ویب ڈیسک(نیشنل ٹائمز)ڈاکٹروں کی بین الاقوامی تنظیم ڈاکٹرز وِد آؤٹ بارڈرز کا کہنا ہے کہ اسرائیل مقبوضہ غزہ میں افراتفری اور قتل عام کی منظم ریاستی پالیسی پر عمل کر رہا ہے۔غزہ میں ڈاکٹرز وِد آؤٹ بارڈرز کی پروجیکٹ کوآرڈینیٹر کیرولین ولیمز (Caroline Willemen) نے بتایا کہ غزہ کے محصور علاقے میں خوراک اب بھی انتہائی حد تک نایاب ہے، لوگ روزانہ خوراک کی تلاش میں اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔دوسری جانب اٹلی نے اعلان کیا ہے کہ وہ غزہ میں فضائی امداد کی فراہمی کا آغاز کرے گا جبکہ اسپین نے بھی کل غزہ میں 12 ٹن خوراک فضائی سے گرانے کا اعلان کیا تھا۔ اس سے قبل برطانیہ اور فرانس بھی مشرق وسطیٰ کے ممالک کے ساتھ مل کر فلسطینی علاقے میں انتہائی ضروری انسانی امداد کی فضائی فراہمی کر چکے ہیں۔غزہ کی وزارت صحت کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں 2 بچوں سمیت مزید 3 افراد بھوک اور غذائی قلت کے باعث شہید ہو گئے، جس کے بعد بھوک سے شہادتوں کی مجموعی تعداد 162 ہو گئی ہے جن میں 92 بچے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ جمعے کو اسرائیلی حملوں میں 80 سے زائد فلسطینی جاں بحق اور 270 سے زائد زخمی ہوئے، ان میں سے 49 افراد اُس وقت مارے گئے جب وہ امداد حاصل کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔
اسرائیل غزہ میں قتل عام کی منظم ریاستی پالیسی پر عمل پیرا ہے: ڈاکٹرز وِد آؤٹ بارڈرز



