مہتاب عزیز
برطانیہ میں “توہین رسالت قانون” کا خاتمہ! پاکستان میں وہی کھیل دہرایا جا رہا ہے۔
توہین رسالت ﷺ کا قانون پاکستان میں محض آئینی دفعہ نہیں بلکہ مسلمانوں کے دلوں میں رسول اللہ ﷺ سے عشق کا مظہر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب کبھی اس قانون کے خاتمے کی بات ہوتی ہے تو ملک میں ایک طوفان کھڑا ہو جاتا ہے۔ کوئی حکومت، کوئی جج، کوئی پارلیمنٹ آج اس قانون کو یک جنبش قلم ختم کرنے کی ہمت نہیں کر سکتی۔ لیکن کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ دشمنانِ دین ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں؟
ہرگز نہیں!
اسلام دشمنوں نے تاریخ سے سبق سیکھا ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ کسی حساس قانون کو ختم کرنے کا بہترین راستہ یہ ہے کہ پہلے اسے “غیر مؤثر” کیا جائے، اسے اس حد تک کھوکھلا کیا جائے کہ عوام کے شعور سے اس کی اہمیت ختم ہو جائے، اور پھر ایک دن خاموشی سے اس کی تدفین کر دی جائے — اور یہی کھیل جس طرح برطانیہ میں کھیلا گیا تھا، آج پاکستان میں بھی اسے دہرایا جا رہا ہے، کیونکہ پاکستان اور برطانیہ کے قانون سازی اور عدالتی نظام میں گہری مماثلت ہے۔
برطانیہ اس کی زندہ مثال ہے جہاں “توہین رسالت” (یسوع مسیحی) کے قوانین صدیوں تک نہ صرف موجود رہے بلکہ ان کے تحت ہزاروں افراد کو موت اور قید کی سزائیں دی گئیں۔ نائٹس ٹیمپلر سے لے کر تھامس آئکن ہیڈ اور جان ولیم گوٹ تک، یورپی عدالتوں اور بادشاہوں نے ان قوانین کو استعمال کر کے گستاخوں کو سزا دی۔ مگر پھر ان قوانین کو عدالتوں کے ذریعے غیر مؤثر بنایا گیا اور آخرکار مکمل طور پر ختم کر دیا گیا۔
برطانیہ میں توہین رسالت کے قانون کو ختم کرنے کا راستہ دو بنیادی مرحلوں پر مشتمل تھا:
اوّل: قانون کی تعریف کو محدود کرنا۔
دوئم: عدالتوں کے ذریعے اسے عملی طور پر غیر مؤثر بنانا تاکہ سزا کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہو جائیں، اور بالآخر قانون کو رسمی طور پر ختم کرنا محض ایک کاغذی کارروائی بن جائے۔
برطانوی عدالت نے آخری بار 1697ء میں تھامس آئکن ہیڈ کو گستاخی کے جرم میں پھانسی کی سزا سنائی تھی۔ اس کے بعد عدالتوں نے سزائے موت کا دروازہ بند کر دیا۔
1817ء میں “ولیم ہنی کیس” میں “جسٹس ایلن پارک” نے بے پناہ عوامی دباؤ کے باوجود ملزم کو بری کر دیا، عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ “پیغمبر کی ہر گستاخی قابلِ سزا نہیں ہوتی، بلکہ نیت اور طریقہ کار کو بھی دیکھا جائے گا”۔
اس کے بعد 1883ء میں “لارڈ چیف جسٹس کولریج” نے مشہور زمانہ “فوٹ کیس” میں فیصلہ دیتے ہوئے کہا تھا:
“ہر تنقید توہین نہیں ہوتی، جرم وہ ہوتا ہے جہاں بدنیتی کے ساتھ مذہب کا مذاق بنایا جائے۔”
یہ وہ فیصلہ تھا جس نے عملاً برطانیہ میں “توہین رسالت کے قانون” کی بنیاد ہی ہلا دی تھی۔ اس کے بعد عدالتوں نے “بدنیتی” کو شرط بنا کر قانون کو گرفت سے آزاد کرنا شروع کر دیا۔
1921ء میں “جان ولیم گوٹ” کو گستاخی کے جرم میں آخری بار قید کی سزا ہوئی۔ اس کے بعد قانون صرف کتابوں میں قید ہو کر رہ گیا۔ عدالتیں مقدمات خارج کرنے لگیں، پراسیکیوشن ناکام ہونے لگا، اور قانون اپنی موت آپ مرنے لگا۔
پھر 2008ء میں برطانیہ کی پارلیمنٹ نے بغیر کسی مزاحمت کے توہین رسالت کے قانون کو مکمل ختم کر دیا۔ نہ کوئی احتجاج ہوا، نہ کوئی ہنگامہ۔ کیونکہ عوام کو پہلے ہی اس قانون کے وجود کا احساس ختم کر دیا گیا تھا۔
پاکستان میں وہی کھیل: “نیت” کا کھیل اپنا کر برطانیہ کی تاریخ دہرائی جا رہی ہے — اسلام آباد ہائی کورٹ کے حالیہ فیصلے کے بعد اب عدالتوں کے اندر “توہین رسالت” کے مقدمات میں “نیت” کے عنصر پر بحث ہوگی۔ “بدنیتی” کا “ثبوت” نہ ہونے کا مطلب یہ لیا جا سکے گا کہ “توہین ہوئی ہی نہیں”۔
پاکستان جیسے ملک میں مقدمات کے اندراج کا مشکل ترین طریقہ کار، گرفتاری کے لیے کڑی شرائط اور پراسیکیوشن کے لیے انتہائی سخت شرائط کے ذریعے قانون کا عملاً جنازہ نکالا جا رہا ہے۔
یہی وہ طریقہ کار تھا جو برطانیہ میں “توہین رسالت کے قانون” کی قبر کھود چکا ہے، اور اب پاکستان میں یہی چال چلی جا رہی ہے۔
خبردار رہیں!
کاغذ پر قانون باقی رہے گا لیکن عملدرآمد نہ ہونے کی وجہ سے قوم کا دینی و جذباتی شعور مفلوج ہوتا چلا جائے گا۔ اور جب کل اسے باقاعدہ ختم کرنے کی سازش کی جائے گی تو کوئی سڑکوں پر آنے والا نہیں بچے گا، کیونکہ عدالتوں اور قانون نے پہلے ہی اسے غیر مؤثر کر دیا ہوگا۔
یہ کھیل خاموشی سے جاری ہے، بہت ہی نرم لہجوں میں لپٹا ہوا ہے، لیکن اس کے انجام کا پتہ ہمیں تاریخ دے رہی ہے۔ فی الحال قانون کو ختم کرنے کی کوشش نہیں ہو رہی۔ اس وقت جدوجہد یہ ہے کہ اس قانون کو اس قدر کھوکھلا کر دیا جائے کہ اس کے خاتمے پر کوئی مزاحمت باقی نہ بچے۔



