عابد حسین قریشی
نماز کی قضا ہے ، خدمت کی کوئی قضا نہیں۔ یہ جملہ معروف صوفی منش دانشور اشفاق احمد کی ایک تحریر میں پڑھا تو میں چونک گیا۔ اشفاق احمد مرحوم تو اپنے بابا جی سے صوفی بننے کا گر جاننے گئے تھے۔ مگر انہوں نے اشفاق احمد کو تصوف کے راستہ کا مسافر یہ کہہ کر بنا دیا، کہ صوفی بننے کے لئے تو کچھ ریاضتیں اور چلے کاٹنے پڑیں گے مگر تصوف کے راستہ پر مخلوق خدا کی خدمت سے خدا مل جائے گا،اور پھر انکے بابا جی نے اشفاق احمد کو یہ خوبصورت مگر معنی خیز پیغام اپنے عمل سے دکھایا کہ نماز کی قضا ہے، مگر خدمت کی نہیں۔ دین اسلام کا گہرائی میں جا کر جائزہ لیں تو یہ بات اظہر من الشمس ہوتی ہے، کہ اسلام میں جہاں عبادات کی پابندی پر زور دیا گیا ہے، وہیں مخلوق خدا کی خدمت پر انسان بہت اعلٰی و ارفع مقام پر فائز ہو سکتا ہے۔ وہ نیکی کے اس تصور کو بھی پا جاتا ہے، جو مخلوق خدا کی خدمت میں مخفی ہے۔ ممتاز اسلامی سکالر ڈاکڑ اسرار احمد مرحوم کا ایک بہت مختصر سا ویڈیو کلپ نیک کون ہے، کو جب دیکھا تو عجب وارفتگی اور سرشاری کا عالم برپا ہوا، “کہ اگر کسی نے آپکو تکلیف میں مدد کے لئے پکارا، اور آپ مدد کرنے پر قادر تھے یا مدد کرنے کی پوزیشن میں تھے، مگر مدد نہ کی، تو آپ عابد و زاہد، متقی اور پرہیز گار تو ہو سکتے ہیں، مگر نیک نہیں”۔ پھر اس نقطہ نظر کو جانچنے کے لئے قرآن پاک سے رہنمائی حاصل کی تو عیاں ہوا، کہ چوتھے پارہ کا آغاز ہی اس آیت سے ہو رہا ہے، کہ تم نیکی کو نہیں پہنچ سکتے جب تک اللہ کی راہ میں اپنا وہ مال خرچ نہ کرو جو تمہیں سب سے زیادہ پسند ہے۔ ” قرآن پاک میں عبادات میں سے سب سے زیادہ زور نماز کی ادائیگی پر دیا گیا ہے، اور نماز کسی بھی حالت میں معاف نہیں، مگر سورہ النسا کی متزکرہ بالا آیت میں اور دیگر بھی متعدد جگہ پر نیکی کی معراج اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے کو ہی پکارا گیا ہے۔ ظاہر ہے مخلوق خدا کی خدمت میں دیگر باتوں کے علاوہ مال بھی خرچ کرنا پڑتا ہے۔ یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے، کہ انسانی خدمت اور مخلوق خدا کا خیال رکھنے کے جتنے بھی ممکنہ sources ہیں، ان میں غریب مسکین، یتیم و بیوہ اور مسافر، قیدی اور غرض مندوں پر اپنا مال خرچ کرنا ہے۔ قرآن ہی کے الفاظ میں انسان تھوڑ دلا اور مال سے محبت کرنے والا ہے۔ یہی وجہ ہے، کہ ہم عبادات اور ذکر و اذکار پر زیادہ زور دیتے ہیں، اور بعض اوقات انسانی ہمدردی یا خدمت سے پہلو تہی کر جاتے ہیں۔ بلا شبہ عبادات اور خصوصاً نماز کی پابندی ہمارے دین کی اساس ہیں، لیکن جب مخلوق خدا کی خدمت کا معاملہ آجائے تو اللہ والے اور اللہ کی سننے والے اور اللہ سے ربط رکھنے والے مخلوق خدا کی خدمت کو ترجیح دے جاتے ہیں، کہ نماز کی قضا تو ممکن ہے، لیکن اگر وہ لمحہ جس میں کسی انسان کو مدد کی ضرورت تھی مگر آپ نہ کر سکے، تو اسکی قضا تو ممکن نہیں ہوگی۔ اگر کسی کا بچہ بیمار ہے، اور اسے دوا کے لئے پیسوں کی ضرورت ہے، اور آپ اسکی تکلیف و پریشانی کو نظر انداز کرتے ہوئے گزر جاتے ہیں، خواہ نماز کے لئے جاتے ہیں، تو آپ نے خدمت مخلوق کا وہ موقع کھو دیا جو قدرت آپ کو فراہم کر رہی تھی۔ اگر کوئی غرض مند آپکے در پر آتا ہے، کوئی مدد کی درخواست کرتا ہے، کوئی کھانا مانگتا ہے، کوئی کپڑا یا بچے کی دوائی کا تقاضا کرتا ہے، تو سمجھیں قدرت آپ پر مہربان ہے کہ آپ کو مخلوق خدا کی خدمت کا موقع فراہم کر رہی ہے۔ پھر ایک اور اہم بات کہ اگر آپ کسی کے ہاتھ پھیلانے اور سوال کرنے سے پہلے اسکا چہرہ پڑھ کر ہی اسکی مدد کر دیتے ہیں، تو آپ خدمت کے اعلٰی درجہ کی طرف گامزن ہیں۔ کسی دکھی کے بر وقت آنسو پونچھ دینا بہت سی عبادات پر حاوی ہے۔ مگر ہم شاید اس پہلو پر زیادہ غور نہیں کرتے۔ ہمیں شاید مستقبل کی غیر یقینی صورتحال بے چین و پریشان رکھتی ہے، کہ اگر کل کلاں بوقت ضرورت اپنے پاس کچھ نہ بچا تو میرے بچوں کا کیا ہوگا۔ یہ وہم دراصل اس سوچ کی غماضی کرتا ہے، جو انسان کی مال و دولت سے ازلی محبت کے ساتھ ساتھ خدا پر کمزور یقین اور اعتماد کا مظہر ہوتا ہے۔ میرے خیال میں ہمارے دین میں اصراف منع ہے۔ توازن اور اعتدال کا حکم ہے۔ اور اگر اعتدال کے راستہ پر چلتے ہوئے مخلوق خدا کی خدمت ممکن ہو سکے، تو اپنے اللہ پر بھرپور یقین کے ساتھ یہ خدمت کر جائیں کہ وہ کبھی آپکو یا آپکی اولاد کو نہ تنگدست کرے گا، نہ آپکو اپنے علاوہ کسی کا محتاج۔ یہ کیسے ممکن ہے، کہ آپ اللہ کی مخلوق کی خدمت کریں اور وہ آپ کو لوگوں کا محتاج کر دے۔ وہ تو بڑا انصاف پرور اور اپنی مخلوق سے پیار کرنے والوں سے چار قدم آگے بڑھ کر پیار کرتا اور خیال رکھتا ہے۔ اپنے قرب و جوار میں صرف ان لوگوں کی ہسٹری پر نظر دوڑا لیں، جو چند سال قبل بڑی بڑی فیکٹریوں، پلازوں اور زمینوں کے مالک تھے مگر چند سالوں میں سب کچھ ختم ہو گیا اور قرضوں تلے ایسے دبے کہ سب ٹھاٹ باٹھ جاتا رہا، تو آپکو ایک ہی بات سبھی میں مشترک نظر آئے گی، کہ وسائل ہوتے ہوئے بھی مخلوق خدا کی خدمت سے پہلو تہی اور مال کی محبت میں غریبوں اور کمزوروں کا استحصال۔ نجات کے جتنے راستے بھی ہیں، ان میں مخلوق خدا کی خدمت کا راستہ سب سے آسان اور بہترین ہے۔



