بادِ خزاں کی زد میں آئی چمن

تحریر : عینی خان

یہ وہ معاشرہ ہے جہاں مرد کی زبان کو قرآن سمجھا جاتا ہے، اور عورت کی خامشی کو اقرارِ جرم۔ جہاں پردہ نہ کرنے والی کو فاحشہ کہا جاتا ہے، اور پردے میں لپٹی ہوئی لاش کو بھی بخشا نہیں جاتا۔ یہاں دوستی وقتی، جذبات عارضی اور سچائیاں موسمی ہوتی ہیں۔ نہ وہ چیخ سنائی دی، نہ وہ درد جوڑوں میں پڑا، نہ وہ آنکھ جو نو مہینے سے پتھر بنی دیواروں کو تکتی رہی، نہ وہ سوال جس نے بارہا خاموشی کی چادر کو چھیدا۔۔۔۔حمیرا اصغر مر چکی تھی، اور ہم سب زندہ تھے۔ مرنے والوں میں وہ شامل نہ تھی جو جنازے اٹھواتے ہیں، بلکہ وہ جو جیتے جی دفن ہو جاتے ہیں اور پھر دفنائے جانے کے نو مہینے بعد ان کی خامشی خبر بن کر ابھرتی ہے۔
حمیرا کوئی عام عورت نہ تھی، وہ کردار تھی، وہ فن کا چہرہ تھی، وہ مکالمہ تھی، جسے سماعتیں کبھی پورا نہ سن سکیں۔ اور جب اس کا فن بولتا تھا، معاشرہ چپ ہو جاتا تھا۔۔۔۔لیکن جب وہ چپ ہوئی، سب بولنے لگے۔ وہ کون تھی، کہاں تھی، کس کے ساتھ تھی یہ سب اُن کو پتہ تھا جنہوں نے نو مہینے اس کی گمشدگی پر زبان بند رکھی۔مگر ہاں، کسی کو یہ پتہ نہ تھا کہ وہ کس حال میں مر چکی ہے۔سب کو پتہ تھا وہ کہاں کہاں جاتی تھی تھی۔۔۔
ہم وہ قوم ہیں جو عورت کی ہنسی میں بے حیائی ڈھونڈتے ہیں، اور اُس کے آنسو میں موقع۔ ہم نے اداکارہ کے فن کو اس کی نسوانیت سے ناپا، اور اس کی تصویر سے اس کے کردار کی پیمائش کی۔ ہمیں اس کے کام سے نہیں، اس کے کپڑوں سے مسئلہ تھا۔ ہمیں اس کی ہنر مندی نہیں، اس کی ذات کی گواہی درکار تھی۔ اور پھر ہم حیران ہیں کہ وہ کیوں خاموش ہو گئی؟
شاعری تو ہزاروں شعراء نے بہت کہی، مگر وہ آہ جو حمیرا کے کمرے سے نکلی، شاید میر،غالب ، جون و ساغر کی زمین میں بھی نہ سما سکے۔ وہ جو لمحہ لمحہ اس معاشرے کے طعنوں سے گھلتی رہی، اس کے کاندھوں پر کوئی درد کا ہاتھ نہیں تھا، نہ ہی کوئی گواہ جو کہتا، تم قصوروار نہیں ہو۔
ہم ایسے بے حس زمانے میں زندہ ہیں، جہاں عورت کو پہلے تنہا کیا جاتا ہے، پھر اس کی تنہائی کی تصویریں بانٹی جاتی ہیں۔ جہاں مرد، مذہب کے ٹھیکیدار بن کر عورت کے فیس بک اسٹیٹس سے اس کی نیت ناپتے ہیں، اور جہاں کوڑھ زدہ سوچ کے مفت خور مفتی عورت کو یا تو چادر میں قید دیکھنا چاہتے ہیں یا قبر میں۔ اور اگر وہ کسی فلم میں مسکرا دے، تو انہیں حیا یاد آ جاتی ہے۔۔۔ اور اگر وہ خاموشی سے مر جائے، تو سب کو شرم بھی نہیں آتی۔
اقبال نے سچ کہا تھا،
تم حیاءو شریعت کے تقاضوں کی بات کرتے ہو
ہم نے ننگے جسموں کو ملبوس حیا دیکھا ہے
دیکھے ہیں ہم نے احرام میں لپٹے کئی ابلیس
ہم نے کئی بار مے خانے میں خدا دیکھا ہے

