج ایک فیصلہ کن دوراہے پر کھڑی ہے۔ اگر اب بھی حکومت نے، خاص طور پر وزارتِ اطلاعات اور اس کے متعلقہ اداروں نے اس شعبے کو منظم نہ کیا، تو آنے والے وقت میں صحافت عوام کی آواز کی بجائے صرف ایک مراعات یافتہ طبقے کا ہتھیار بن جائے گی۔ میری وزیراعظم پاکستان، وزیر اطلاعات، ایف بی آر اور چیف جسٹس آف پاکستان سے اپیل ہے کہ وہ اس مسئلے کو سنجیدگی سے دیکھیں، اور فوری اصلاحات لائیں۔ جعلی میڈیا پر چڑھا ہوا یہ نقاب اتارنا ہو گا تاکہ حقیقی صحافت پروان چڑھ سکے قوم سچ اور جھوٹ میں تمیز کر سکے میرا مقصد ایک اہم قومی مسئلے کو اجاگر کرنا تھا ہمیں اب اسطرف متوجہ ہونا ہو گا۔



  تازہ ترین   
آبنائے ہرمز سے خود تیل لائیں، امریکا مدد نہیں کرے گا: ٹرمپ یورپی ممالک پر برس پڑے
اسلام آباد میں تاجر کا قتل افسوسناک واقعہ، گینگ گرفتار کر لیا: طلال چودھری
وزیر خارجہ اسحاق ڈار ایک روزہ دورہ پر چین پہنچ گئے
اسحاق ڈار کا دورہ اہم، ایران سمیت علاقائی امور پر یکساں مؤقف رکھتے ہیں: چین
ٹرمپ آبنائے ہرمز کے بغیر بھی جنگ ختم کرنے پر آمادہ: امریکی اخبار، عرب ممالک اخراجات دیں: وائٹ ہاؤس
ثالثی پیشکش نیک نیتی پر مبنی، فیصلے فریقین نے خود کرنے ہیں: سفیر پاکستان
اسرائیلی پارلیمنٹ میں فلسطینیوں کو سزائے موت دینے کا متنازعہ قانون منظور
ایران کے اسرائیل اور امریکی کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، ویپن سپورٹ تنصیبات پر حملے





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر