تحریر: عالمگیر آفریدی
عالمگیریت کے اس دور میں صحت کا شعبہ تیزی سے ترقی کرنے والا اور سب سے زیادہ بین الاقوامی نقل و حرکت رکھنے والا شعبہ بن چکا ہے۔ دنیا کے مختلف ممالک کو مختلف شعبوں کے ماہر ڈاکٹروں، ماہرین دندان، فارماسسٹس، فزیوتھراپسٹس، آکوپیشنل تھراپسٹس، نرسز اور دیگر پیرامیڈیکل عملے کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ پاکستان کے میڈیکل، ڈینٹل، نرسنگ اور الائیڈ ہیلتھ سائنسز کے گریجویٹس کے لیے بیرون ملک ملازمت نہ صرف معاشی فوائد کا ذریعہ ہے بلکہ یہ ان کی پیشہ ورانہ ترقی کا بھی ایک موثر راستہ ہے۔ تاہم ان مواقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے سب سے اہم شرط زبان کی مہارت ہے، صرف انگریزی نہیں بلکہ اب فرانسیسی، ہسپانوی، روسی، عربی، جرمن اور چینی زبانوں میں بھی مہارت ضروری ہو گئی ہے۔ عالمی ادارہ صحت (WHO) کے مطابق 2030 تک دنیا کو ایک کروڑ صحت کے پیشہ ور افراد کی کمی کا سامنا ہو گا، جس میں زیادہ تر کمی کم اور متوسط آمدنی والے ممالک میں ہو گی، لیکن ترقی یافتہ ممالک میں بھی عمر رسیدہ آبادی کے باعث مانگ میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ان مواقع کو پیش نظر رکھتے ہوئے اگر پاکستان کے طبی اور نیم طبی اداروں سے فارغ التحصیل نوجوان لسانی اور لائسنسنگ رکاوٹوں پر قابو پالیں تو وہ عالمی صحت نظام میں موثر کردار ادا کرنے کے قابل ہو سکتے ہیں۔
ان بین الاقوامی چیلنجز اور مواقع کو سمجھنے کے لیے زیر نظر کالم میں دیے گئے اعداد و شمار نہ صرف توجہ کے حامل ہیں بلکہ ان کو بنیاد بنا کر اگر پاکستان کے طبی تعلیمی ادارے اپنے تعلیمی پروگراموں میں عمومی کورسز کے ساتھ ساتھ ان دی گئی زبانوں کی تفہیم اور بول چال کو بھی شامل کریں اور اس کے لیے ایک مخصوص میکنزم ترجیحی طور پر بنایا جائے تو بیرون ملک ملازمت کے ان اعلیٰ مواقع سے یقیناً فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق دنیا بھر میں 1.5 ارب سے زائد افراد انگریزی بولتے ہیں، جب کہ یہ بین الاقوامی طب، تحقیق، اور تعلیم کی بھی بنیادی زبان ہے۔ انگریزی ویسے تو بالعموم ساری دنیا میں کسی نہ کسی حد تک بولی اور سمجھی جاتی ہے لیکن امریکہ، برطانیہ، آسٹریلیا، کینیڈا، آئرلینڈ، نیوزی لینڈ اور خلیجی ممالک میں اس کو قومی زبان کا درجہ حاصل ہے۔ انگریزی زبان کے لیے IELTS/TOEFL جیسے کورسز میں اعلیٰ اسکور کا حصول ضروری ہے۔ یہ کورسز برطانیہ میں PLAB، امریکہ میں USMLE اور آسٹریلیا و نیوزی لینڈ میں AMC جیسے پیشہ ورانہ امتحانات پاس کرنے کے لیے لازمی ہیں۔
دنیا کی دوسری اہم بین الاقوامی زبان فرانسیسی کو سمجھا جاتا ہے جس کے ذریعے فرانکوفون صحت کے نظام تک رسائی حاصل کی جا سکتی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق دنیا میں تقریباً 30 کروڑ سے زائد افراد فرانسیسی زبان بولتے یا سمجھتے ہیں جن ممالک میں فرانسیسی زبان بولی اور سمجھی جاتی ہے ان میں فرانس، کینیڈا (کیوبک) ، بیلجیئم، سوئٹزرلینڈ اور افریقہ کے بعض ممالک شامل ہیں۔ کینیڈا (کیوبک) کی امیگریشن اسکیمز فرانسیسی بولنے والے طبی ماہرین کو ترجیح دیتی ہیں جب کہ اس کے لیے DELF، DALF، TEF Canada کے سرٹیفیکیٹ کورسز کی اہمیت ہے۔ ماہرین کے مطابق صرف کیوبک میں 2030 تک 10 ہزار سے زائد نرسوں کی ضرورت ہوگی جن کے لیے فرانسیسی زبان کا جاننا ضروری ہے۔ یورپ میں اعلیٰ تنخواہ والی ملازمتوں کے ضمن میں جرمن زبان کو خصوصی اہمیت حاصل ہے جس کے بولنے والوں کی تعداد 13.5 کروڑ سے زیادہ ہے۔ جرمن زبان زیادہ تر جرمنی، آسٹریا، سوئٹزرلینڈ میں بولی اور سمجھی جاتی ہے۔ جرمن ذرائع کے مطابق صرف جرمنی میں 2030 تک 50 ہزار نرسیں اور 20 ہزار سے زائد ڈاکٹرز درکار ہوں گے جن کے لیے جرمن زبان میں B 1 /B 2 مہارت اور Goethe یا telc انسٹیٹیوٹس سے سرٹیفائیڈ ہونا ضروری ہے۔
اسی طرح عربی زبان کو خلیج، مشرق وسطیٰ اور دیگر عرب ممالک میں ملازمت کے لیے ضروری تصور کیا جاتا ہے۔ عربی زبان جو کہ اقوام متحدہ کی بھی سرکاری زبان ہے کے بولنے والوں کی تعداد 42 کروڑ سے زائد ہے۔ عربی ہماری نوجوان نسل کے لیے نہ صرف قرآن پاک اور احادیث مبارکہ جیسی بنیادی اسلامی تعلیمات جاننے کے لیے ضروری ہے بلکہ اس کو سیکھ کر ہمارے طبی پروفیشنلز سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، کویت، عمان، مصر اور لیبیا جیسے عرب ممالک میں بھی اعلیٰ ملازمتیں حاصل کر سکتے ہیں۔ اس حقیقت سے ہر کوئی واقف ہے کہ اس وقت بھی پاکستانی ڈاکٹروں اور نرسوں کی ایک بڑی تعداد خلیجی ممالک میں کام کر رہی ہے اگر ہم مستقبل کے طبی ماہرین کو دوران تعلیم ہی عربی زبان سکھانے پر توجہ دیں تو اس سے ہمارے طبی ماہرین کو عرب مریضوں سے موثر رابطے میں مدد ملے گی اور وہ بہتر عہدے و تنخواہوں کے حصول میں بھی کامیاب رہیں گے۔ سعودی اعداد و شمار کے مطابق 2023 تک صرف سعودی عرب میں 30 ہزار سے زائد پاکستانی صحت کے ماہرین ملازم تھے جن کی تعداد میں اضافے کی کافی گنجائش موجود ہے۔
روسی زبان کو یوریشین ممالک میں داخلے کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے، دنیا میں تقریباً 30 کروڑ سے زائد افراد روسی زبان بولتے ہیں جن کا تعلق روس، بیلاروس، یوکرین، لیٹویا، لیتھوانیا، جارجیا، قازقستان، کرغزستان اور مشرقی یورپ سے ہے۔ روسی زبان کی اہمیت کے حوالے سے یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس وقت بھی کئی پاکستانی طلباء روس اور وسط ایشیائی ریاستوں میں میڈیکل کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ اسی طرح اگر پاکستانی گریجویٹس کے لیے بھی روسی زبان سیکھنے کے مواقع پیدا کیے جائیں تو اس سے روس سمیت روس کے زیر اثر اکثر مشرقی یورپی ممالک اور وسط ایشیائی ریاستوں میں ملازمتوں کے امکانات بڑھائے جا سکتے ہیں۔ ان دنوں طبی میدان میں ہسپانوی زبان کی اہمیت بھی مسلسل بڑھ رہی ہے جس کو بولنے والوں کی تعداد تقریباً 50 کروڑ سے تجاوز کرچکی ہے۔ ہسپانوی جن ممالک میں بولی یا سمجھی جاتی ہے ان میں اسپین، میکسیکو، ارجنٹائن، چلی، نیز امریکہ میں بھی اس کی مانگ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ لاطینی امریکہ میں مقامی طبی ماہرین کی کمی کے پیش نظر دیہی علاقوں میں غیر ملکی ڈاکٹروں پر انحصار میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ہسپانوی زبان سیکھنے کے لیے DELE (Diplomas of Spanish as a Foreign Language) کا سرٹیفکیشن کورس کرنا ضروری ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق 2050 تک امریکہ میں 8 کروڑ سے زائد ہسپانوی بولنے والے ہوں گے جس کو مد نظر رکھتے ہوئے اس بات کو سمجھنا مشکل نہیں ہے کہ آنے والے سالوں میں دو لسانی طبی ماہرین کی کھپت میں مزید اضافہ متوقع ہے۔
دنیا کی ایک اور ابھرتی ہوئی زبان چینی ہے جو چین کی معاشی ترقی کے ساتھ دنیا بھر میں مقبول ہو رہی ہے۔ واضح رہے کہ دنیا میں چینی زبان بولنے والوں کی تعداد ڈیڑھ ارب سے زائد ہے جو چین، سنگاپور، تائیوان اور ملائیشیا میں سمجھی جاتی ہے، پاکستان میں چینی سرمایہ کاری کے تحت طبی تعلیم، تحقیق اور تعاون میں جو اضافہ ہو رہا ہے اس کے تناظر میں پاکستان کو اس اہم بین الاقوامی زبان کی افادیت پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اس ضمن میں HSK کا سرٹیفکیشن امتحان اہمیت کا حامل ہے۔
دنیا بلکہ اس خطے کی ایک اور اہم و تاریخی زبان فارسی ہے جو ایران اور وسطی ایشیا سے روابط کا اہم ذریعہ ہے۔ فارسی بولنے والوں کی تعداد ایک محتاط اندازے کے مطابق 15 کروڑ سے زائد ہے جن میں سے زیادہ تر کا تعلق ایران، افغانستان اور تاجکستان سے ہے جب کہ فارسی ان ممالک کے علاوہ بعض خلیجی ممالک اور یورپ و امریکہ میں بھی کسی حد تک سمجھی جاتی ہے کیونکہ ان ممالک میں بعض ایرانی برادریاں آباد ہیں۔ ایران، افغانستان اور بعض وسطی ایشیائی ممالک میں میڈیکل ٹورازم، اور علاقائی تعاون میں ماہرین کی مانگ کے پیش نظر پاکستانی طبی گریجویٹس فارسی زبان سیکھ کر ان ممالک میں بہتر معاوضے پر خدمات انجام دے سکتے ہیں۔
حرف آخر یہ کہ زبان دانی اب محض ایک اضافی خوبی نہیں ہے بلکہ بین الاقوامی ملازمت کے لیے بنیادی شرط ہے۔ پاکستانی طبی، نرسنگ اور الائیڈ ہیلتھ گریجویٹس اگر انگریزی، جرمن، فرانسیسی، عربی، ہسپانوی، روسی، چینی یا دیگر زبانوں میں مہارت حاصل کریں گے تو ان کے لیے دنیا بھر میں ملازمت کے نئے دروازے کھل سکتے ہیں۔ اسٹریٹیجک منصوبہ بندی اور ادارہ جاتی مدد سے پاکستان اپنے ہیلتھ ٹیلنٹ کو عالمی سطح پر مسابقتی قوت میں تبدیل کر سکتا ہے جس سے اگر ایک طرف قیمتی زرمبادلہ حاصل ہو گا تو دوسری جانب اس سے پاکستان کے ان ممالک سے بین الاقوامی تعلقات بھی مضبوط ہوں گے۔