یہ وہی معاشرہ ہے جہاں عورت کو “چیز” سمجھا جاتا ہے۔۔۔یا تو اسے طاق پر رکھا جاتا ہے یا تہمت کے نیچے۔ کوئی اسے انسان سمجھنے کو تیار نہیں، نہ فنکار، نہ ماں، نہ بیٹی، نہ بیوی، صرف اور صرف ایک بدن۔
حمیرا کی موت صرف ایک فرد کی موت نہیں، یہ اس امید کی موت ہے جو فن سے وابستہ عورتیں دل میں پالتی ہیں۔ یہ اس یقین کی شکست ہے کہ ہنر عزت دے گا، کہ معاشرہ فنکار کا احترام کرے گا، کہ ریاست اس کی حفاظت کرے گی۔ اور سب سے کربناک بات یہ ہے کہ وہ نو مہینے تک مردہ پڑی رہی اور کسی کو خبر نہ ہوئی ۔۔۔ایک بے رحم خامشی، ایک چیختی لاش۔
ہمیں سوچنا ہو گا کہ ہم نے کس دنیا کو جنم دیا ہے، اور کس انصاف کو دفنایا ہے۔ جب ایک فنکارہ کو اس کی زندگی میں جگہ نہ ملے، اور اس کی موت پر بھی الزام تراشیاں ہوں، تو یہ نہ صرف اس کے لیے، بلکہ پورے معاشرے کے لیے ماتم ہے۔ ہم سب شریکِ جرم ہیں۔ وہ گئی، مگر ایک سوال چھوڑ گئی کیا آئندہ بھی ہر فنکارہ کو پہلے مرنا ہو گا، تب جا کے اسے سنجیدگی سے لیا جائے گا؟
میرے ایک دوست اعجاز بلوچ اپنے کالم میں لکھتے ہیں کہ” میں چاہتا ہوں کہ ایک جنگ ہو اور یہ جنگ عورت کو محض عزت کے مجسمے سے نکال کر، انسان کی حیثیت دلائے۔ہر عورت فاطمہ جناح ،رضیہ سلطانہ، مادر ٹریسا، بینظیر و عاصمہ جہانگیر ہو۔ وہ بولے،وہ پڑھے، وہ لکھے،وہ قیادت کرے اور وہ سوال کرے بغیر ڈرے، بغیر رکے۔ وہ اپنے خیالات کا آزادانہ اظہار کرے، اور اس کا ہر لفظ اس کے لیے، اس کی دنیا کے لیے، اور اس کے معاشرے کے لیے ایک سنگ میل ثابت ہو۔
میں چاہتا ہوں ایک عالمی جنگ ہو،اس جنگ میں محبت کی معراج ہو۔ایسی جنگ ہو جس میں دل ہتھیار نہ ہوں، پناہ ہوں۔ ایسی جنگ ہو جس میں جذبے لہو نہ بنیں، زندگی کی تپش ہوں۔ جہاں کوئی قیس مجنوں نہ بنے۔ کوئی لیلیٰ عشق کی سزا نہ کاٹے، کوئی فرہاد بن کر کسی شیریں کو نہ کھوئے کوئی مہینوال کی سوھنی بن کے دریا میں اپنا وجود نہ کھوئے۔ ۔ یہ وہ جنگ ہو جس میں رومی کے عشق کو تعبیر ملے، جہاں حافظ کے شعر محض دیوانوں کے ورد نہ ہوں، بلکہ ضمیر کے نغمے ہوں۔
ایسی جنگ ہو جس میں عورت کو صرف تقدس سمجھا جائے۔ جہاں ماں ہونا عبادت ہو، بیٹی ہونا فخر ہو، اور محبوبہ ہونا اعتماد۔ ایسی جنگ ہو جس میں عزتیں مال غنیمت نہ ہوں، بلکہ شعور کی میراث ہوں۔یہ وہ جنگ ہو جس میں مردانگی کا معیار غصہ نہ ہو، بلکہ معاف کرنا ہو۔”
اور اگر ایسی جنگ ہو تو میں اس کی جری جرنیل نہ سہی صف اول کی ایک ادنیٰ سی سپاہی بننا چاہوں گی۔
معزز قارئین! یہ کالم ختم ہوا، مگر اس کا درد ختم نہیں ہوا۔ کیونکہ ہم ابھی تک وہ قوم ہیں جسے کسی کی زندگی سے زیادہ اُس کی تصویر کی بے حیائی یاد رہتی ہے۔



  تازہ ترین   
آبنائے ہرمز سے خود تیل لائیں، امریکا مدد نہیں کرے گا: ٹرمپ یورپی ممالک پر برس پڑے
اسلام آباد میں تاجر کا قتل افسوسناک واقعہ، گینگ گرفتار کر لیا: طلال چودھری
وزیر خارجہ اسحاق ڈار ایک روزہ دورہ پر چین پہنچ گئے
اسحاق ڈار کا دورہ اہم، ایران سمیت علاقائی امور پر یکساں مؤقف رکھتے ہیں: چین
ٹرمپ آبنائے ہرمز کے بغیر بھی جنگ ختم کرنے پر آمادہ: امریکی اخبار، عرب ممالک اخراجات دیں: وائٹ ہاؤس
ثالثی پیشکش نیک نیتی پر مبنی، فیصلے فریقین نے خود کرنے ہیں: سفیر پاکستان
اسرائیلی پارلیمنٹ میں فلسطینیوں کو سزائے موت دینے کا متنازعہ قانون منظور
ایران کے اسرائیل اور امریکی کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، ویپن سپورٹ تنصیبات پر حملے





  ملتی میڈیا   
بلاول بھٹو زرداری کا خصوصی انٹرویو: “جنگ کا کوئی فائدہ نہیں، مذاکرات کا راستہ اختیار کریں”
پاکستان نیوی کے چیف نے نویں کثیر القومی بحری مشق “امن” میں شریک غیر ملکی جہازوں کا دورہ کیا۔ | آئی ایس پی آر
وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خطاب | “بریتھ پاکستان” عالمی ماحولیاتی کانفرنس 07-02-2025
آرمی چیف نے مظفرآباد کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ | آئی ایس پی آر
کشمیر ایک زخم | یومِ یکجہتی کشمیر | 5 فروری 2025 | آئی ایس پی آر