کیا تمام اسلامی ممالک ساتھ کھڑے ہیں؟

تحریر: شمائلہ اعظم خان

اعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰهِ جَمِیْعًا وَّ لَا تَفَرَّقُوْا۪

اور تم سب مل کراللہ کی رسی کو مضبوطی کے ساتھ تھام لو اور آپس میں تفرقہ مت ڈالو

“اسلامی دنیا اس وقت تاریخ کے ایک نازک ترین دور سے گزر رہی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ و جدل، فلسطینی سرزمین پر مسلسل حملے، ایران کے گرد عالمی گھیرا، اور افغانستان میں غیر یقینی صورت حال — یہ سب وہ چیلنجز ہیں جن پر ایک متحد مسلم ردعمل کی اشد ضرورت ہے۔ لیکن کیا واقعی 57 اسلامی ممالک ایک ہی صف میں کھڑے ہیں؟ یا اتحاد صرف الفاظ تک محدود ہے؟”

یہ سوال موجودہ عالمی حالات میں نہایت اہمیت اختیار کر چکا ہے، خصوصاً جب مشرقِ وسطیٰ، فلسطین، ایران اور افغانستان جیسے مسلم ممالک سنگین بحرانوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ بظاہر تمام اسلامی ممالک “امتِ مسلمہ” کے نظریے پر متحد نظر آتے ہیں، لیکن عملی میدان میں ان کے درمیان اتحاد کا فقدان صاف دکھائی دیتا ہے۔ مسلمان دنیا کے 57 ممالک میں آباد ہیں، جو مختلف زبانوں، ثقافتوں اور نسلوں سے تعلق رکھتے ہیں مگر ایک روحانی اور تہذیبی رشتہ انہیں جوڑتا ہے۔

مسلمانوں کے پاس قدرتی وسائل، روحانی ورثہ، اور تاریخی شجاعت کی دولت ہے مگر ان سب کے باوجود مسلمان عملی طور پر منتشر اور کمزور نظر آتے ہیں۔ ان کی قیادت اکثر اپنے ذاتی، علاقائی یا قومی مفادات کو امت کی اجتماعی بھلائی پر ترجیح دیتی ہے۔

حالیہ برسوں میں کئی مواقع ایسے آئے جہاں اسلامی دنیا کو مشترکہ آواز بلند کرنی چاہیے تھی، مگر ہم نے اکثر انہیں تقسیم شدہ پایا ہے جون 2025 میں استنبول میں اسلامی تعاون تنظیم (OIC) کے وزرائے خارجہ اجلاس میں 57 ممالک نے اسرائیل–ایران کشیدگی کے تناظر میں ایک رابطہ گروپ قائم کیا۔ اگرچہ اسرائیل کے حملے کی مذمت کی گئی، مگر ایران کے دفاع کے حق پر مختلف ممالک کے متضاد بیانات نے واضح کر دیا کہ بیانیہ میں بھی یکسانیت نہیں۔

اسی طرح، پاکستان اور ازبکستان نے فروری 2025 میں تاشقند میں فلسطینی ریاست کی حمایت کا اعلان کیا، جو OIC کے عمومی مؤقف سے قدرے مختلف تھا۔ اقوامِ متحدہ میں بحرین اور پاکستان کی نمائندگی نے مسلم امہ کے لیے آواز تو اٹھائی، مگر مسلم دنیا کا اجتماعی ردعمل خاموشی کی تصویر بنا رہا۔

جون 2025ء میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں فلسطین پر قرارداد پر ووٹنگ ہوئی، مگر کئی مسلم ممالک نے غیرجانب دار رویہ اختیار کیا۔

امریکہ–ایران تنازع میں بعض عرب ریاستیں خاموشی یا غیر مشروط حمایت کی راہ پر چلیں، جبکہ ترکی اور ایران نے کھل کر بیانات دیے۔

تیل کی دولت سے مالا مال اسلامی ممالک غریب مسلم ممالک کے محنت کشوں کو ملازمتیں تو فراہم کرتے ہیں، مگر ان کے ساتھ برابری کا سلوک روا نہیں رکھتے۔

ترکی جیسی مثالیں قابلِ ذکر ہیں، جنہوں نے فلسطین، برما، شام، اور عراق جیسے بحرانوں پر کھل کر آواز بلند کی اور عملی اقدامات بھی کیے۔ مگر کیا ترکی اکیلا پورے امت کا بوجھ اٹھا سکتا ہے؟

اسلامی ممالک کی یہ داخلی تقسیم، OIC جیسے اداروں کی کمزوری اور عالمی معاملات میں ان کے غیر مؤثر کردار کی عکاس ہے۔ مسلم ممالک بلاشبہہ مشترکہ مذہب، تاریخ اور ثقافت رکھتے ہیں لیکن جب بات عملی اتحاد

مشترکہ حکمت عملی اور اجتماعی ردعمل کی ہو تو ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے دکھائی نہیں دیتے بلکہ عمل اور فیصلہ سازی میں منتشر اور منقسم نظر آتے ہیں ۔

اسلامی دنیا کے پاس وسائل، تاریخ اور عقیدہ سب کچھ موجود ہے۔ لیکن جب تک ذاتی مفادات پر اجتماعی مفاد کو فوقیت نہیں دی جائے گی، امتِ مسلمہ ایک نعرے سے زیادہ کچھ نہ رہ پائے گی۔



  تازہ ترین   
سکیورٹی فورسز کی خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں کارروائیاں، 32 دہشت گرد ہلاک
بلاول بھٹو زرداری کا آزاد کشمیر الیکشن کے نتائج تسلیم کرنے سے انکار
پیپلزپارٹی دھاندلی کے رونے رو رہی ہے، قیامت کتنے بجے ہے؟ مریم نواز
ایران نے چین سے سیکڑوں فضائی دفاعی میزائل خریدنے کا معاہدہ کر لیا، رائٹرز کا دعویٰ
ایران نے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے انتظام سے متعلق عمان کی تجویز مسترد کردی
آبنائے ہرمز کے انتظام پر صرف ایران اور عمان کا حق ہے: سینئر ایرانی عہدیدار
روزگار کیلئے جامع حکمت عملی پر بھرپور انداز میں کام کیا جائے: وزیراعظم
سعودی عرب اور سینٹ کام کے عراق میں ایران نواز گروپوں کے ٹھکانوں پر حملے





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر